| 89667 | معاشرت کے آداب و حقوق کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ میری گزارش یہ ہے کہ میں ایک ، شادی شدہ شخص ہوں۔ میرے تین بچے ہیں۔ میں بیرونِ ملک ملازمت کرتا ہوں اور میری مجبوری یہ ہے کہ میں سال میں ایک بار ایک مہینے کے لیے ہی اپنے گھر جا پاتا ہوں۔ اس طرح مجھے اپنی بیوی اور بچوں سے طویل عرصے تک جدائی برداشت کرنی پڑتی ہے۔ میری بیوی بھی اپنے ملک میں ایک سرکاری اسپتال میں بطور نرس (گائنی وارڈ میں) ملازمت کرتی ہے۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ شریعت اس بات کو پسند نہیں کرتی کہ شوہر بیوی سے لمبے عرصے تک جدا رہے اور عورت بھی نوکری کرے۔ اب میری الجھن یہ ہے کہ: 1۔ کیا شریعت کی روشنی میں میرے لیے بہتر ہے کہ میں بیرون ملک کی نوکری چھوڑ کر اپنے گھر واپس آجاؤں تاکہ اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ رہ سکوں؟ 2۔ یا پھر بیوی کی نوکری ترک کرا دی جائے اور خود بیرون ملک ہی نوکری جاری رکھوں۔ 3. میری ذمہ داری شرعاً کس طرف زیادہ ہے اور میرے لیے شرعی حکم کیا ہے؟ براہ کرم اس مسئلے میں رہنمائی فرمائیں تاکہ میں اپنے اور اپنے گھرانے کے لیے بہتر اور شرعی فیصلہ کرسکوں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شوہر پر جس طرح بیوی کا نان و نفقہ و حقوق کی ادا ئیگی واجب ہے اسی طرح حقوق زوجیت ادا کرنا اور ایک دوسرے کے لیے پاکیزہ زندگی کا باعث بننا بھی ضروری ہے۔
صورت مسئولہ میں شوہر کے ذمے ہر چار ماہ میں ایک مرتبہ حق زوجیت ادا کرنا ضروری ہے ۔لہذا بیوی کی رضامندی کے بغیر چار ماہ سے زائد گھر سے دور رہنا اس کی حق تلفی ہے، اگر بیوی رضامندی ظاہر کرے تو بھی اگر آپ کے یا اس کے گناہ پر مائل ہونے کا خطرہ ہو اور چار ماہ میں واپسی کی کوئی ترتیب بھی نہ بنتی ہو، تو شوہر کے لیے ملک سے باہر رہنا جائز نہیں ہے۔
خلاصہ یہ کہ بہتر یہی ہے آپ بیوی کے پاس زندگی گزاریں تاہم اگر فوری طور پر کوئی معاشی مشکلات ہوں تو بیوی کی رضا مندی سے کچھ عرصہ نوکری جاری رکھیں اور کوشش کریں کہ ایسی تدبیر ہو جائےکہ چار ماہ سے زیادہ دوری نہ رہے۔
البتہ بیوی کے لیے ملازمت کی گنجائش اس صورت میں ہے جب وہ مکمل پردہ کے ساتھ کام کرے اور کسی فتنہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہو۔
اگر ملازمت میں پردہ برقرار نہ رہتا ہو یا فتنہ و معصیت کا خوف ہو، تو ایسی صورت میں عورت پر نوکری چھوڑنا لازم ہے۔ بغیر شرعی ضرورت اور شوہر کی اجازت کے ملازمت کرنا جائز نہیں ۔
لہٰذا اپنے گردو پیش کے حالات کا جائزہ لے کر اپنے بڑوں اور سمجھ دار احباب سے مشورہ کر کے کوئی مناسب راستہ اختیار کر لیں ، جس سے بیوی کی پریشانی بھی دور ہو جائے اور آپ کے روزگار کا مسئلہ بھی حل ہو جائے ۔
حوالہ جات
{يأيها الذين آمنوا قوا أنفسكم وأهليكم نارا وقودها الناس والحجارة} [التحريم: 6]
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 203):
قوله ولا يبلغ مدة الإيلاء) تقدم عن الفتح التعبير بقوله ويجب أن لا يبلغ إلخ. وظاهره أنه منقول، لكن ذكر قبله في مقدار الدور أنه لا ينبغي أن يطلق له مقدار مدة الإيلاء وهو أربعة أشهر، فهذا بحث منه كما سيذكره الشارح فالظاهر أن ما هنا مبني على هذا البحث تأمل، ثم قوله وهو أربعة يفيد أن المراد إيلاء الحرة، ويؤيد ذلك أن عمر - رضي الله تعالى عنه - لما سمع في الليل امرأة تقول: فوالله لولا الله تخشى عواقبه لزحزح من هذا السرير جوانبه فسأل عنها فإذا زوجها في الجهاد، فسأل بنته حفصة: كم تصبر المرأة عن الرجل: فقالت أربعة أشهر، فأمر أمراء الأجناد أن لا يتخلف المتزوج عن أهله أكثر منها، ولو لم يكن في هذه المدة زيادة مضارة بها لما شرع الله تعالى الفراق بالإيلاء فيها.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 145):
فلا تخرج إلا لحق لها أو عليهاأو لزيارة أبويها كل جمعة مرة أو المحارم كل سنة، ولكونها قابلة أو غاسلة لا فيما عدا ذلك.
عادل ارشاد علی
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
17/رجب المرجب /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عادل ولد ارشاد علی | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


