03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ازدواجی نزاع، بیوی کی حق تلفی اور والدین کے ظلم و فساد کے متعلق)
89598معاشرت کے آداب و حقوق کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

آپ حضراتِ مفتیانِ کرام کی خدمت میں نہایت ادب و احترام سے عرض گزار ہوں کہ میری ازدواجی زندگی ایسے تکلیف دہ حالات سے گزر رہی ہے جنہوں نے نہ صرف گھر کا سکون بلکہ ایمان و صبر کی آزمائش بنا دیا ہے۔ ابتدائے نکاح: میری شادی 8 مارچ 2024 کو حنا بنت قیصر سلیم سے نکاح کے ذریعے ہوئی اور 10 مئی 2024 کو رخصتی عمل میں آئی۔ یہ تاریخ اُس کی والدہ شہناز بی بی کے شدید اصرار پر رکھی گئی، حالانکہ اُس وقت حنا شدید جسمانی تکلیف اور ماہواری کے ایام میں تھی۔ اضافہ برائے واقعہ رخصتی کی رات: رخصتی کی رات، یعنی 10 مئی 2024 کو، میں نے اپنی بیوی کی تکلیف دیکھ کر کسی کو بتائے بغیر، دولہا کے لباس میں ہی رات گیےسیفی ہسپتال جا کر ڈاکٹر سے دوائیں، انجیکشن اور پین کلر حاصل کیے، تاکہ اُس کی تکلیف کم ہو۔ پھر میں نے اپنی بیوی کو وہ انجیکشن خود لگائے، یہ سب اس لیے کہ وہ دن اذیت میں نہ گزرے اور عزت و خوشی قائم رہے۔ مگر افسوس کہ اسی رات کے بعد سے اُس کے والدین نے ہمارے گھر کی بنیادوں میں زہر گھول دیا۔ میں نے جس رات اُس کی عزت بچائی، اُسی رات کے بعد اُنہوں نے میری عزت، میرا گھر اور میرا سکون چھین لیا۔شادی کے چند ماہ بعد ہی اُس کے والدین کا رویہ لالچی، دنیادارانہ اور ظالمانہ ہو گیا۔ انہوں نے 20 لاکھ روپے، زیورات، مکان اور دیگر مالی مطالبات شروع کیے۔ انکار پر مجھے اور میری بیوی کو گالیاں دیں، جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں، اور میری بیوی کو مجھ سے جدا کرنے کی سازشیں شروع کیں۔ واقعہ 6 دسمبر 2024: اسی روز میری بیوی نے قرآنِ پاک پر حلف اٹھا کر ایک لرزہ خیز حقیقت بتائی کہ اُس کے والد قیصر سلیم اُس کے ساتھ بدفعلی کرتے رہے ہیں شادی سے پہلے بھی، اور شادی کے بعد جولائی 2024 میں بھی۔ یہ بات اُس کی والدہ شہناز بی بی کے علم میں تھی۔ جب میں نے کہا کہ یہ بات تمہاری والدہ کو بھی بتاؤ، تو اُس کی والدہ نے فون پر صاف الفاظ میں کہا: "میں نے منع کیا تھا، اپنے باپ کے بارے میں مت بولنا، تمہارا باپ ہے خیر ہے۔" یہ الفاظ سن کر میرا دل دہل گیا۔ اسی شام وہ لوگ چند آدمیوں کے ساتھ ہمارے گھر آئے، مجھ پر اور میرے بھائی پر حملہ کیا۔ -واقعہ 19 دسمبر 2024: حنا 19 دسمبر 2024 کو اپنی نانی کے گھر (کورنگی، کراچی) عمرہ سے واپسی کے بعد نانی سے ملنے گئی تھی۔ اسی موقع پر اُس کے والدین وہاں پہنچے اور زبردستی اُسے اپنی نانی کے گھر سے لے گئے۔ نانی نے اُنہیں روکنے کی کوشش کی مگر وہ اُسے زبردستی ساتھ لے گئے۔ تب سے آج تک  دس ماہ گزر چکے ہیں نہ اُس نے کوئی رابطہ کیا، نہ صلح، نہ ازدواجی تعلق برقرار رکھا۔ اب وہ انہی والدین کے ساتھ رہتی ہے جنہوں نے اُس کی عزت، میری محبت اور ہماری ازدواجی زندگی برباد کی۔ سوالات برائے شرعی رہنمائی :

1۔کیا ایسے والدین، جنہوں نے اپنی بیٹی کے ساتھ بدفعلی کی اور اُس کی ازدواجی زندگی برباد کی، شرعاً فاسق و فاجر قرار پائیں گےاور کیا بیوی کا ایسے والدین کے ساتھ رہنا، اور شوہر کو چھوڑ دینا، شرعاً درست ہے؟اور کیا اس کی ماں کا اپنے شوہر کی گندگی و غلاظت والی حرکتوں کو جانتے ہوئےبھی اپنے لالچی و خودغرضی کے مقاصد کے حصول میں شوہر قیصر سلیم ولد محمد سلیم کا ساتھ دینا اور حنا کو الٹا اس ہی جہنم نما گھر میں  واپس لیجانا  اور سب کو ایسا کہنا کے میں نامرد ہوں ۔اور  ہماری کوئی اولاد  پیدا نہیں ہوئی شادی کے بعد 2 ماہ سے جب اسکے گھر والوں نے پیسے اور دیگر شرائط رکھی تو  سکون چین ہمارا بر باد ہونے لگا تو اس وقت سے مسلسل حنا کی والدہ شہناز بی بی کا باقاعدہ مجھے نامرد کہنا۔اور اس بات پر حنا کا رونا اور لڑنا ان سے کے شہریار کو کوئی بات نہیں ہے وہ ٹھیک ہے مکمل جیسےمیں نے  کہا اوپر کے بارات کا دن 10مئی کا جان بوجھ کر رکھا تھا حنا کی والدہ نے کے اس دن میری برتھڈے ہوتی ہے  اور اصل میں اس رات حنا کو شدید تکلیف تھی اتنی کے درد سے کراہ رہی تھی میری بیوی اور اس وقت میں نے سب سے چھپ کر ہسپتال گیا اور وہاں سے دوائی اور درد کے انجیکشن لاکر اسکو لگائےاور یہ بات میں نے آج تک نہیں کی حنا میرے عزت ہے میری بیوی ہے جب کچھ دن بعد باقاعدہ  ٹریٹمنٹ اس تکلیف کا شروع ہوا تما م ٹیسٹ اور الٹراساؤنڈ وغیرہ کروائے تو ہارمونل ایمبیلیسنگ کی وجہ سامنے آئی اور اور ڈاکٹرز نے نومبر 2024 میں علاج کے دوران ہی ہمیں کہا میاں بیوی کو میرے بھی سیم ٹیسٹ کروائے گئے تھے رپورٹس کے بعد مجھے اور حنا کو بتایا کے حنا کی کنڈیشن کافی وقت پہلے سے خراب ہے اسکو خاص ایام میں نا ہونے کے برابر بلیڈنگ ہوتی ہے اور اسکی وجہ بیضہ دانی کے سامنے چربی ۔فیٹ کی موٹی پرت ہے اسکو ٹھیک ہونے میں کافی وقت لگے گا اور اولاد آپکو مشکل  ہوتی دکھائی دیتی ہے ۔بیوی کو مسلسل اس کے بعد میں تسلیاں دیتا رہا کے خیر ہے ہمارے اللہ پاک کے لیے مشکل تھوڑی ہے کچھ ہم ساتھ ہیں انشاء اللہ ہو جائیگی یہ بات کسی کو نہیں بتائی ۔میں نے آج تک رپورٹس چھپا کر رکھی ہیں سب لیکن جب 6 دسمبر کو حنا نے اپنے والد کی اس غلیظ کاموں کا بتایا بدفعلی کا تو اسنے ساتھ کہا مجھے اس وقت سےشہریار  یہ بات معلوم ہے میری والدہ کو بھی اور یہ سب میرے والدکی اس حرکت کے بعد ہوا مسئلہ مجھے جناب مفتی صاحب میں انسان ہوں ایک اور اتنا سب کچھ سننے اور۔ سہنے کے باوجود کبھی حنا کو اسکا طعنہ نہیں دیا بلکے مزید محبت اس سے کرنے لگا ہوں  لیکن اسکے ماں باپ کا یہ سب غلیظ کھیل کھیلنا۔ اسکو دور کرنا اور حنا کا بھی سب کچھ جانتے بوجھتے انکاساتھ دینامسلسل 10 ماہ سے ۔ مجھ سے کوئی روابط تک نہ کرنا۔ -اس سب میں اب میں کیا کروں کے اسکے ماں باپ کا ذلالت کا مسلسل مظا ہرہ اور حنا کا مجھ سے بے پروا ہ ہونا کیا میرے ساتھ ظلم نہیں ہے میرے حقوق کی پرواہ کرنا کیا میری بیوی کا کام نہیں؟

2۔اور  دس ماہ سے بیوی نے شوہر سے کوئی ازدواجی تعلق نہیں رکھا  کیا نکاح اب بھی قائم ہے یا نہیں؟ جواب عنایت فرمائیں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

1۔اگر بات حقیقت میں ایسے ہی ہےجیسا کہ سوال میں مذکور ہے، تو خوب سمجھ لیں: زنا بہت بڑا گناہ ہے۔ پھر جب یہ گناہ اپنے ہی محارم کے ساتھ ہو تو اس کی شناعت اور قباحت اور بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے مرد کو اپنے محارم کا نگہبان بنایا ہے، اُسے ان کی حفاظت کے لیے مقرر کیا ہے۔ اگر محافظ خود ہی بے حرمتی کرنے لگے، تو یہ شدید وبال کا ذریعہ ہے۔اور جو شخص اپنی بیٹی سے زنا کرے، تو اس کی بیوی ہمیشہ کے لیے اس پر حرام ہو جاتی ہے۔ لہٰذا ایسے شخص کے ساتھ اس کی بیوی کا رہنا بھی جائز نہیں۔ اور پھر بیوی کا یہ جانتے ہوئے کہ شوہر بیٹی کے ساتھ زنا کرتا ہے، پھر بھی شوہر کا ساتھ دینا قبیح گناہ ہے۔

ایسے شخص کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سے سچے دل سے توبہ کرے اور آئندہ کے لیے اس عمل سے مکمل اجتناب کرے، اور اپنی بیٹی کو اس کے شوہر کے پاس چھوڑ دے، تاکہ فتنے میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہو۔ اور تنہائی میں بیٹی اس کے ساتھ ملاقات نہ کرے، اور غیر ضروری آمنا سامنا بھی نہ کرے۔ نیز  اپنی بیوی کو بھی چھوڑ دےکیونکہ وہ اب اس کے لیے حلال نہیں ہے۔

2۔صورتِ مسئولہ میں میاں بیوی کا نکاح برقرار ہے۔ البتہ بیوی کے لیے اپنے میکے بیٹھنا جائز نہیں ، جس بنیاد پر اختلاف ہے اسے ختم کرنے کی کوشش کی جائے ، دونوں خاندان کے بڑے مل بیٹھ کر مسئلہ کا حل نکالنے کی کوشش کریں، باوجود کوشش کے نباہ کی کوئی صورت نہ بن سکے تو علیحدگی کا راستہ اختیار کیا جائے ، تاہم حتی الامکان کوشش کی جائے کہ مسائل حل ہو جائیں اور گھر بس جائے ۔

حوالہ جات

قال الله عز وجل: (‌ولا ‌تقربوا ‌الزنا إنه كان فاحشة وساء سبيلا (32).

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 32):

‌وحرم ‌أيضا ‌بالصهرية أصل مزنيته) قال في البحر: أراد بحرمة المصاهرة الحرمات الأربع حرمة المرأة على أصول الزاني وفروعه نسبا ورضاعا وحرمة أصولها وفروعها على الزاني نسبا ورضاعا كما في الوطء الحلال ويحل لأصول الزاني وفروعه أصول المزني بها وفروعها. اهـ.

قوت القلوب في معاملة المحبوب ووصف طريق المريد إلى مقام التوحيد (2/ 416):

وفي الخبر الجامع لفضائل الزوج: أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ‌لو ‌أمرت ‌أحدا ‌أن ‌يسجد ‌لشيء سوى الله تعالى لأمرت المرأة تسجد لزوجها من عظم حقه عليها، ومن حقه أن لا تعطي شيئا من بيته لا بإذنه فإن فعلت ذلك كان الإثم عليها والأجر له، ومن حقه أنه لا تصوم تطوعا إلا بإذنه.

فيض الجليل على متن الدليل (3/ 167):

فإذا كان الزوج قائما بحوائج زوجته، حرم عليها الخروج ‌بلا ‌إذنه؛ ‌وليس ‌لها إذن نفقة ما دامت خارجة من البيت إن لم تكن حاملا؛ لنشوزها، لكن يستحب له أن يأذن لها بالخروج لتمريض أحد محارمها، أو عيادته.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 228):

وأما الطلاق فإن الأصل فيه الحظر، بمعنى أنه محظور إلا لعارض يبيحه، وهو معنى قولهم الأصل فيه الحظر والإباحة للحاجة إلى الخلاص، فإذا كان بلا سبب أصلا لم يكن فيه حاجة إلى الخلاص بل يكون حمقا وسفاهة رأي ومجرد كفران النعمة وإخلاص الإيذاء بها وبأهلها وأولادها، ولهذا قالوا: إن سببه الحاجة إلى الخلاص عند تباين الأخلاق وعروض البغضاء الموجبة عدم إقامة حدود الله تعالى، فليست الحاجة مختصة بالكبر والريبة كما قيل، بل هي أعم كما اختاره في الفتح، فحيث تجرد عن الحاجة المبيحة له شرعا يبقى على أصله من الحظر، ولهذا قال تعالى {فإن أطعنكم فلا تبغوا عليهن سبيلا} [النساء: 34] أي

لا تطلبوا الفراق، وعليه حديث «أبغض الحلال إلى الله الطلاق» قال في الفتح: ‌ويحمل ‌لفظ ‌المباح على ما أبيح في بعض الأوقات أعني أوقات تحقق الحاجة المبيحة اهـ.

عادل ارشاد

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۹/رجب المرجب /۱۴۴۷ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عادل ولد ارشاد علی

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب