03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جامعہ کا راستے بند کرنا
89537جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

 ایک غزوہ سے واپسی پر شام ہوگئی تو نبی کریم ﷺ نے خیمے لگا نے کا حکم دیا، خیمے لگانے میں کچھ حضرات نےجلدی میں راستے تنگ کر دیے تو سرکار دو عالم ﷺ نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔  انتہائی معذرت کے ساتھ گزارش ہےکہ آج ہی پتہ چلا جامعہ میں کچھ پروگرام کی وجہ سے چاروں طرف کے راستے بند کر دیے گئے، ہمارے گھر جو کام والی خاتون آتی ہیں ان کو شدید مشکل ہوئی۔ محترم کیا ایسا کرنا صحیح ہے؟  جامعہ میں تو سالوں سے یہ چار روزہ پروگرام ہوتا ہے لیکن ایسا تو کبھی بھی نہیں ہوا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جامعۃ الرشید ایک دینی ادارہ ہے جو شرعی اصولوں اور پیشہ وارانہ انداز میں کام کرتا ہے۔ جامعۃ الرشید قرب و جوار کے احباب کی پڑوسی ہونے کے ناطے قدر کرتا ہے اور حتی الامکان کوشش کرتا ہے کہ انہیں جامعہ کی وجہ سے فوائد تو حاصل ہوں لیکن کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ ہو۔ نیز اہل محلہ بھی اس بات کو خوب سمجھتے ہیں کہ جامعہ کی وجہ سے پورے علاقے کو کیا کیا فوائد حاصل ہوتے ہیں، لہذا وہ بھی جامعہ کے ساتھ مختلف مواقع پر اچھا تعاون کرتے ہیں۔ اللہ تعالی انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔

اس بار 2025 کے فضلاء اجتماع کے موقع پر ملکی حالات کے پیش نظر چند اعلی سطح کے ایسے مہمانان مدعو تھے جن کے لیے حالات کے پیش نظر سخت سیکیورٹی انتظامات کرنا ناگزیر تھا۔

اس سلسلے میں سیکورٹی اداروں کے ذمہ ان اہم اعلی سطحی شخصیات کی حفاظت کا انتظام کرنا تھا جس کی وجہ سے انہوں نے اپنے سیکورٹی کے اصول و ضوابط کے تحت بہت سے ایسے اقدامات کیے جن کی آج سے پہلے ضرورت پیش نہیں آئی تھی۔ اسی کا ایک حصہ مختلف راستوں پر کنٹینر رکھ کر ان کو بند کرنا تھا، جیسا کہ شہر میں مختلف مذہبی اجتماعات و جلوسوں کے موقع پر کیا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ اہم عوامی و ریاستی عہدوں پر فائز شخصیات کی حفاظت کے پیش نظر اس طرح کے عارضی انتظامات، جیسے مخصوص راستوں یا کاروباری سرگرمیوں کی بندش کی شرعا بھی گنجائش ہوتی ہے۔

اہل محلہ میں سے وہ حضرات جو تمام سیاق کو سمجھ رہے تھے انہوں نے خوش دلی سے تعاون کیا۔ باقی ایسی صورت میں یقینا کچھ لوگوں کا حرج ہوا ہے جس سے بچنا ممکن نہ تھا، وہ حرج خود جامعہ کے اساتذہ اور عملے کو بھی پیش آیا، لیکن اسے مصلحت عامہ کی وجہ سے برداشت کرنا پڑا۔امید ہے تمام پڑوسی حالات کے پیش نظر ادارے کی مجبوری کو سمجھتے ہوئے اس تکلیف کو نظر انداز کریں گے۔

نیز یہ بات بھی ذہن میں رہےکہ یہ سیکورٹی انتظامات اور ایکروچمنٹ کا اقدام سرکاری اداروں کی کاروائی تھی ، اس میں جامعہ سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی اور نہ وہ اس کے مکلف ہیں حتی کہ جامعہ کے اساتذہ کے گھروں کی باقاعدہ تلاشی بھی لی گئی لیکن اسے برداشت کرنا ہماری بھی مجبوری تھی۔ امید ہے اہل محلہ بھی اس مجبوری کے پیش نظر آئندہ بھی تعاون کریں گے۔

حوالہ جات

صحیح البخاری:(1/404)

عن عائشۃ  ؓ تقول: کان النبیﷺ سھر فلما قدم المدینۃ قال لیت رجلا من أصحابنا صالحا یحرسنی اللیلۃ إذ سمعنا صوت سلاح فقال من ھذا فقال أنا سعد بن أبی وقاص جئت لأحرسک  فنام النبیؑ ....

قال الحافظ ابن الحجرؒ: وفی الحدیث الأخذ بالحذر و الاحتراس من العدو و أن علی الناس أن یحرسوا سلطانھم خشیۃ القتل ...

صحیح البخاری رقم الحدیث :(6229)

إیاکم و الجلوس بالطرقات فقالوا: یارسول اللہ، مالنا من مجالسنا بد نتحدث فیھا، فقال: إذ أبیتم إلا المجلس، فأعطوا الطریق حقہ قالوا: وما حق الطریق یا رسول اللہ؟ قال: غض البصر، و کف الأذی، و ردالسلام، والأمر بالمعروف، و النھی عن المنکر۔

الأشباہ و النظائر:(73)

الضرورات تبيح المحظورات، ومن ثم جاز أكل الميتة عند المخمصة، وإساغة اللقمة بالخمر، والتلفظ بكلمة الكفر للإكراه، وكذا إتلاف المال وأخذ مال الممتنع من أداء الدين بغير إذنه ودفع الصائل، ولو أدى إلى قتله .

المحیط البرھانی:(2/219)

وفي '' الأصل'' أيضاً: يكره للمسافر أن يصلي على الطريق، بل ينبغي له أن يتنحى عن الطريق؛ لأن الطريق مشغول بحق المسلمين، فهو كما لو صلى في أرض مغصوبة، فإن وجد موضعاً مباحاً يصلي في ذلك الموضع ولا يصلي على الطريق، فإن لم يجد موضعاً مباحاً ولكن وجد أراضي الناس، فإن كانت الأراضي مزروعة لا يصلي في الأراضي، ولكن على الطريق؛ لأن الضرر في الصلاة في الأراضي في هذه الصورة أكثر من الضرر في الصلاة في الطريق، وإن لم تكن الأراضي مزروعة يصلي في الأراضي، ولا يصلي في الطريق، وإن كانت الأرض للذمي، فالصلاة في الطريق أولى من الصلاة في الأرض.

زبیر احمد ولد شیرجان

دارالافتاء جامعة الرشید کراچی

27/جمادی الآخرہ 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

زبیر احمد ولد شیرجان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / مفتی محمد صاحب / شہبازعلی صاحب