| 89489 | طلاق کے احکام | تحریری طلاق دینے کا بیان |
سوال
میری منگنی ہوئی اور ہم میسج پہ بات چیت کرتے تھے۔ پھر ہم نے دو گواہوں کی موجودگی میں نکاح کیا۔ کچھ عرصہ بعد ہم میسج پر بات چیت کر رہے تھے اور ہماری ایک بات پر نارمل سی بحث ہو رہی تھی، تو بحث ختم ہونے کے بعد میں نے لڑکی کو صرف ویسے ہی دکھانے کے لیے میسج پر طلاق کے تین دفعہ الفاظ لکھے۔ "طلاق طلاق طلاق" صرف یہ لکھا اور میری طلاق دینے کی نیت و ارادہ کچھ بھی نہیں تھا، صرف ویسے اس کو دکھانے کے لیے میں نے یہ الفاظ میسج پہ لکھے تھے۔ پھر ہم نارمل بات چیت کرنے لگے اور بعد میں لڑکی کو میں نے بتایا کہ یہ میسج میں نے تمہیں طلاق دینے کے لیے نہیں، بلکہ ویسے ہی لکھا تھا۔ وہ میسج بھی میں نے ڈیلیٹ کر دیا تھا۔ اور ہم نے تنہائی میں ایک ساتھ وقت بھی گزارا ہے، لیکن ہمارا نہ ملاپ ہوا اور نہ ہمبستری ہوئی۔اس بارے میں ہماری رہنمائی فرما دیجئے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
یاد رہے کہ جس طرح زبان سے طلاق کے الفاظ ادا کرنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے، اسی طرح میسج لکھ کر بھیجنے سے بھی طلاق ہوجاتی ہے۔ لہذا صورت مسئولہ میں آپ کے بیان کے مطابق خلوت صحیحہ کے بعد لڑکی کو میسج پہ تین طلاقیں لکھ کر بھیجی گئی ہیں، تو تینوں طلاقیں واقع ہوگئی ہیں۔ وہ لڑکی آپ کے لیے حرام ہوگئی ہے، اگرچہ ہمبستری نہیں ہوئی۔ اب نہ رجوع ہوسکتا ہے اور نہ دوبارہ نکاح۔
البتہ اگر لڑکی عدت کے بعد کسی اور شخص سے نکاح کرلے ۔ اور ازدواجی تعلق قائم کرنے کے بعد شوہر وفات پاجاتا ہے یا کسی اور وجہ سے اسے طلاق دے دیتا ہے، تو وہ عدت کے بعد سابقہ شوہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرسکتی ہے۔
حوالہ جات
المبسوط للسرخسي: (6/16)
قال شمس الأئمة رحمہ اللہ: "وإن كان قد خلا بها فطلاقها وعدتها مثل التي دخل بها لأن الخلوة الصحيحة في حكم العدة بمنزلة الدخول، ومراعاة وقت السنة في الطلاق لأجل العدة فتقام الخلوة فيه أيضا مقام الدخول."
الفتاوی الھندیة: (1/378)
قال في الهندية: "الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة ،ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب… وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو، ثم المرسومة لا تخلو أما إن أرسل الطلاق بأن كتب أما بعد فأنت طالق فكلما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة."
الأصل لمحمد بن الحسن:(4/399)
قال الامام محمد رحمہ اللہ: "وإذا كان الطلاق بعد الخلوة والزوج يقول: لم أدخل بها، فلا رجعة له عليها."
بدائع الصنائع: (3/187)
"وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله – عز وجل – {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: ٢٣٠] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة."
سید سمیع اللہ شاہ
دارالافتاءجامعۃ الرشید ،کراچی
4/رجب المرجب/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید سمیع اللہ شاہ بن سید جلیل شاہ | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


