03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دل میں وسوسےآنےسےطلاق کا حکم
89529طلاق کے احکاممدہوشی اور جبر کی حالت میں طلاق دینے کا حکم

سوال

2017سے دل دماغ میں گندے کفریہ خیالات وساوس آنا شروع ہوۓ جب میں میٹرک کا سٹوڈنٹ تھا اچانک خیالات آۓ میں اس وقت تبلیغی جماعت کے ساتھ وقت لگاتا تھا دن رات دین کی سوچ رہتی تھی کہ سب لوگ دین پر چلنے والے بن جائیں اور تبلیغ کے ساتھ وقت لگائیں یہ دنیا عارضی ہے آخرت اور جنت سب کچھ ہے لیکن ان گندے خیالات نے مجھے بہت پریشان کیا اور شدید قسم کی انزائیٹی میں مبتلا کردیا لیکن میں نے کسی کو نہیں بتایا بس اللہ جی سے فریاد کرتا اور روتا رہتا ڈاکٹرز کے پاس جاتا وہ کہتے ڈپریشن ہے آپ کیا سوچتے ہیں ؟کیا پریشانی ہے ؟میں سچ نہیں  بتاتا کیوں کہ مجھے ڈر لگتا تھا یہ بات بتانے میں بہت سال پریشانی میں گزارے دنیا سے بیزار آگیا خودکشی کا بھی سوچتالیکن پھر ڈر لگتاتھا حرام موت ہے عذاب ہوگا آخر کار زیادہ ڈپریشن ہونے لگی میں سوچتا کافر ہوگیا اور روتا رہتا اس حالت میں مجبور ہوکر گھر والوں کو بتایا تو گھر والوں نے ماہر نفسیات کو چیک کروایا ڈاکٹر نے کہا یہ بیماری ہےocd ان خیالات کے آنے سے کچھ نہیں ہوتا کچھ تکنیک بتلائی اور دوائی دی لیکن افاقہ نہ ہوا پھر علماء سے رابطہ کیا ساری پریشانی بیان کی علماء نے تسلی دی بار بار دی بس پھر انزائیٹی سے نکل گیا لیکن خیالات نے پیچھا نہیں چھوڑا اس دوران میں نے بی ایس اسلامیات کی ڈگری حاصل کی جب میں نے طلاق کے مسائل کو پڑھا سنا تو اس وقت سے طلاق کے وساوس اور وہم میں مبتلا ہوگیا جیسا کہ مرد اپنی زبان سے بیوی کو طلاق بول دے طلاق ہو جاتی ہے کنائیہ الفاظ کہے تب بھی ،ظہار کرے تب بھی ،حرمت مصاہرت ہوجاۓ تب بھی اس طرح کے وساوس آتے چلتے رہتے تھے کبھی یہ وسوسے کہ زبان سے یہ الفاظ بو ل دئیے تو بیوی حرام ہوجائے گی وغیرہ وغیرہ میری شادی کی تاریخ قریب آئی تو مجھے طلاق کے وساوس نے زدکوپ کرلیا اور شدید انزائیٹی میں مبتلا کردیا میرے امی ابو بھی پریشان ہوگے لڑکی والے پریشان ہوگے میں نے صاف صاف اپنی والدہ کو بتایا مجھے طلاق کہ وسوسے آتے ہیں کہ میں زبان سے طلاق بول دوں گا طلاق ہوجاۓ گی میری وجہ سے کسی کی زندگی برباد ہوگی اس سوچ نے میرا جینا حرام کردیا گھر والے شہر کے بڑے قابل ماہر نفسیات کےپاس لے گے داکٹرز نے ساری ڈیٹیل لی اور کہا آپ کو او سی ڈی کی بیماری ہے یہ بیماری کی سوچیں اس سے کچھ نہیں ہوتا نہ طلاق ہوتی ہے نہ کفر ہوتا ہے زبان سے بول دینے سے بھی اور آپ نے شادی کی سٹریس لی ہے کچھ نہیں ہوتا پھر میں نےعلماء سے رابط کیا علماء نے کہا حد درجے کا وہم کا مریض ہو تو وہ عنداللہ معذور ہے آن لائن فتاوی بھی بار بار پڑھ چکا ہوں لیکن دل مطمئن نہیں رہتا دن رات موبائل میں طلاق کے فتاوی پڑھتا رہتا ہوں طلاق وساوس کے بارے میں لیکن کوئی دلی تسلی نہیں ہوتی دو مہینے ہونے والے ہیں نکاح کیا ہے لیکن پریشان رہتا ہوں طلاق کے حوالے سے کسی وقت میری زبان سے طلاق ظہار قسم وغیرہ کے الفاظ نکل نہ جائیں اگر نکل گئےتو میں کیا کروں گا کوئی سمجھ نہیں آتی بیوی بھی بولتی ہے دن رات موبائل میں او سی ڈی کے بارے سرچ کرتے رہتے ہو میں سچی بات نہیں بتاتا اسے مفتی صاحب سکون نہیں ہے میں اپنے آپکو بہت برا آدمی سمجھتا ہوں ہرو قت سوچتا رہتا ہوں طلاق کے حوالے سے میرا ارداہ موت تک طلاق کا نہیں ہے میری بیوی بھی عالمہ کا کورس کر رہی ہے لیکن پریشانی اس بات کی میری زبان طلاق ظہار وغیرہ کے الفاظ نکل جائیں گے تو کیسے فرق کروں گا وسوسہ کی سوچ ہے یا اپنی؟ مجھے یہ فکر لگی ہؤئی ہے ساتھ میں پوری زندگی ان وساوس میں کیسے گزاروں گا بہت تکلیف والی بیماری ہے ایمان و نکاح خطرے میں ہے بس دل ہی نہیں لگتا توبہ بھی کرتا ہوں لیکن ان سے جان نہیں چھوٹتی میں سوچتا کہیں طلاق کے الفاظ بول حرام میں زندگی نہ گزارتا رہوں مفتی صاحب میری مکمل رہنمائی فرمائی جاۓ بہت تنگ زندگی گزار رہا ہوں کوئی رہنمائی کرتا نہ تسلی سے جواب دیتا نفسیاتی ڈاکٹرز پیسے لیتے ہیں لیکن کوئی مکمل تسلی نہیں دے سکتے مفتی صاحب میں اس نتیجے پہ پہنچا ہوں ایسے زہنی معذور شخص سے کلی طور پر طلاق کا اختیار شرعی عدالت قاضی یا نکاح کے گواہان یا دولہا کے کسی وکیل کو سونپ دینے چائے تاکہ ایسا مرد ایسی وساوس کی گندی بیماری سے بچ جاۓ دین والی زندگی گزارے کیوں کہ جب اس طلاق کا اختیار ہی ختم ہے اسے وساوس کیا تنگ کریں گے مفتی صاحب بہت ازیت والی بیماری ایسا شخص بیوی کے نان نفقہ کا ذمہ دار ہوگا مکمل اگر نہیں ہوگا تو جس ولی یا قاضی کو حق حا صل وہ نکاح ختم کردے میں سب کچھ لکھ کر دوں گا میرے والدین بھی آمادہ ہوں گے۔ علمائے کر ام کو ایسے مریضوں کی طلاق کےلئیے قرآن وسنت کی روشنی میں یا قیاس و اجماع کے زریعے یالوگوں میں وساوس کی بیماری کو دیکھ کر حل نکالنا چائے کیوں علمائے کرام دین کے وارث ہیں جس سے وہ امت کی رہنمائی کر سکتے جیساکی نکاح نامہ میں تفویض طلاق کے احکامات بیان ہوۓ ہیں اسی طرح وساوس کے مریضوں کی طلاق کے بارے میں مرد اپنی بیماری کی وجہ سے طلاق سے مکمل دستبرداری کسی ولی کو دینا چاہتا ہے اور زہنی سکون حاصل کرنا چاہتا ہے ایسا شخص ایک زندہ لاش ہوتی ہے سوچوں میں گم سم سا رہتا ہے مکمل زندگی سے بیزار ہوتا ہے مفتی طلاق کے وساوس نے مجھے بہت تنگ کیا ہوا خدارا دین میں آسانی ہے میرے جیسے مریضوں کے لئیے طلاق کا مکمل اختیار کسی دوسرے کے سپرد ہونا چائے ہماری رہنمائی کریں اور ہمارے رشتے کو ٹوٹنے سے بچائیں اور ہماری مدد کریں۔

خلاصہ:اس سوال میں چندباتوں کی وضاحت مقصود ہے:

1- اگر وہم و وسوسہ (OCD) میں مبتلا مریض کی زبان سے طلاق کے الفاظ نکل جائیں تو کیا اس پر شرعاً طلاق واقع ہو جائے گی؟

2- اگر ایسے مریض کی زبان سے طلاق، ظہار یا اس جیسے دیگر الفاظ صادر ہو جائیں تو وہ کس طرح فرق کرے گا کہ یہ محض وسوسے اور غیر اختیاری خیال کے تحت تھا یا حقیقتاً تھا؟

3- کیا ایسا ذہنی بیماری رکھنے والا شخص شرعاً اپنے اوپر سے طلاق کا اختیار بالکلیہ ختم کر کے قاضیِ شرعی، نکاح کے گواہان یا اپنے کسی وکیل کو منتقل کر سکتا ہے؟ اور کیا ایسی صورت میں بعد ازاں خود موکل کے قول کا اعتبار باقی نہیں رہے گا؟

4- کیا ایسا مریض اپنی بیوی کے نان و نفقہ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہوگا ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

طلاق دینے والاشخص اگر  اس  حد تک اپنے   ہوش و حواس میں نہ ہو کہ اُسےکوئی بات  سمجھ نہ آرہی ہواور صحیح و غلط میں تمییز نہ کر سکتا ہو تو ایسی حالت میں دی گئی طلاق واقع نہیں ہوتی۔البتہ اگر   طلاق دیتے وقت  غصہ کی حالت  ہو ، یا کسی نفسیاتی کیفیت سے دوچار ہو ،لیکن بات کو سمجھنے کی  صلاحیت رکھتاہو تو ایسی حالت میں اگر نیت موجود ہویا بیوی کی طرف نسبت ہو تو طلاق واقع ہوجاتی ہے  ۔

1- سوال میں ذکرکردہ تفصیل کےمطابق مذکورہ شخص (OCD) کا مریض ہے۔ ایسے مریض عموماً اپنے ہوش و حواس میں ہوتے ہیں اور جو کچھ کہتے ہیں اسے سمجھتے بھی ہیں، لہٰذا اگر اس کی زبان سے طلاق کے الفاظ صادر ہو جائیں اور ان میں بیوی کی طرف صراحۃًیادلالۃً نسبت موجود ہو تو طلاق واقع ہو جائے گی۔ البتہ محض دل میں کفریہ یا طلاق سے متعلق خیالات آنے سے نہ کفر لازم آتا ہے اور نہ ہی طلاق واقع ہوتی ہے۔ تاہم اگر کوئی شخص اس حد تک شدید وہمی ہو جائے کہ اسے کسی بات کی سمجھ نہ رہے اور وہ صحیح و غلط میں تمیز کرنے کے قابل نہ ہو، تو ایسا شخص عنداللہ معذور ہوگا۔

2- جب تک طلاق کے الفاظ زبان پر نہ لائے جائیں اور بیوی کی نیت یا اس کی طرف نسبت موجود نہ ہو، اس وقت تک یہ محض خیالات شمار ہوں گے، جن سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔

3- اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ شریعت نے شوہر کو یہ اجازت دی ہے کہ وہ طلاق دینے کے اختیار میں کسی اور کو اپنا وکیل بنائے یا یہ اختیار کسی کو تفویض کرے، لیکن اگر شوہر قاضی یا کسی ولی کو طلاق کا وکیل بنائے یا اختیارِ طلاق اس کو تفویض کرے تو اس کے باوجود شوہر کے پاس طلاق کا اختیار باقی رہتا ہے، یہ اختیار اس سے ختم نہیں ہوتا،لہذا اگریہ شخص کسی کو طلاق کا وکیل بنائے اور اس کےبعدطلاق کی نیت سے طلاق کے الفاظ منہ سےاداکرے توطلاق واقع ہوجائےگی۔

طلاق دینے والاشخص اگر  اس  حد تک اپنے   ہوش و حواس میں نہ ہو کہ اُسےکوئی بات  سمجھ نہ آرہی ہواور صحیح و غلط میں تمییز نہ کر سکتا ہو تو ایسی حالت میں دی گئی طلاق واقع نہیں ہوتی۔البتہ اگر   طلاق دیتے وقت  غصہ کی حالت  ہو ، یا کسی نفسیاتی کیفیت سے دوچار ہو ،لیکن بات کو سمجھنے کی  صلاحیت رکھتاہو تو ایسی حالت میں اگر نیت موجود ہویا بیوی کی طرف نسبت ہو تو طلاق واقع ہوجاتی ہے  ۔

1- سوال میں ذکرکردہ تفصیل کےمطابق مذکورہ شخص (OCD) کا مریض ہے۔ ایسے مریض عموماً اپنے ہوش و حواس میں ہوتے ہیں اور جو کچھ کہتے ہیں اسے سمجھتے بھی ہیں، لہٰذا اگر اس کی زبان سے طلاق کے الفاظ صادر ہو جائیں اور ان میں بیوی کی طرف صراحۃًیادلالۃً نسبت موجود ہو تو طلاق واقع ہو جائے گی۔ البتہ محض دل میں کفریہ یا طلاق سے متعلق خیالات آنے سے نہ کفر لازم آتا ہے اور نہ ہی طلاق واقع ہوتی ہے۔ تاہم اگر کوئی شخص اس حد تک شدید وہمی ہو جائے کہ اسے کسی بات کی سمجھ نہ رہے اور وہ صحیح و غلط میں تمیز کرنے کے قابل نہ ہو، تو ایسا شخص عنداللہ معذور ہوگا۔

2- جب تک طلاق کے الفاظ زبان پر نہ لائے جائیں اور بیوی کی نیت یا اس کی طرف نسبت موجود نہ ہو، اس وقت تک یہ محض خیالات شمار ہوں گے، جن سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔

3- اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ شریعت نے شوہر کو یہ اجازت دی ہے کہ وہ طلاق دینے کے اختیار میں کسی اور کو اپنا وکیل بنائے یا یہ اختیار کسی کو تفویض کرے، لیکن اگر شوہر قاضی یا کسی ولی کو طلاق کا وکیل بنائے یا اختیارِ طلاق اس کو تفویض کرے تو اس کے باوجود شوہر کے پاس طلاق کا اختیار باقی رہتا ہے، یہ اختیار اس سے ختم نہیں ہوتا،لہذا اگریہ شخص کسی کو طلاق کا وکیل بنائے اور اس کےبعدطلاق کی نیت سے طلاق کے الفاظ منہ سےاداکرے توطلاق واقع ہوجائےگی۔

4- اگر شوہر صاحبِ استطاعت ہو تو ہر حال میں بیوی کا نان و نفقہ اپنی استطاعت کے مطابق ادا کرنا اس پر واجب ہے۔ اور اگر شوہر مجنون یا پاگل ہو تو اس کے اولیاء اس کے مال میں سے بیوی کونفقہ دیں گے۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 244):

مطلب في طلاق المدهوش ... قلت: وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله.

الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون فهذا محل النظر، والأدلة على عدم نفوذ أقواله. اهـ. ملخصا من شرح الغاية الحنبلية، لكن أشار في الغاية إلى مخالفته في الثالث حيث قال: ويقع الطلاق من غضب خلافا لابن القيم اهـ وهذا الموافق عندنا لما مر في المدهوش.

الاختيار لتعليل المختار (4/ 149):

ومن يجن ويفيق ففي حال جنونه له أحكام المجانين، وفي حال إفاقته أحكام العقلاء.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي: (3/ 230)

(قوله ‌وركنه ‌لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية فخرج الفسوخ على ما مر، وأراد اللفظ ولو حكما ليدخل الكتابة المستبينة وإشارة الأخرس والإشارة إلى العدد بالأصابع في قوله أنت طالق هكذا كما سيأتي.

وبه ظهر أن من تشاجر مع زوجته فأعطاها ثلاثة أحجار ينوي الطلاق ولم يذكر لفظا لا صريحا ولا كناية لا يقع عليه كما أفتى به الخير الرملي وغيره.       

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (5/ 51):

وقال الليث: ‌حديث ‌النفس وإنما قيل موسوس؛ لأنه يحدث بما في ضميره وعن أبي الليث لا يجوز طلاق الموسوس يعني المغلوب في عقله عن الحاكم هو المصاب في عقله إذا تكلم تكلم بغير نظام.

  البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري: (3/ 335)

لما فرغ من بيان ما يوقعه الزوج بنفسه صريحا وكناية شرع فيما يوقعه غيره بإذنه وهو ثلاثة أنواع تفويض وتوكيل ورسالة، والتفويض إليها يكون بلفظ التخيير، والأمر باليد، والمشيئة….‌ولأنه ‌تمليك ‌الفعل منها لكونها عاملة لنفسها وهو يقتصر عليه وأورد على أنه تمليك منها أنه كيف يعتبر تمليكا مع بقاء ملكه، والشيء الواحد يستحيل أن يكون كله مملوكا لشخصين، وأجاب في الكافي بأنه تمليك الإيقاع لا تمليك العين فقبل الإيقاع بقي ملكه اهـ.

الدرالمختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار: (ص257)

باب النفقة ‌هي ‌لغة: ‌ما ‌ينفقه الانسان على عياله.وشرعا، (هي الطعام والكسوة والسكنى) وعرفا: هي الطعام (ونفقة الغير تجب على الغير بأسباب ثلاثة: زوجية، وقرابة، وملك) بدأ بالاول لمناسبة ما مر أو لانها أصل الولد (فتجب للزوجة) بنكاح صحيح،فساده أو بطلاقه رجع بما أخذته من النفقة.بحر (على زوجها) لانها جزاء الاحتباس، وكل محبوس لمنفعة غيره يلزمه نفقته كمفت وقاض ووصي.     

رشیدخان

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

03/رجب المرجب  /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

رشید خان بن جلات خان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب