03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بہو کا سسر پر نامناسب حرکات کا الزام اور سسر کے انکار کا حکم
89524نکاح کا بیانحرمت مصاہرت کے احکام

سوال

السلام  علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مجھے اس مسئلے کے حوالے سے رہنمائی درکار ہے کہ میرے سسر کی جانب سے میرے ساتھ بعض نامناسب حرکات سرزد ہوئی ہیں۔ مثال کے طور پر جوان بیوی کے ہوتے ہوئے وہ مجھ سے پاؤں دبواتے رہے، اسی طرح ایک بار میری بیماری کے دوران انہوں نے میرا پستان بھی دبایا۔ اس کے علاوہ دو تین مواقع پر مجھ سے بے ہودہ گفتگو بھی کی۔میری شکایت کے جواب میں میرے سسر کا مؤقف یہ ہے کہ وہ اس بارے میں قسم اٹھانے کے لیے تیار ہیں کہ انہوں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ میرے پاس اس پر کوئی گواہ بھی نہیں ہے، کیونکہ یہ واقعات ان مواقع پر پیش آئے جب گھر میں صرف ہم دونوں موجود ہوتے تھے۔میرے شوہر کا کہنا یہ ہے کہ وہ نہ تو اپنے والد کی تصدیق کر سکتے ہیں اور نہ ہی تکذیب، کیونکہ ان کے والد قسم کھا رہے ہیں۔ ان تمام حالات کے پیش نظر میں اب اس گھر میں رہنا نہیں چاہتی۔ براہِ کرم اس سلسلے میں شرعی و اخلاقی رہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسؤلہ میں شوہر کی تصدیق نہ کرنے اور عورت کے پاس گواہ نہ ہونے کی وجہ سے ظاہر میں حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہورہی۔ نیز حرمت مصاہرت ثابت ہونے کے لیے یہ بھی شرط ہے کہ عین بلا حائل چھونے کے وقت شہوت پیدا ہوئی ہو یا پہلے سے موجود شہوت میں اضافہ ہوا ہو۔ یہ بات بیوی کو معلوم نہیں ہوسکتی، اور سسر اس کا انکاری ہے، اس لیے بھی اس واقعہ سے حرمت مصاہرت کا ثابت ہونا مشکل ہے۔ لہذا آئندہ یا تو الگ رہائش اختیار کریں، یا پھر سسر سے آمنا سامنا کرنے میں سخت احتیاط کریں، ورنہ بیوی شوہر کے لیے حرام ہوکرپورا خاندان اختلاف و انتشار کا شکار ہوجائے گا۔

حوالہ جات

المحيط البرهاني (3/ 67):

إذا قبل امرأة ابنه بشهوة، أو قبل الأب امرأة ابنه بشهوة وهي مكرهة، وأنكر الزوج أن يكون ذلك عن شهوة فالقول قول الزوج؛ لأنه ينكر بطلان ملكه، وإن صدقه الزوج أنه كان عن شهوة وقعت الفرقة ويجب المهر على الزوج، ويرجع الزوج بذلك على الذي فعل ذلك إن تعمد الفاعل الفساد؛ لأنه وجب الحد بالوطء، والمال مع الحد لا يجتمعان.

تبيين الحقائق (2/ 198) دار الكتب الإسلامي:

لو قال لها أنت طالق ونوى به الطلاق عن وثاق لم يصدق قضاء ويدين فيما بينه وبين الله تعالى لأنه خلاف الظاهر والمرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا سمعت منه ذلك أو شهد به شاهد عدل عندها۔

المحيط البرهاني (3/ 63):

وكما ثبتت هذه الحرمة بالوطء تثبت بالمس والتقبيل والنظر إلى الفرج بشهوة سواء كان بنكاح أو ملك أو فجور عندنا إذا كان المحل مشتهاه، ولا تثبت هذه الحرمة بالنظر إلى سائر الأعضاء وإن كان عن شهوة وحد.

كنز الدقائق (ص314):

والسكنى في بيت خال عن أهله وأهلها.

اسفندیارخان بن عابد الرحمان

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

3/رجب المرجب /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

اسفندیار خان بن عابد الرحمان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب