| 89375 | وقف کے مسائل | وقف کے متفرّق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارےمیں کہ
ہماری بستی میں سیف اللہ نامی ایک معذور شخص ہے۔ اس کی شادی نہیں ہوئی اور نہ ہی اس کی کوئی اولاد ہے۔ اس نے اپنی جائیداد میں سے دو کنال زمین اپنے بھائی کے ساتھ تبادلہ کرکے مسجد کے لیے وقف کردی ہے۔ قانونی کارروائی مکمل ہوچکی ہے اور حدودِ اربعہ بھی متعین کر دیے گئے ہیں۔ تبادلے کی صورت میں اس نے اپنے بھائی کو دو لاکھ روپے اضافی بھی دیے، کیونکہ بھائی کی زمین نئی آبادی کے قریب تھی۔ اوراس کو دو اطراف سے راستے میسر تھے، جبکہ سیف اللہ بھائی کی زمین آبادی سے دور تھی اور اس تک راستہ بھی میسر نہیں تھا۔
سیف اللہ کے بڑے بھائی نے جھگڑا کرنا شروع کر دیا ہے کہ یہ جگہ ہمارے گھروں کے قریب ہے، اس جگہ ہم مسجد تعمیر نہیں ہونے دیں گے، آبادی سے باہر مسجد تعمیر کرو۔ آبادی سے باہر مسجد کے غیر آباد ہونے کا خدشہ موجود ہے۔
بعض ناواقف لوگوں نے کہا ہے کہ یہ مسجدِ ضرار بنے گی۔ کچھ لوگوں نے کہا ہے کہ یہاں کنجر خانہ بنے گا، نعوذباللہ من ذلک۔
پوچھنا یہ ہے کہ:
کیا سیف اللہ کی زمین مسجد کے لیے وقفِ تام ہو گئی ہے یا نہیں؟ کیا ہم اس جگہ کا تبادلہ کر سکتے ہیں یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
١۔امام ابو یوسف رحمہ اللہ تعالیٰ کے صحیح اور مفتی بہ قول کے مطابق وقف کا صرف قول ہی زمین کو مسجد کے لیے وقف کر دیتا ہے، اس کے لیے کسی مزید عمل کی شرط نہیں۔ لہٰذا مذکورہ زمین شرعاً وقفِ تام بن چکی ہے اور اب یہ اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں داخل ہو گئی ہے، جس کے بعد نہ اس کا تبادلہ جائز ہے اور نہ ہی کسی کے اعتراض یا ناراضی کی وجہ سے اس جگہ کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ سیف اللہ کے بڑے بھائی کا یہ کہنا کہ چونکہ یہ جگہ گھروں کے قریب ہے اس لیے یہاں مسجد تعمیر نہیں ہونے دیں گے، نہ صرف شرعاً باطل بلکہ شعائرِ اسلام کی مخالفت بھی ہے۔ ایسے قول پر ان کے لیے توبہ و استغفار کرنا لازم ہے، اور مسجد کی تعمیر میں رکاوٹ ڈالنے سے باز آنا ضروری ہے، ورنہ شریعت کی رو سے وہ اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہ اور گناہ گار ہوں گے۔
حوالہ جات
فتح القدير - (ج 14 / ص 63)
قال أبو يوسف ( يزول بمجرد القول ) الذي قدمنا صحة الوقف به.
الجوهرة النيرة شرح مختصر القدوري - (ج 3 / ص 439)
( وقال أبو يوسف يزول بمجرد القول ) ؛ لأنه بمنزلة الإعتاق عنده وعليه الفتوى .
تكملة حاشية رد المحتار - (ج 1 / ص 334)
قلت: المفتى به أن الملك يزول بمجرد قوله: وقفت.
الفتاوى الهندية - (ج 19 / ص 217)
ولو كان مسجد في محلة ضاق على أهله ولا يسعهم أن يزيدوا فيه فسألهم بعض الجيران أن يجعلوا ذلك المسجد له ليدخله في داره ويعطيهم مكانه عوضا ما هو خير له فيسع فيه أهل المحلة قال محمد - رحمه الله تعالى - : لا يسعهم ذلك ، كذا في الذخيرة .
وفی الھدایة مع الفتح- (ج 6 / ص 205)
واذا صح الوقف لم یجز بیعہ ولاتملیکہ.
فتح القدير - (ج 14 / ص 123)
والحاصل أن الاستبدال إما عن شرطه الاستبدال وهو مسألة الكتاب أو لا عن شرط ، فإن كان لخروج الوقف عن انتفاع الموقوف عليهم به فينبغي أن لا يختلف فيه كالصورتين المذكورتين لقاضي خان ، وإن كان لا لذلك بل اتفق أنه أمكن أن يؤخذ بثمن الوقف ما هو خير منه مع كونه منتفعا به فينبغي أن لا يجوز ؛ لأن الواجب إبقاء الوقف على ما كان عليه دون زيادة أخرى ، ولأنه لا موجب لتجويزه لأن الموجب في الأول الشرط وفي الثاني الضرورة ، ولا ضرورة في هذا إذ لا تجب الزيادة فيه بل تبقيته كما كان.
وفی اعلاء السنن- (ج 13 / ص 214)
والفرق بینھاوبین المساجدان المساجد لاتبطل بخرابھا او خراب ماحولہاواستغناء عنھا الجھة التی عینت لہ لانھا لم تجعل مساجد لاھل المحلة والقریة بل للعامة ولایشترط للمسجدیة البناء بل العرصة وحدھا مسجد کمالایخفی بخلاف سائر الاوقاف التی سلبت ثمرتھاالخ.
قال اللہ تعالی:
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ مَنَعَ مَسَاجِدَ اللَّهِ أَنْ يُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ وَسَعَىٰ فِي خَرَابِهَا ۚ أُولَٰئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ أَنْ يَدْخُلُوهَا إِلَّا خَائِفِينَ ۚ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ(البقرۃ: 114)
إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا اللَّهَ فَعَسَىٰ أُولَٰئِكَ أَنْ يَكُونُوا مِنَ الْمُهْتَدِينَ ( التوبۃ: 18)
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
26/06/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


