| 89497 | وقف کے مسائل | وقف کے متفرّق مسائل |
سوال
وقف کی گئی زمین کو واپس لیکر اپنے تصرف میں لانے کاحکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک وکیل صاحب نے ایک مولوی صاحب کو زمین مدرسہ کے لیے دی اور قبضہ بھی دے دیا اور کاغذات بھی مولوی صاحب کوانتقال کی تصدیق کےغرض سے دئے حالانکہ یہ زمین دیانتاً اس کے بھائی کی ملکیت تھی اور اس مولوی صاحب نے اس زمین پر باقاعدہ ٹیکس بھی ادا کر دیا ۔ اب وکیل اصلی اور مولوی صاحب کے درمیان بعض امور پر اختلاف پیدا ہوا ہے جس کی بناء پر یہاں ایک دوسرے کو برداشت کرنا مشکل ہو گیا ہے ۔ وکیل صاحب کا موقف یہ ہے کہ زمین وقف شدہ ہے میں مانتا ہوں ،مگر اصل واقف میں ہوں اور جنہوں نے انتقال دی ہے وہ رحلت فرما گئے ۔ مولوی صاحب کا موقف یہ ہے کہ یہ زمین مجھے بیع ہوئی ہے اور میں اس کا مالک ہوں ، اس وکیل صاحب کا اس زمین سے کوئی تعلق نہیں اور مدرسے کا انتظام میری ذمہ داری ہے، کسی کو میرے اختیارات میں دخل اندازی کی اجازت نہیں۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ اس زمین کی شرعی حیثیت کیا ہے ۔اس کا ذمہ دار شرعی طور پر کون ہو سکتا ہے۔انتقال واپس اپنے نام کرسکتے ہیں ۔ بالفرض اگر شرعی حاکمان فیصلہ کرتے ہیں ، کہ انتقال واپس اصلی مالک کے نام کیا جائے تو یہ فیصلہ از روئے شریعت اور از روئے صلح جائز ہوگا یا نہیں۔
تنقیح: سائل(جوکہ اصل واقف کابیٹاہے)کا کہنا ہے کہ زمین حقیقت میں ایک بھائی کی ملکیت ہے،لیکن کاغذات میں دو بھائیوں کے نام پر درج ہے۔ جس بھائی کا حقیقتاً اس زمین میں کوئی حصہ نہیں تھا، اس نے حقیقی مالک کی رضامندی سےزمین مدرسے کے لیے وقف کر دی، اور مولوی صاحب کو باقاعدہ تحریری تصدیق بھی دے دی کہ یہ زمین مدرسے کے لیے وقف ہے اور ان کے حوالے کی جاتی ہے۔ بعد ازاں جس مقصد کے لیے زمین وقف کی گئی تھی اس میں کوتاہی اور کمی نظرآرہی ہے جس پر حقیقی مالک اور مولوی صاحب کے درمیان تنازع پیدا ہو گیا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا حقیقی مالک اس زمین کو واپس لے کر دوبارہ اپنے تصرف میں لے سکتا ہے یا نہیں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ جو چیز اللہ تعالیٰ کے راستے میں کسی خاص مقصد کے لیے وقف کر دی جائے، وہ واقف کی ملکیت سے نکل جاتی ہے اور ہمیشہ کے لیے وقف ہو جاتی ہے۔ وقف کے بعد واقف یا حقیقی مالک کو یہ اختیار حاصل نہیں رہتا کہ وہ اس موقوفہ چیز کو دوبارہ اپنے ذاتی تصرف میں لے آئے۔
صورتِ مسئولہ میں اگر بیان کردہ حقائق درست ہیں، اور زمین حقیقی مالک کی رضامندی سے مدرسہ کے لیے وقف کی جا چکی ہے،تو یہ زمین شرعاً ہمیشہ کے لیے مدرسہ کے نام وقف ہو چکی ہے۔ لہٰذا اس زمین کو اسی مقصد کے لیے استعمال میں لانا لازم ہے جس مقصدلےلیےاسے وقف کیا گیا تھا، واقف کےلیےجائزنہیں کہ وہ اسے واپس لے کراپنے ذاتی استعمال میں لائے۔
البتہ واقف اگر سمجھتاہے کہ متولی یانگران درست کام نہیں کررہا،کوتاہی کررہاہےاور مدرسہ کے لیے وقف شدہ زمین اپنی نگرانی میں رکھناچاہتاہے یاکسی دوسرے متولی کے حوالے کرناچاہتاہے، تواس کی اخلاقی اور قانونی کوشش کی جاسکتی ہے۔
حوالہ جات
قال في التنوير وشرحه (4/ 338):
(وعندهما هو حبسها على) حكم (ملك الله تعالى وصرف منفعتها على من أحب) ولو غنيا فيلزم، فلا يجوز له إبطاله ولا يورث عنه وعليه الفتوى.
الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 15):
وعندهما حبس العين على حكم ملك الله تعالى فيزول ملك الواقف عنه إلى الله تعالى على وجه تعود منفعته إلى العباد فيلزم ولا يباع ولا يوهب ولا يورث.
الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 16):
قال: "وإذا صح الوقف على اختلافهم" وفي بعض النسخ: وإذا استحق مكان قوله إذا صح "خرج من ملك الواقف ولم يدخل في ملك الموقوف عليه" لأنه لو دخل في ملك الموقوف عليه لا يتوقف عليه بل ينفذ بيعه كسائر أملاكه، ولأنه لو ملكه لما انتقل عنه بشرط المالك الأول كسائر أملاكه.
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (2/ 490):
ولا يجوز تغيير الوقف عن هيئته فلا يجعل الدار بستانا ولا الخان حماما ولا الرباط دكانا، إلا إذا جعل الواقف إلى الناظر ما يرى فيه مصلحة الوقف، كذا في السراج الوهاج.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (4/ 459):
وحاصله أنه لو شرط الواقف أن يكون الإمام أو المؤذن أو المعلم شخصا معينا يصح الرجوع عنه لو كان متهاونا في مباشرة وظيفته أو كان غيره أصلح، فهو في الحقيقة تغيير كما عبر به في الخلاصة: أي تغيير الشخص المعين بغيره للمصلحة الراجعة إلى المسلمين.
عزیزالرحمن
دار الافتاءجامعۃ الرشید کراچی
02/رجب المرجب /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عزیز الرحمن بن اول داد شاہ | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


