| 89580 | سود اور جوے کے مسائل | سود اورجوا کے متفرق احکام |
سوال
وراثتی زمین نام پرمنتقل کرنے میں سودپرلی گئی کچھ رقم کے استعمال کا حکم
میری والدہ کو میری نانی کی طرف سے کچھ زمین وراثت میں ملی ہے جس کو میں نے اپنی والدہ کے نام پر انتقال کروایا ہے اور اس انتقال پر کافی خرچہ آیا ہے۔اسی اخراجات میںنے کچھ پیسے ایسے اس کام میں شامل کیےہے جو کہ سود پرلیےہوئے تھےبینک سے۔اب زمین میری والدہ کے نام ہو گئی ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ اب اس طرح جو زمین ملی ہے وہ زمین اگر ہم فروخت کر دیں تو اس کا پیسہ حرام تو نہیں ہوگا ۔میں بہت پریشان ہوں شریعت میں اس کا حل کیا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سودی قرض لیناتو جائز نہیں ،کیونکہ سودی معاملہ کرنا اور سوداد اکرناحرام ہے۔ تاہم کسی نے سودی قرض لیا ہو تو اس کی وجہ سے لی ہوئی رقم حرام نہیں ہوتی۔جوسودی رقم کوحرام کہاجاتاہے وہ اس رقم کو کہتے ہیں جو کسی کوقرض دے کر اس پراضافی رقم لی جاتی ہے۔آپ کی لی ہوئی رقم ایسی نہیں ہے۔لہذا اس کے استعمال کی وجہ سے زمین یا اس کی قیمت میں کوئی حرام عنصر داخل نہیں ہوا، آپ کے لیے زمین یا اس کی قیمت حلال شمار ہوگی۔
حوالہ جات
[البقرة: 278-279]:
ﵟيَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَذَرُواْ مَا بَقِيَ مِنَ ٱلرِّبَوٰٓاْ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ فَإِن لَّمۡ تَفۡعَلُواْ فَأۡذَنُواْ بِحَرۡبٖ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦۖﵞ
مسندالإمام أحمدبن حنبل(6/ 269):
عن عبد الله بن مسعود أنه قال:لا تصلح سفقتان في سفقة،وإن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:"لعن الله آكل الربا، ومؤكله، وشاهده، وكاتبه".
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (5/ 168):
وشرعا (فضل) (خال عن عوض) مشروط) ذلك الفضل (لأحد المتعاقدين) في المعاوضة.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 183):
لأن الربا حرام بنص الكتاب الكريم قال الله عز وجل: - {وحرم الربا} .
عزیزالرحمن
دار الافتاءجامعۃ الرشید کراچی
06/رجب المرجب /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عزیز الرحمن بن اول داد شاہ | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


