03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
گھر والوں کو کہنا طلاق دیدی کا حکم
89403طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

السلام علیکم ایک بندے نے اپنی بیوی سے بہت جھگڑا کیا اور بار بار ڈرانے کی وجہ سے طلاق کی دھمکی دیتا رہا پھر بیوی کو کہا کہ ایک مہینے ایسے ہی گھر میں رہو پتہ چل جائے گا کہ کیسا لگتا ہے ،جب دماغ ٹھیک ہو جائے تو آجانا، گھر والوں کو کہنا طلاق دے دی ہے ،شوہر کا مقصد تھا کہ میرے بغیر ایسے ہی رہ کر دیکھو احساس ہو گا طلاق کے بعد کیسی زندگی ہوتی ہے ؟کیا طلاق واقع ہوگئی ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسؤلہ میں اگر شوہر کی نیت طلاق کی نہ ہو تو  دیانۃ طلاق نہیں ہو گی ،لیکن قضاء طلاق ہوجائے گی ،یعنی اگر عورت عدالت میں جائے تو قاضی طلاق کا فیصلہ کرے گا ،لیکن اگر اسےشوہر کی وضاحت پر اطمینان ہے تو وہ عدالت نہ جائے،تو دیانۃً کوئی طلاق نہیں ہوگی۔

حوالہ جات

ردالمحتار(236/3)
وفي الخانية: ولو أقر بالطلاق كاذبا أو هازلا وقع قضاء لا ديانة.

البحر الرائق :326/4)

لو أكره على أن يقر بالطلاق فأقر لا يقع كما لو أقر بالطلاق هازلا أو كاذبا كذا في الخانية من الإكراه ومراده بعدم الوقوع في المشبه به عدمه ديانة لما في فتح القدير ولو أقر بالطلاق وهو كاذب وقع في القضاء .

محمد وجیہ الدین

دارالافتاء جامعہ الرشید کراچی

24/جمادی الثانیہ1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد وجیہ الدین بن نثار احمد

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب