03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مذاق میں طلاق کا حکم
89512طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

میری بیوی کے ساتھ موبائل پر بات ہو رہی تھی۔ اس نے مذاق میں کہا: "مجھے طلاق دے دو۔" میں نے کہا:طلاق ہی سمجھو۔ اس نے کہا: تین دے دو۔میں نے کہا: ایسا ہی سمجھو۔لیکن میری اس میں طلاق دینے کی کوئی نیت نہیں تھی، اور اس کے بعد ہم دونوں ساتھ ہی رہے۔ اب اس سوال کے بارے میں بتائیے، اس کا جواب فتوے کے ذریعے دیں اور ساتھ میں حوالہ بھی اردو ترجمہ کے ساتھ ذکر کریں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مذکورہ میں طلاق واقع نہیں ہوئی، ”طلاق ہی سمجھو“ کہنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی، آپ کا نکاح بدستور برقرار ہے۔فتاویٰ عالمگیریہ میں ہے کہ: "ولو قال: داده إنكار أو كرده إنكار" سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔"دادہ انگار" کا معنی ہے"دی ہوئی سمجھ"  چونکہ اس میں طلاق کا انشاء نہیں ہے، اس لیے اس سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔

حوالہ جات

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 380):

امرأة ‌قالت ‌لزوجها: " ‌مرا طلاق ده " فقال الزوج: " داده كيرو كرده كير " أو قال " داده باد وكرده بادان نوى " يقع ويكون رجعيا وإن لم ينو لا يقع ولو قال: داده است أو كرده است يقع نوى أو لم ينو ولا يصدق في ترك النية قضاء ولو قال: داده إنكار أو كرده إنكار لا يقع وإن نوى ولو قال لها بعدما طلبت الطلاق: داده كير وبر.

ابن امین صاحب دین

دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی

01/رجب المرجب /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ابن امین بن صاحب دین

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب