03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
گاؤں گڑھی مداخیل میں جمعہ پڑھنے کا حکم
89590نماز کا بیانجمعہ و عیدین کے مسائل

سوال

محترم مفتیانِ کرام السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ہم اہلِ گاؤں گڑھی مداخیل تورغر پاکستان اپنی بستی میں جمعہ کی نماز کے آغاز کے بارے میں شرعی رہنمائی کے خواہش مند ہیں۔ اس سلسلے میں ہمارے گاؤں کی مکمل صورتِ حال درج ذیل ہے۔ گاؤں میں تقریباً 200 گھرانے آباد ہیں، مجموعی آبادی تقریباً 1500 افراد پر مشتمل ہے، گاؤں میں سکول، کلینک/ڈسپنسری، دکانیں جس میں ضرورت کے تمام چیزیں میسر ہے،سڑک، ٹرانسپورٹ اور معاشرتی ضروریات کی تمام بنیادی سہولیات میسر ہیں۔لوہار، حجام اور ترکھان بھی موجود ہیں ،ہر گھر میں پانی کا نلکا لگا ہوا ہے،آٹے کی چکیاں موجود ہیں ، لوگ اپنا کاروبار باآسانی کرتے ہیں ، آبادی مستقل ہے اور زیادہ تر پکے مکانات ہیں،لوگوں کا رہن سہن منظم ہے، خرید و فروخت کا معمول قائم ہے، گاؤں کے ارد گرد تمام چھوٹے بڑے دیہات میں جمعے کی نماز تقریباً 20 سال سےباقاعدگی سے قائم کی جا رہی ہے، جب کہ ان میں سے کئی گاؤں ہماری آبادی اور سہولیات سے کم تر ہیں اورتمام علماء کرام کا تعلق بھی احناف سے ہیں ۔ان کو دیکھ کر ہمارے گاؤں کے لوگوں میں تشویش سی پیدا ہوگئی ہے ،جس سے گاؤں میں انتشار کا خدشہ ہے ۔ وہ تمام سہولیات جو باقی بستیوں میں موجود ہیں جہاں جمعے کی نماز باقاعدگی سے ادا کی جاتی ہے وہ تمام سہولیات ہمارے گاؤں میں بھی موجود ہیں ،دورجدید کی تمام سہولیات باآسانی حاصل کرسکتے ہیں ۔ ہم مفتیانِ کرام کی شرعی رہنمائی کے مطابق عمل کرنے کے پابند ہوں گے۔اللہ تعالیٰ آپ حضرات کو جزائے خیر عطا فرمائے۔

تنقیح : مذکورہ گاؤں کے علماء کرام سے رابطے کے بعد معلوم ہوا کہ گاؤں میں نہ کوئی پولیس چوکی موجود ہے اور نہ ہی کوئی باقاعدہ بازار قائم ہے، البتہ صرف سات دکانیں ایسی ہیں جن سے روزمرہ ضرورت کی اشیاء مل جاتی ہیں۔ عوامی بازار، جو تقریباً تین سو دکانوں پر مشتمل ہے، گاؤں سے ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے اور وہ ضلع بونیر کی حدود میں آتا ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

گاؤں مدا خیل کے حالات جو سوال میں مذکورہیں اورجومزید احوال دیگرذرائع سے معلوم ہوئے  ان کی روسے   بظاہر یہاں جمعہ پڑھنے کی شرائط موجود نہیں ، لہذا اس جگہ جمعہ شروع کرنا جائزنہیں ،ظہرپڑھناضروری ہے ۔البتہ کسی  قریبی علاقے کے  دو صاحب رأی مفتیان کرام کو مدعو کرکے ان کو گاؤں کا مشاہدہ کروایا جائے تو وہ علی وجہ الصیرہ فیصلہ کر سکتے ہیں۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (2/ 138):

لا ‌تجوز ‌في ‌الصغيرة التي ليس فيها قاض ومنبر وخطيب كما في المضمرات والظاهر أنه أريد به الكراهة لكراهة النفل بالجماعة؛ ألا ترى أن في الجواهر لو صلوا في القرى لزمهم أداء الظهر.

الموسوعة الفقهية الكويتية (27/ 196):

فمن كانوا يقيمون في قرية نائية، لا يكلفون بإقامة الجمعة، ‌وإذا ‌أقاموها ‌لم ‌تصح ‌منهم. قال صاحب البدائع: المصر الجامع شرط وجوب الجمعة، وشرط صحة أدائها عند أصحابنا، حتى لا تجب الجمعة إلا على أهل المصر ومن كان ساكنا في توابعه، وكذا لا يصح أداء الجمعة إلا في المصر وتوابعه.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (2/ 137):

عن أبي حنيفة أنه ‌بلدة ‌كبيرة ‌فيها ‌سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمته وعلمه أو علم غيره يرجع الناس إليه فيما يقع من الحوادث وهذا هو الأصح اهـ إلا أن صاحب الهداية ترك ذكر السكك والرساتيق لأن الغالب أن الأمير والقاضي الذي شأنه القدرة على تنفيذ الأحكام وإقامة الحدود لا يكون إلا في بلد كذلك.

   محمد طلحہ فلک شیر

 دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

10 /رجب المرجب/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طلحہ ولد فلک شیر

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب