| 89499 | ایمان وعقائد | کفریہ کلمات اور کفریہ کاموں کابیان |
سوال
ہمارے گاؤں کے مندر میں مغرب کے وقت ایک گیت گایا جاتا تھا جو اب بھی گایا جاتا ہے ، اس گیت کا ایک کفریہ جملہ یہ ہے (سیتا مہا دیوا ) ، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اب سے چھ یا سات سال پہلے جب میری عمر سولہ سترہ سال تھی کبھی کبھی اس گیت کا یہ کفریہ جملہ میں زبان سے نادانی میں کہہ دیا کرتا تھا لیکن پہلے سے ہی میرا اس کفریہ جملے پر یقین بالکل نہیں ہے بس غالبا بطور نقالی میں یہ جملہ کہہ دیا کرتا تھا، یا شاید نادانی میں ایسے ہی زبان سے کہہ دیاکرتا تھا، لیکن آج پھر یہی جملہ کان میں پڑا تو ذہن میں یہ بات آئی کے یہ جملہ تو کفریہ ہے اور میں نے چھ سال پہلے معلوم نہ ہونے کی وجہ سے کئی مرتبہ کہا ہے ، لیکن اسکے بعد سے لیکر آج تک میں نے نہ معلوم کتنی ہی مرتبہ کلمہ شہادت پر ایمان رکھتے ہوے دل سے کلمہ شہادت پڑھتا رہتا ہوں اور ایمانِ مفصل بھی پڑھتا رہتا ہوں ، تو اب میرے ایمان و نکاح کا کیا حکم ہے ؟ نیز میرا نکاح چھ مہینے پہلے ہی ہوا تھا ، اور کلمہ شہادت و ایمان مفصل میں نکاح سے پہلے بھی بہت مرتبہ پڑھ چکا ہوں اور پڑھتا رہتا ہوں ، اور مجھے دو ماہ سے وساوس بھی بہت آتے ہیں پریشان ہوں۔
تنقیح:سائل نے فون پربتایا کہ اس وقت مجھے علم نہیں تھا کہ ان کلمات کو ادا کرنےسےکفرلازم آتاہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
"سیتا مہادیو" دو الگ کلمات کا مجموعہ ہے۔ "سیتا" شری رام چندر کی بیوی کا نام ہے، جبکہ "مہادیو" کے معنی "بڑا دیوتا" کے ہیں۔ یہ کلمات ہندوں مذہب کے شعار اور ان کے معبودوں کے لیے مخصوص ہیں۔لہذا اگرآپ کواس وقت علم نہیں تھا کہ ان کلمات کو اداکرنےسے کفرلازم آتاہےتو اس کی وجہ سے آپ پرنہ کفرکاحکم عائدہوگااور نہ اس نکاح پر کوئی اثرپڑےگا جوآپ نےچھ مہینےپہلےکیاہے ۔ اس طرح کے کلمات کواداکرنےکی وجہ سےآپ کوکثرت سے استغفار و توبہ کرنی چاہیے،تاہم اس بارےمیں بےجاوسوسوں میں نہیں پڑناچاہیے ۔ آئندہ اس طرح کے کلمات نقل کرنےاور ایسےجگہوں پر جانے سے اجتناب کرناچاہیے۔
حوالہ جات
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية: (2/ 283)
ما كان في كونه كفرا اختلاف فإن قائله يؤمر بتجديد النكاح وبالتوبة والرجوع عن ذلك بطريق الاحتياط، وما كان خطأ من الألفاظ، ولا يوجب الكفر، فقائله مؤمن على حاله، ولا يؤمر بتجديد النكاح والرجوع عن ذلك كذا في المحيط.إذا كان في المسألة وجوه توجب الكفر، ووجه واحد يمنع، فعلى المفتي أن يميل إلى ذلك الوجه كذا في الخلاصة في البزازية إلا إذا صرح بإرادة توجب الكفر.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي: (4/ 224)
ثم قال في البحر والحاصل: أن من تكلم بكلمة للكفر هازلا أو لاعبا كفر عند الكل ولا اعتبار باعتقاده كما صرح به في الخانية ومن تكلم بها مخطئا أو مكرها لا يكفر عند الكل، ومن تكلم بها عامدا عالما كفر عند الكل ومن تكلم بها اختيارا جاهلا بأنها كفر ففيه اختلاف. اهـ.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري:(5/ 134)
والحاصل أن من تكلم بكلمة الكفر هازلا أو لاعبا كفر عند الكل ولا اعتبار باعتقاده كما صرح به قاضي خان في فتاويه ومن تكلم بها مخطئا أو مكرها لا يكفر عند الكل ومن تكلم بها عالما عامدا كفر عند الكل ومن تكلم بها اختيارا جاهلا بأنها كفر ففيه اختلاف والذي تحرر أنه لا يفتى بتكفير مسلم أمكن حمل كلامه على محمل حسن أو كان في كفره اختلاف ولو رواية ضعيفة فعلى هذا فأكثر ألفاظ التكفير المذكورة لا يفتى بالتكفير بها ولقد ألزمت نفسي أن لا أفتي بشيء منها.
رشيدخان
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
02/رجب المرجب /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | رشید خان بن جلات خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


