03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شاملات کی ملکیت وتقسیم کے بارے میں چند سؤالات کے جوابات
89690بنجر زمین کو آباد کرنے کے مسائلشاملات زمینوں کے احکام

سوال

کیافرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام در یں مسئلہ کہ ہمارے پشتون علاقوں میں مختلف قبائل آباد ہیں، ہر قبیلہ کی دوسری قبیلہ سے اپنی حد بندی میدانی اور پہاڑی علاقوں میں آباء واجداد سے معلوم چلی آر ہی ہے۔ اب بڑے قبائل کی ذیلی شاخوں نے بھی اپنے آپس کی حد بندیاں معلوم کی ہیں یا معلوم کرنے جارہی ہیں۔ واضح رہے کہ بعض حد بندیوں کے نقشے اورمسل ان قبائل کے نام پر برطانوی دور حکومت سے محکمہ ریونیو کے پاس موجود ہیں، جبکہ بعض حد بندیاں نقشہ اور مسل کے بغیر بھی قبائل کے ہاں قابل قبول اور مسلم ہیں۔ کیونکہ اکثرو بیشتر حد بندیاں (ٹاک) تحکیم شرعی کی صورت میں یا پھر قرآن کریم  وفرقان عظیم پر حلف اٹھا کر معلوم کی گئی ہیں۔

مندرجہ ذیل سوالوں کے تفصیلی جوابات مطلوب ہیں!

(۱) کیا ایسی بیرون از لائن ( بلا پیموده) یعنی اراضی شاملات مملکت خداداد پاکستان کی ملکیت ہیں یا قبائل کی ؟

(۲)کیا میدانی اور پہاڑی اراضی میں کوئی فرق ہے یا نہیں؟

(۳)گیا ان حد بندیوں میں جن کے نقشے اور مسل بنے ہیں اور ان حد بندیوں میں جن کے نقشے اور مسل موجود نہ ہو کوئی فرق ہے ؟

(۴) کیا تحکیم شرعی یا پھر قرآن کریم  وفرقان عظیم پر حلف اٹھا کر معلوم کی گئی حد بندیوں کی شرعی و قانونی حیثیت ہے ؟

(1) اگر یہ شاملات حکومت کی ہیں تو مندرجہ ذیل امور اور شبہات کی تنقیح  اور وضاحت ضروری ہے!

۱۔اگر یہ شاملات حکومت کی ہیں تو مختلف اقوام اور قبائل کے درمیان تقسیم اور حد بندی ( ٹاک ) کی حیثیت تحجیر کی ہو گی جو ہر تین سال بعد بے معنی ہوگی۔ تحکیم شرعی یا پھر قرآن کریم و فرقان عظیم پر حلف اٹھا کر معلوم کی گئی حد بندیوں کی شرعی و قانونی حیثیت کیا ہو گی ؟

۲۔اگر یہ شاملات حکومت کی ہیں تو حکومت کسی بھی ایک فرد کو الاٹ کر اسکتی ہے کہ اس موات زمین کی احیاء کرے۔

۳۔اگر یہ شاملات حکومت کی ہیں، البتہ اس قبیلہ کو قریب ہونے کی وجہ سے حق جوار یا حق اسبقیت حاصل ہے تو ایک قبیلہ کی ایسی اراضی جو دوسرے قبیلہ کے قریب ہو تو ان پر اس قریبی قبیلے کا حق جوار ہونا چاہئے۔ ایسی صورت میں بھی حد بندی (ٹاک) کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہی گی۔

(2) اگر یہ شاملات قبائل کی ہیں حد بندیاں (پاک) معتبرہیں تو مندرجہ ذیل امور اور شبہات کی تنقیح اور وضاحت ضروری ہے!

۱۔اگر یہ شاملات قبائل کی ہیں حد بندیاں (ٹاک) معتبر ہیں تو اپنے افراد پر بوقت تقسیم بنیت احیائے موات حکومت سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہونی چاہئے۔

۲۔اگر یہ شاملات قبائل کی ہیں، اورحد بندیاں (پاک) معتبر ہیں تو اس قبیلہ سے نسلا خارج افراد جو وہاں رہائش پذیر ہیں کو بوقت تقسیم اراضی زمین نہیں ملی چاہئے ، حالانکہ ان کو بھی شرعا حق حاصل ہے۔

۳۔اگریہ شاملات قبائل کی ہیں،حد بندیاں( ٹاک) معتبر ہیں، تو قبیلہ فرد شخصی تصور کیا جاے گاا ور قبیلہ کے تمام موجودہ افراد کی ملکیت  کر توارث جاری ہونا چاہئے، حالانکہ اسی اراضی کو میراث میں شامل نہیں کیا جاتا ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 شاملات کے بارے میں اسلامی احکام کا خلاصہ یہ ہے کہ گاؤں کے متصل اتنی زمین جو گاؤں والوں کی مشترکہ ضرورتوں کے لیے، مثلاً چراگاہ یا ایندھن کے حصول وغیرہ کے لیے ضروری ہو، وہ کسی شخص کی ملکیت نہیں ہو سکتی، نہ اس میں نو توڑ کر کے کسی کے لیے اس کا مالک بننا جائز ہے، اس کے بجائے یہ زمین پورے گاؤں کی مشترک زمین ہوگی، جس میں تمام باشندوں کا مساوی حق ہوگا۔ اس قسم کے رقبہ زمین کی حد بندی حکومت بھی کر سکتی ہے، اور گاؤں والے باہم رضامندی سے بھی کر سکتے ہیں۔ لیکن اس حد و در قبہ زمین کے بعد شاملات کی جتنی غیر آباد زمینیں ہیں ، ان میں گاؤں کے تمام باشندوں کا حق ہے، اور گاؤں کے تمام باشندے خواہ زمیندار ہوں یا کاشتکار ، ان زمینوں میں نو توڑ کا حق رکھتے ہیں ۔ اس حق کے استعمال کو منظم بنانے کے لیے حکومت قواعد بناسکتی ہے اور یہ شرط بھی عائد کرسکتی ہے کہ نو توڑ کے لیے حکومت سے اجازت لینی ضروری ہوگی (بشرطیکہ اجازت لینے کا عمل اتنا دشوار نہ ہو کہ عوام کے لیے اجازت کا حصول بہت مشکل ہو جائے ، اور صرف با اثر لوگ ہی اجازت سے فائد ہ اٹھا سکیں) لیکن ان قواعد کے مطابق جو شخص بھی ان اراضی میں نو توڑ کر لے گا، وہ اتنی زمین کا مالک قرار پائے گا جو اس نے آباد کر لی ہو، اور اس میں کاشت کرنے کے بعد مالکان دیہہ یا گاؤں کے کسی اور زمیندار کو کس قسم کا لگان، کرایہ یا بٹائی دینے کا پابند نہیں ہو گا، خواہ وہ تو توڑ کرنے والا گاؤں کا کوئی زمیندار ہو، یا کاشتکار نیز شاملات کے اس علاقے کے درختوں کا جو مالکانہ حکومت کی طرف سے دیا جا تا ہے اس کے حقدار صرف مالکان دیہہ نہیں، بلکہ گاؤں کے تمام باشندے ہیں، خواہ وہ زمیندار ہوں یا کاشتکار اور یہ گاؤں کے تمام باشندوں کے درمیان تقسیم ہونا ہوگا۔

شاملات  کےبارے میں مندرجہ ذیل  رواج اسلامی احکام کے خلاف ہیں :۔

الف) شاملات دیہہ پر صرف گاؤں کے بانیوں یا مالکان دیہہ(  یا کسی خاص قبیلہ )کے حقوق ملکیت تسلیم کرنا ، یا صرف ان کے درمیان شاملات کو تقسیم کرنا۔

 (ب) شاملات"کی غیر آباد زمینوں کے نو توڑ پر مالکان دیہہ کی طرف سے کسی قسم کی پابندی  عائد کرنا  یا نوتوڑ کرنے والوں کو اس بات  کا ذمہ دار ٹھہرانا  کہ  وہ مالکان دیہہ  یا دوسرے زمینداروں کو شاملات میں تو توڑ کرنے کے عوض کسی قسم کالگان ، کرایہ یا بٹائی کا ادا کریں۔

(ج) درختوں کا مالکانہ " صرف مالکان دیہہ کے درمیان تقسیم کرنا اور گاؤں کے دوسرے باشندوں کو اس سے محروم قرار دینا ۔(از عدالتی فیصلے از شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی حفظہ اللہ تعالی:ج۲،ص۲۵۵)

اس تفصیل کے بعد آپ کےجملہ سؤالات کے جوابات درج ذیل ہیں:

۱۔و2(مع شق ثانی  یعنی  اگر یہ شاملات  قبائل کی ملکیت  ہیں توالخ):شاملات کی زمین حکومت کی نہیں، بلکہ متعلقہ گاؤں کےجملہ    باشندوں کی مشترکہ ملکیت ہوتی ہے،لیکن صرف کسی  خاص مقامی قبیلہ  کی ملکیت  نہیں ہوتی، لہذا  صرف قبیلہ  کے افراد میں تقسیم بھی صحیح نہیں، بلکہ جملہ باشندہ گان  گاؤں اس میں حصہ دار ہونگے اور اسی طرح کسی بھی نیت سے  اسے تقسیم کے لیے شرعی لحاظ سے حکومت سے اجازت لینا  اگرچہ ضروری نہیں، لیکن اگر انتظامی لحاظ سے حکومت   اپنی اجازت کی شرط لگائے اور وہ شرط قابل عمل بھی ہو اور اس میں رعیت کی مصلحت بھی ہو تو اس کی پابندی بھی شرعا لازم ہے۔

توراث شخصی ملکیت میں  موت کے بعدجاری ہوتا ہے ،لہذا  قومی ملکیت میں توراث کی بات توراث کے شرعی مفہوم سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔نیز اس بارے میں غلطی قبائل اورباشندہ گان گاؤں میں فرق نہ کرنے سے پیدا ہوئی ہے، حقیقت یہ ہے کہ شاملات کا تعلق اہل قریہ سے  ہوتاہے یعنی  سب اہل قریہ کا حق ہے، قریہ کے کسی خاص قبیلہ اور خاندان کا حق نہیں۔

۲۔ اس بارے میں فقہی عبارات میں  میدانی اور غیر  میدانی یعنی پہاڑی شاملات میں کوئی فرق نہیں کیا گیا۔

۳۔ حدبندی کا کوئی خاص طریقہ شرعا مقرر نہیں، لہذا حکومت کی طرف سے یا خود قبائل کی طرف سے آپس کی رضامندی سے جو بھی تحدید ہو وہ  شرعامعتبر ہوگی۔

۴۔ جب کوئی  نئی حد بندی کسی پہلے سے مقرر معروف  ومشہور    حدی بندی کے خلاف نہ ہو تو اس کو قبول کیا جاسکتا ہے، بشرطیکہ آپس کی مشاورت یا حکومت کی اجازت سے ہو، ورنہ نئی حد بندی محض حلف قرآن کی بناء پر یا تحکیم کی بناء پر معتبر نہ ہوگی جبکہ جملہ متنازع فریق اس  تحکیم پر راضی نہ ہوں۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (44/ 351):

 فالأرض الموات هي أرض خارج البلد لم تكن ملكا لأحد ولا حقا له خاصا فلا يكون داخل البلد موات أصلا وكذا ما كان خارج البلدة من مرافقها محتطبا لأهلها ومرعى لهم لا يكون مواتا حتى لا يملك الإمام إقطاعها وكذلك أرض الملح والقار ونحوهما مما لا يستغني عنها المسلمون لا تكون أرض موات حتى لا يجوز للإمام أن يقطعها لأحد وهل يشترط أن يكون بعيدا من العمران شرطه الطحاوي وفي ظاهر الرواية ليس بشرط حتى إن بحرا قريبا من البلدة جزر ماؤه ، أو أجمة عظيمة لم يكن ملكا لأحد يكون أرض موات في ظاهر الرواية وعلى رواية أبي يوسف رحمه الله تعالى وهو قول الطحاوي لا يكون والصحيح جواب ظاهر الرواية ، فإن الموات اسم لما لا ينتفع به فإذا لم يكن ملكا لأحد ولا حقا خاصا له لم يكن منتفعا به فكان مواتا بعيدا عن البلدة أو قريبا منها كذا في البدائع .

قال القدوري فما كان عاديا أي قدم خرابه لا مالك له أو كان مملوكا في الإسلام لا يعرف له مالك بعينه وهو بعيد عن القرية بحيث إذا وقف إنسان من أقصى العامر فصاح لم يسمع الصوت فيه فهو موات وقال القاضي فخر الدين وأصح ما قيل فيه أن يقوم الرجل على طرف عمران القرية فينادى بأعلى صوته إلى أي موضع ينتهي إليه صوته يكون من فناء العمران لأن أهل القرية يحتاجون إلى ذلك الموضع لرعي المواشي أو غيره وما وراء ذلك يكون من الموات إذا لم يعرف له مالك والبعد عن القرية على ما قال شرطه أبو يوسف رحمه الله تعالى وعند محمد رحمه الله تعالى يعتبر انقطاع ارتفاق أهل القرية عنه حقيقة وإن كان قريبا من القرية وشمس الأئمة اعتمد على ما اختاره أبو يوسف رحمه الله تعالى كذا في الكافي .

ويملك الإمام إقطاع الموات فلو أقطع الإمام إنسانا فتركه ولم يعمره لا يتعرض له إلى ثلاث سنين فإذا مضى ثلاث سنين فقد عاد مواتا وله أن يقطعه غيره والملك في الموات يثبت بالإحياء بإذن الإمام عند أبي حنيفة رحمه الله تعالى وعند أبي يوسف ومحمد رحمهما الله تعالى يثبت بنفس الإحياء ويملك الذمي بالإحياء كما يملك المسلم كذا في البدائع

 نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۱۸ رجب 1447  ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نواب الدین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب