03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
خلافتِ راشدہ، اس کی مدت، فضیلتِ خلفاء اور سیاسی و تاریخی مباحث
89518تاریخ،جہاد اور مناقب کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام و علماءِ عزام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ۱- خلافتِ راشدہ اور خلافتِ راشدہ موعودہ ایک ہی اصطلاح ہے یا پھر دونوں الگ الگ ہیں، اور یہ کتنے عرصہ پر مشتمل ہے؟ ۲- خلافتِ راشدہ کی ترتیبِ خلافت بمع فضیلت کیا ہے۔؟ ۳- کیا خلافتِ راشدہ میں سیدنا امام حسن اور حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہما بھی شامل ہیں؟ ٤-کیا یہ درست ہےکہ سیدنا حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کے زمانہِ خلافت میں کوئی علاقہ فتح نہیں ہوا تھا؟ ۵-کیا سیدنا حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کی سیاسی بصیرت اس درجہ کی نہیں تھی جس درجہ کی سیاسی بصیرت حضرت امیرمعاویہ رضہ کو حاصل تھی۔ اور اس بنیاد پہ یہ کہا جا سکتا ہےکہ ” مقام و مرتبہ، ولایت باسعادت، فضائل و مناقب میں تو سیدنا حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم تو اعلی ہیں لیکن سیاسی سمجھ بوجھ اور سیاسی بصیرت یہ سیدنا حضرت علی المرتضیٰ کے مقابلے میں حضرت امیرمعاویہ رضہ کو زیادہ ہے؟ درخواست ہےکہ جواب قرآن و حدیث کی روشنی میں میں دلائل سے دیجئے گا۔ جزاک اللہ خیرا فی الدارین۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

خلافتِ موعودہ بہا اس خلافت کو کہا جاتا ہے جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے آیتِ استخلاف (سورۂ نور:۵۵  اور سورۂ حج: ۴۱)میں فرمایا ہے۔ ان آیاتِ کریمہ کی تفسیر میں شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے بیان فرمایا ہے کہ دونوں آیتوں کے ملانے سے معلوم ہوا کہ خلافت اُس جماعت میں ہوگی جس میں دو صفتیں  پائی جائیں  ،ایک :مہاجرین اولین میں سے ہو اوردوسرا : نزول آیۃ استخلاف کا زمانہ بھی پایا    ہو  ۔ اس سے صاف نتیجہ یہ نکلا کہ یہ حضرات خلفائے راشدین ہیں   ، اور اسی اعتبار سے خلافتِ راشدہ اور خلافتِ موعودہ بہا کا مصداق ایک ہی قرار پاتا ہے۔ البتہ بعض مفسرین کے نزدیک  آیات استخلاف عام ہے ،جو خلافت راشدہ کے ساتھ ساتھ آخری زمانہ کی خلافت امام مہدی کی طرف بھی اشارہ ہے۔

         خلافت راشدہ کی مدت ،ترتیب اور وجہ فضیلت یہ ہے کہ  رسول اللہﷺ نے فرمایا:' میری امت میں تیس سال تک خلافت رہے گی ، پھراس کے بعدملوکیت آجائے گی 'چنانچہ  رسول اللہ صلی اللہ  علیہ والہ وسلم  کے وفات کے بعد  جميع صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین  نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ  کو بطور خلیفہ انتخاب  کیا، اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ  نے وصال سے قبل حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو بلا کر بطور وصیت  اپنے ولی عہد  کا نام لکھوا دیا، آپ کے وصال کے بعد تمام صحابہ رضی اللہ عنہم  سے دریافت  کیا گیا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے  جس شخصیت کے بارے میں خلیفہ مقرر کرنے کی وصیت کی ہے، اس سے سب متفق ہیں؟ جس پر سب نے اتفاق کیا، یوں حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ثانی مقرر ہوئے،  حضرت عمر رضی اللہ عنہ  کی شہادت کے بعد خلیفہ ثالث  کے انتخاب کی ذمہ داری چھ کبار صحابہ (  حضرت عثمان ، حضرت علی،  حضرت عبد الرحمن بن عوف،  حضرت طلحہ، حضرت زبیر،  اور حضرت سعد بن ابی وقاص  رضی اللہ  عنہم ) کے سپرد  ہوئی، ان چھ حضرات نے خلیفہ ثالث  کے انتخاب کا اختیار حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ  کو  دے دیا، یوں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ ثالث مقرر ہوئے،  حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت  کے بعد  کبار صحابہ  انصار و مہاجرین  رضی اللہ عنہم نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ہاتھ پر بیعت فرمائے، یوں حضرت علی رضی اللہ عنہ  خلیفہ  رابع مقرر ہوئے۔

احادیث کی روشنی میں خلافتِ حضرت امام حسنؓ خلافتِ راشدہ میں شامل ہے، جبکہ حضرت امیر معاویہؓ کی حکومت خلافتِ راشدہ میں شامل نہیں، بلکہ وہ اہلِ سنت کے نزدیک اسلام کے پہلے بادشاہ ہیں۔ اس کی دلیل وہ صحیح حدیث ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”  الخلافة بعدي ثلاثون عاماً      “       میرے بعد خلافتِ نبوت تیس سال رہے گی۔"چنانچہ تاریخی طور پر ان تیس سالوں کی ترتیب یوں بنتی ہے:حضرت ابو بکر صدیقؓ  دو سال چار ماہ۔ حضرت عمر فاروق دس سال چھ ماہ۔ حضرت عثمان غنیؓ بارہ سال سے کچھ کم۔حضرت علی المرتضیٰؓ  چار سال  نو ماہ۔حضرت امام حسنؓ تقریباً پانچ ماہ ۔یوں خلفاءِ اربعہ کی مجموعی خلافت تقریباً انتیس سال سات ماہ بنتی ہے، اور امام حسنؓ کی پانچ ماہ خلافت کے ساتھ بالکل تیس سال پورے ہو جاتے ہیں، جو کہ حدیثِ نبویؐ کا مصداق ہے۔( خلافت راشدہ ۔مولانا محمد ادریس کاندھلوی:۲۰۷)

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں خارجی فتوحات کا سلسلہ بظاہر رُک گیا تھا، مگر یہ رک جانا ہرگز حضرت علیؓ کی اہلیت، شجاعت یا سیاسی بصیرت کی کمی کی وجہ سے نہیں تھا ،معاذ اللہ!  بلکہ حضرت علیؓ کا شمار اہلِ فضل، اہلِ شجاعت اور اعلیٰ درجے کی قیادت رکھنے والے صحابہ میں ہوتا ہے۔ اہلِ سنت والجماعہ کے نزدیک اس دور میں فتوحات کا رُک جانے کا اصل سبب باطنی انتشار اور داخلی خانہ جنگیوں کا نتیجہ تھا، جن میں جنگِ جمل ،جنگِ صفّین ،خروجِ خوار  ج جیسے بڑے فتنے پیش آئے۔لشکروں اور سپہ سالاروں کی قوت کا بڑا حصہ انہی داخلی مسائل کے حل میں صرف ہونا پڑا، اس لیے بیرونی محاذوں پر پیش قدمی ممکن نہ رہی۔اور اس پر حضورﷺ کی پیشن گوئی بھی ملتی ہے کہ حضور ﷺجس طرح حضرت عثمان ؓ کے متعلق ابتلاءاور فتنہ کا خبر دی ۔ اسی طرح حضرت علی ؓکے متعلق خبر دی کہ امت حضرت علی ؓپر متفق نہ ہوگی،اور اس سے اپنے آزردگی ظاہر فرما دی۔(خلافت راشدہ؛مولانا یوسف بنوری ؒ:۱۵۸۔ امیر المومنین سیدنا علی ؓ؛ مولانا عبدالشکور لکھنوی:۵۹۷۔ خلافت راشدہ ۔مولانا محمد ادریس کاندھلوی:۱۴۸)

چونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا دورِ خلافت خلافتِ راشدہ میں شامل ہے اور آپ خلفائے اربعہ میں سے ہیں، اس لیے مجموعی فضیلت کے اعتبار سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر فوقیت حاصل ہے۔ البتہ سیاست، تدبیرِ مملکت اور انتظامی حکمتِ عملی کے باب میں کسی ایک کی صریح فضیلت پر نہ تو کوئی قطعی نص موجود ہے اور نہ ہی اہلِ علم نے اس بارے میں کوئی حتمی فیصلہ بیان کیا ہے۔ اسی لیے احتیاط اور ادب کا تقاضا یہ ہے کہ اس باب میں توقف کیا جائے، اور دونوں جلیل القدر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں اعتدال، حسنِ ظن اور ادب کے دامن کو مضبوطی سے تھامے رکھا جائے۔تاہم اگر فتوحات کو دیکھتے ہوئے کوئی صحیح العقیدہ اور محقق ایسا کہہ دے تو اسے فضیلت جزئیہ پر محمول کیا جا سکتا ہے،اس موقف کو گمراہی قرار دینا درست نہ ہوگا۔

حوالہ جات

سورۃ النور: ۵۵

وعد الله الذين آمنوا منكم وعملوا الصالحات ليستخلفنهم في الأرض كما استخلف الذين من قبلهم وليمكنن لهم دينهم الذي ارتضى لهم وليبدلنهم من بعد خوفهم أمنا يعبدونني لا يشركون بي شيئا ومن كفر بعد ذلك فأولئك هم الفاسقونۗ
  سورة الحج: ۴۱

الذين إن مكناهم في الأرض أقاموا الصلاة وآتوا الزكاة وأمروا بالمعروف ونهوا عن المنكر ولله عاقبة الأمورۗ

تفسير النسفي :۳/۱۵۴ 

(ليستخلفنهم في الأرض ) قيل أرض الكفار وقيل أرض المدينة والصحيح أنه عام لقوله عليه الصلاة والسلام ليدخلن هذا الدين علي ما دخل عليه الليل .  

 سنن الترمذي:۴/۵۰۳

حدثنا أحمد بن منيع قال: حدثنا سريج بن النعمان قال: حدثنا حشرج بن نباتة، عن سعيد بن جمهان، قال: حدثني سفينة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الخلافة في أمتي ‌ثلاثون سنة، ثم ملك بعد ذلك۔

ازالۃ الخفاء ، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ:۶۸،۶۹

پس دونوں آیتوں کے ملانے سے معلوم ہوا کہ خلافت اُس جماعت میں ہوگی جس میں دو نوں صفتیں  پائی جائیں  یعنی مہاجین

اولین میں سے بھی ہو اور  نزول آیۃ استخلاف کا زمانہ بھی پائے  ہو  ۔۔۔۔۔۔ جب یہ بیان ہو چکا تو اب ہم اصل مقصود کی طرف متوجہ ہوتے ہیں یہ دونوں آیتیں جو در حقیقت ایک مصداق اور عبارت میں مختلف ہیں ،خلفا کی خلافت پر دلالت کرتی ہیں کیونکہ ان میں خدا  تعالی  کا وعدہ مذکور ہے اور اس کا وعدہ سچا ہے اور یقینا  خارج میں ہونے والاہے پس یہ تویقینی ہے کہ ستخلاف اور تمکین فی الارض  مہا جرین اولین  اور حاضرین نزول آیت کا واقع ہوا۔ اب اگر یہی استخلاف وتمکین ان دونوں آیتوں کا موعود نہ ہو اور یہی حضرات  موعودہ خلفاء نہ  ہوں تو  نتیجہ یہ ہوگاکہ خداکا وعدہ پورا نہ ہوا ،(بلند ہے وہ ذات پاک ان تمام نقائص سے بہت بلند ) یہ نتیجہ اس لئے لازم آئے گا کہ صحابہ میں سے کوئی متنفس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے سو برس بعد زندہ نہیں رہاہے چہ جائے کہ مہاجرین اولین  اور نزول آیت استخلاف کے حاضرین ۔ لہذا اگر اس زمانہ میں استخلاف  موعود اور  تمکین موعود کا و جود نہ ہو تو اب قیامت تک نہیں ہو سکتا اور اُس زمانہ میں اُن حضرات کے سوا اور کسی کو تمکین نہیں ملی۔ اور استخلاف عطا نہیں ہوا۔

