03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زبر دستی تحریری طلاق لینے کا بیان
89506طلاق کے احکامتحریری طلاق دینے کا بیان

سوال

میری بیٹی صبا (عمر تقریباً 27 سال) کے لیے رشتہ طے ہوا،منگنی اور خاندانوں کی ملاقات کے بعد نکاح کر لیا گیا، تاہم نکاح کے بعد لڑکے کی جانب سے رخصتی میں مسلسل تاخیر کی جاتی رہی۔ نکاح کے فوراً بعد لڑکی کی طبیعت شدید خراب ہو گئی، طویل علاج اور روحانی معالجے کے بعد اس کی جان و صحت کو خطرہ لاحق ہونے پر لڑکے سے طلاق  کامطالبہ کیا گیا۔کافی اصرار کے بعد لڑکے نے زبان سے طلاق کےالفاظ ادا کیے بغیر کاغذ پر یہ الفاظ لکھے:
"
میں اپنے راضی  نامے سے تین طلاقیں دیتا ہوںاور اس پر دستخط و انگوٹھا ثبت کیا، جبکہ لڑکی نے بھی دستخط کیے۔ بعد ازاں لڑکے نے یہ کہہ کر رجوع کر لیا کہ یہ طلاق زبردستی لی گئی تھی، اس لیے واقع نہیں ہوئی، اور دوبارہ نکاح کو گناہ قرار دیا۔ اصل سوال: ایسی صورت میں کیا یہ طلاق شرعاً واقع ہوئی ہےیا نہیں؟

تنقیح : لڑکی کے والد نے طلاق نہ دینے کی صورت میں تھانہ لے جانے اور مار پیٹ کروانے کی دھمکی دی تھی، اور شوہر کا کہنا ہے  کہ اسی مجلس میں انہوں نے تیزدھاری دار آلہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ: اگرآپ طلاق نہیں دیتے تو ہم آپ کی بوٹیاں کردیں گے اور اسی مجلس میں SHOکو فون بھی کردیا ۔اسی دباؤ کے تحت میں نے  صرف تحریری طلاق دی، زبان سے کچھ نہیں کہا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

طلاق کا معاملہ شرعاً انتہائی نازک اور حلال و حرام کا معاملہ ہے۔ اس میں کسی دارالافتا سے فتوی لے کر حکم اپنی خواہش کے مطابق کرنے سے کوئی شخص عند اللہ  گناہ سے بچ نہیں سکتا ،لہذا ایسے فعل سے اجتناب  کرنا لازمی ہے۔

اگر کسی نے زبان سے نہ کہا ہو صرف تحریری طلاق لکھی ہو یا دستخط کیے ہوں ، تو عام حالات میں اس سے طلاق واقع ہو جاتی ہے۔تاہم اگر تحریری طلاق کی مجلس میں  شوہر پر ایسا جبر پایا گیا جس سے شوہر کو جان جانے یا بڑے تشدد کا خطرہ واضح پیدا ہوا ہو ،تو تحریری طلاق غیر معتبر ہو جاتی ہے۔اگرطلاق کی مجلس میں جبر کی کیفیت نہ ہو ،گو پہلے  لڑائی ہو چکی ہواور تحریری طلاق بعد میں دی ہو تو طلاق واقع ہوجائے گی۔ نیز اگر لڑکے نے طلاق کے الفاظ زبان سے بھی ادا کردیے ہوں ،تو بہر حال  طلاق واقع ہو جائے گی ۔لہذا اگر مجلس میں جبر کی واضح کیفیت ہو اور شوہر نے بھی  طلاق کا قصد یا تائید نہ کی ہو تو طلاق نہ ہوگی،ورنہ طلاق درست ہو جائے گی۔

سوال میں ذکر کردہ حالات سے ظاہر ہے کہ شوہر لڑکی کو بسا نہیں رہا ایسے میں طلاق ہو یا نہ ہوبہر صورت شوہر کے لیے معاملے کو لٹکا کر رکھنا گناہ ہے ۔بہتر ہوگا کہ ایک واضح طلاق بھی دے دے تاکہ کوئی اشتباہ نہ رہے۔ اگر لڑکی والے حتمی طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ جبر کی کیفیت نہ تھی ،تو یہ طلاق واقع ہو گئی ہے۔ چونکہ  الفاظ میں تین طلاق کاذکر ہےاس لیے اس سےرجوع نہیں ہو سکے گا ،کیونکہ تین طلاق کے بعد بیوی مغلظہ ہو جاتی ہے۔اس سے دوبارہ نکاح کی فی الحال کوئی صورت  نہیں ہوتی ۔لہذا عدت گزارکر لڑکی کہیں اور نکاح کرسکتی ہے ۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية : 1/409)

الفصل الرابع في الطلاق قبل الدخول إذا طلق الرجل امرأته ثلاثا قبل الدخول بها وقعن.

(فتاوى قاضی خان : (2/35

رجل أكره بالضرب والحبس على أن يكتب طلاق امرأته فلانة بنت فلان بن فلان فكتب: امرأته فلانة بنت فلان بن فلان طالق، لا تطلق امرأته ۔۔۔۔الخ

)حاشیۃ ابن عابدین : (6/129

(وشرطه) أربعة أمور: (‌قدرة ‌المكره ‌على ‌إيقاع ‌ما ‌هدد ‌به ‌سلطانا ‌أو ‌لصا) أو نحوہ۔۔۔۔۔۔۔۔

(و)الثاني (خوف المكره) بالفتح (إيقاعه) أي إيقاع ما هدد به (في الحال) بغلبة ظنه ليصير ملجأ.

(و) الثالث: (كون الشئ المكره به متلفا نفسا أو عضوا أو موجبا عما يعدم الرضا) ۔۔۔۔و) الرابع: (كون المكره ممتنعا عما أكره عليه قبله).

حنبل اکرم

 دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

  /1رجب المرجب /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حنبل اکرم بن محمد اکرم

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب