03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
آن لائن ایک ویب سائٹ سے سامان خرید کر دوسری ویب سائٹ پر بیچنا
89585خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

    مفتی صاحب! پوچھنا یہ تھا کہ میں ای کامرس کرتا ہوں۔ اس میں طریقہ یہ ہے کہ میں ایک ویب سائٹ سے دوسری ویب سائٹ پر اشتہار لگاتا ہوں۔ جیسا کہ ایک ویب سائٹ علی ایکسپریس ہے، تو میں اس سے اشتہار اٹھا کر دوسری ویب سائٹ پر لگا دیتا ہوں۔ چونکہ علی ایکسپریس میں چیزیں کچھ سستی ہوتی ہیں اور ای بے پر مہنگی ہوتی ہیں، اس لیے جب میں اشتہار لگاتا ہوں اور کوئی خریدار خریداری کرتا ہے تو اضافی رقم مجھے منافع میں ملتی ہے۔ یہ ایک طریقہ ہے۔

    دوسرا طریقہ یہ ہے کہ میں علی ایکسپریس سے اسٹاک خرید لیتا ہوں، لیکن وہ اسٹاک سیلر کے پاس ہی رہتا ہے، اور میں ای بے پر اس کا اشتہار لگا دیتا ہوں۔ اس کے بعد جب کوئی مجھ سے ای بے پر خریداری کرتا ہے تو میں وہی سامان علی ایکسپریس سے ہی آگے بھیج دیتا ہوں۔تو کیا اس طرح خرید و فروخت جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز نہیں ہے تو اس کا متبادل طریقہ بتا دیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

     آپ کی ذکر کردہ دونوں صورتوں میں اگر چیز اپنے قبضے میں لائے بغیر ہی گاہک کو بیچ دی جاتی ہے تو یہ عقد جائز نہیں۔ البتہ دوسری صورت میں اگر خریدی ہوئی اسٹاک اس طرح معین ہو کہ اسے ٹریکنگ کیا جا سکے اور معلوم ہو کہ فلاں فلاں سامان آپ کا ہے، تو پھر اس کی تفصیل بتاکر بھی پوچھ لیا جائے۔اس صورت میں بعض دفعہ جواز کی شکل بھی بن سکتی ہے۔

    یاد رہے کہ بیع جائز ہونے کی شرط یہ ہے کہ مبیع فروخت کنندہ کی ملکیت اور قبضے میں ہو۔ اکاؤنٹ پر محض کسی چیز کا اشتہار یا تصویر اپلوڈ کرکے وہ چیز فروخت کرنا دراصل عقد بیع نہیں، بلکہ بیع کا وعدہ ہوتا ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ بائع ہمیشہ چیز بھیجنے سے پہلے ایک بار مشتری سے کنفرم کرتا ہے کہ یہ چیز آپ کو ارسال کروں یا نہیں۔

   لہٰذا اگر گاہک مل جانے کے بعد وہ چیز خرید کر اپنے قبضے میں لائی جائے، پھر گاہک سے رابطہ کرکے بیع پکی کی جائے اور اس کے بعد وہ چیز ارسال کر دی جائے، تو عقد درست ہوگا، ورنہ نہیں۔

حوالہ جات

    صحيح البخاري (3/ 64) حدیث  (2114)

قال حكيم بن حزام رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: "البيعان بالخيار ما لم يتفرقا، فإن صدقا و بينا بورك لهما في بيعهما وإن كذبا و كتما محقت بركة بيعهما"

    بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع ،(5/ 146)

وهو شرط انعقاد البيع للبائع أن يكون مملوكا للبائع عند البيع فإن لم يكن لا ينعقد، وإن ملكه بعد ذلك بوجه من الوجوه ... وهذا بيع ما ليس عنده ، ونهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع ما ليس عند الإنسان.

    البحر الرائق شرح كنز الدقائق ،(5/ 278)

...وذلك قد يكون بالقول، وقد يكون بالفعل فالأول ‌الإيجاب ‌والقبول. ‌والثاني ‌التعاطي اهـ.

   فقہ البیوع ، (96/1)

والذي يتحصل من كلام الفقهاء كما ذكرنا، أن عرض السلع ليس إيجاباً في عامة الأحوال، إلا إذااتصل به تصريح من البائع يدل على أن عَرْضه يمثل الإيجاب، بحيث لا يريد لإنشاء البيع إلا القبول من المشتري، وبما أن هذا الشرط مفقود في عامة العروض، فإنها لا تُعدّ إيجاباً، وإنما هي دعوة للشراء.

محمد شاہ جلال

دار الإفتاء، جامعۃ الرشید، کراچی

09/رجب/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد شاہ جلال بن خلیل حولدار

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب