| 89454 | طلاق کے احکام | تحریری طلاق دینے کا بیان |
سوال
میں نے دوسری شادی کرنی چاہی لیکن دوسری عورت نے کہا کہ پہلی کو طلاق دے دیں۔ہم کمپیوٹر یعنی کمپوزنگ کرنے والے کی دوکان پر گئے اور طلاق والے اسٹامپ پیپر پر میرا نام مع ولدیت، پہلی بیوی کا نام مع ولدیت، کتنے بچے ہیں اور شادی کو کتنے سال ہوئے ہیں تمام تفصیلات لکھیں، پھر نیچے تین دفعہ اس طرح لکھا کہ میں نے فلاں (پہلی بیوی اور ان کے والد کا نام) کو طلاق دے دی اور تینوں جگہوں پر میں نے دستخط کردیے۔آیا یہ طلاق واقع ہوچکی ہے؟ جبکہ حقیقت میں میری پہلی بیوی کو طلاق دینے کی نہ نیت تھی اور نہ ہی ارادہ ،بس دوسری عورت کو مطمئن یا راضی کرنا تھا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ طلاق جس طرح زبان سے دینے سے واقع ہوجاتی ہے،اسی طرح اسٹامپ پیپر پر لکھنے سے بھی واقع ہوجاتی ہے۔
لہذا صورت مذکورہ میں تین طلاقیں ہوئی ہیں،اور شوہر رجوع نہیں کرسکتا،اور نہ ہی دوبارہ نکاح کرسکتاہے۔البتہ دوسرے شوہر کے ساتھ نکاح کرنے کے بعد اگر وہ شوہر اپنی مرضی سے طلاق دے یا اس کا انتقال ہوجائے ،اس کے بعد باہمی رضامندی سے شرعی گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے عوض نکاح کرلے تو جائز ہے۔
حوالہ جات
فی رد المحتار(455/4):
مطلب في الطلاق بالكتابة:قوله: (كتب الطلاق ) قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة، وغير مرسومة. ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا، مثل ما يكتب إلى الغائب، وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو.
وفي الهندية(473/1):
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة، و ثنتين في الأمة لم تحلّ له حتى تنكح زوجاً غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثمّ يطلقها أو يموت عنها.
و في البدائع(174/3) كتاب الطلاق:
ثم إن كتب على الوجه المرسوم ولم يعلّقه بشرط،بأن كتب: أما بعد يا فلاة فأنت طالق،وقع الطلاق عقيب كتابة لفظ الطلاق بلا فصل.
احسان اللہ گل محمد
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
29 /6/7144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | احسان ولد گل محمد | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