شرح الفقہ الاکبر لملّا علی القاری ،المفاضلة بين الصحابة :۶۸

وأفضل الناس بعد النبيين عليهم الصلاة والسلام أبو بكر الصديق ثم عمر بن الخطاب الفاروق ثم عثمان بن عفان ذو النورين ثم علي بن أبي طالب المرتضى رضوان الله عليهم أجمعين

وخلافة النبوة ثلاثون سنة منها خلافة الصدیق سنتان وثلاثة اشهر وخلافة عمر عشر سنین ونصف وخلافة عثمان اثنتا عشرة سنة وخلافة علی اربع سنین وتسعة اشهر وخلافة ابنه ستة اشهر واول ملوك المسلمین معاویة وهو افضلهم لکنه انما صار اماما حقا لما فوض الیه الحسن بن علی الخلافة فان الحسن بایعه اهل العراق بعد موت ابیه ثم بعد ستة اشهر فوض الامر الی معاویة والقصة مشهورة وفی الکتب المبسوط مستورۃ".

شرح العقائد النسفية:۱۵۰

"وخلافتهم أي نيابتهم عن الرسول في إقامة الدين، بحيث يجب على كافة الأمم الاتباع، على هذا الترتيب أيضا، يعني أن الخلافة بعد رسول الله عليه السلام لأبي بكر، ثم لعمر، ثم لعثمان، ثم لعلي، وذلك لأن الصحابة قد اجتمعوا يوم توفي رسول عليه السلام في سقيفة بني ساعدة، واستقر رأيهم بعد المشاورة والمنازعة على خلافة أبي بكر رضي الله عنه، فاجمعوا على ذلك وبايعه علي رؤس الأشهاد بعد توقف كان منه، ولو لم تكن الخلافة حقا له لما اتفق عليه الصحابة، و لنازعه علي كما نازع معاوية، ثم إن أبا بكر رضي الله عنه ولا احتج عليهم لو كان في حقه نص، كما زعمت الشيعة، و كيف يتصور في حق أصحاب رسول الله عليه السلام الإتفاق علي الباطل، و ترك العمل بالنص الوارد، ثم إن أبا بكر لما يئس من حياته، دعا عثمان، و أملى عليه كتاب عهده لعمر رضي الله عنه فلما كتب ختم الصحيفة و اخرجها الي الناس، وأمرهم أن يبايعوا لمن في الصحيفة، فبايعوا حتي مرت بعلي فقال: بايعنا لمن فيها و إن كان عمر، و بالجملة وقع الإتفاق علي خلافته، ثم استثهد عمر، وترك الخلافة شورى بين ستة: عثمان، وعلي، وعبد الرحمن بن عوف، وطلحة، وزبير، وسعد ابن أبي وقاص رضي الله عنهم، ثم فوض الأمر خمستهم إلى عبد الرحمن بن عوف، ورضوا بحكمه، فاختار عثمان، وبايعه بمحضر من الصحابة، فبايعوه وانقادوا لأوامره و صلوا معه الجمع و الأعياد، فكان اجماعا، ثم استثهد وترك الأمر مهملا، فأجمع كبار المهاجرين و الأنصار على علي رضي الله عنه، والتمسوا منه قبول الخلافة وبايعوه، لما كان أفضل أهل عصره وأولاهم بالخلافة۔

عبداللہ المسعود

دارالافتا ء،جامعۃالرشید کراچی

۲⁄رجب ۱۴۴۷ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالله المسعود بن رفيق الاسلام

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب