| 89415 | جائز و ناجائزامور کا بیان | بچوں وغیرہ کے نام رکھنے سے متعلق مسائل |
سوال
میری بھتیجی کا نام ہما (Huma) ہے۔بعض لوگ ہمیں کہتے ہیں کہ یہ نام موزوں نہیں ہے ، اس وجہ سےگھر والے یہ نام تبدیل کرنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس نام کے ہم مثل ( باعتبار ادائیگی اور آواز کے) کوئی صحیح المعنی نام رکھا جائے ۔ آیا ہما نام واقعی مناسب نہیں ہے؟ یا اس کا معنی درست نہیں ہے؟ شرعی نقطہ نظر سے رہنمائی فرمائیں اور صحابیات رضی اللہ عنہن کے ناموں میں سے چند نام تجویز فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ہما نام رکھنےکی گنجائش ہے۔تاہم نام تبدیل کرنےمیں کوئی پریشانی نہ ہوتو صحابیات رضی اللہ عنہن کے بابرکت ناموں پربچوں کےنام رکھنابہترہے۔دُرَّۃ اور وُدَّۃ نام بھی صحابیات رضی اللہ عنہن کے ہیں جوکہ ہماسے ملتے جلتےہیں۔
حوالہ جات
سنن أبي داود ت الأرنؤوط (7/ 303)
عن أبي الدَّرداء، قال: قال رسولُ الله -صلى الله عليه وسلم-: "إنّكم تُدعَوْنَ يومَ القيامَةِ باسمائِكُم وأسماءِ آبائكُم، فاحسِنُوا أسماءكم".
الإصابة في تمييز الصحابة (8/ 351)
’’ودّة بنت عقبة‘‘ بن رافع بن امرئ القيس بن زيد بن عبد الأشهل الأشهليّة، أم الحكم، زوج قيس بن مخرمة بن المطّلب بن عبد مناف.
قال ابن سعد: أسلمت وبايعت، وهي عمة محمود بن لبيد، وأمّها أم البنين بنت حذيفة بن ربيعة القضاعيّة، من بني سلامان.
وفیہ أیضا:(8/ 126)
’’درّة بنت أبي سفيان‘‘ صخر بن حرب بن أمية بن عبد شمس بن عبد مناف الأموية ، أخت أم حبيبة التي قالت عنها للنّبيّ صلّى اللَّه عليه وسلّم: انكح أختي بنت أبي سفيان.وردت تسميتها في بعض طريق الحديث المذكور عند أبي موسى.
المعجم الوسيط (2/ 996)
(الهماء) الْعقاب وقيل طَائِر تتَّخذ الْمُلُوك من ريشه فِي تيجانهم لعزته (فارسية)
فیروزاللغات اردو:(ص:1448)
ہما (ہُ۔مَا)[ف۔ا۔مذ] ایک مشہورخیالی پرندجس کی نسبت کہاجاتاہےکہ جس کے سر پرسےگذرجائےوہ بادشاہ ہوجاتاہے۔
فیصل حیات بن خان بہادر
دارالافتاءجامعۃ الرشید ، کراچی
25/06/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | فیصل حیات بن خان بہادر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


