| 89729 | ہبہ اور صدقہ کے مسائل | ہبہ کےمتفرق مسائل |
سوال
عرض یہ ہے کہ ہم چند بھائی کاروبار میں شریک تھے، والد صاحب کی رقم بھی اس کاروبار میں(بطور قرض) ہے لیکن بغیر منافع کے۔ اسی اثنا میں(بھائیوں میں سے ایک بھائی) مسمی محمد احمد نے مکان کے شرقی جانب ایک مکان اپنے بچوں کی نیت سے منت سماجت کر کے خریدا ،کچھ رقم مشترکہ مال سے ادا کی۔ اسی اثنا میں میرے والد محترم نے فرمایا کہ یہ مکان محمد عبد اللہ کو دے دو ، میں اپنا مکان جو مغربی سمت میں ہے آپ کو دیتا ہوں۔ رقم ادا ہونے کے بعد یہ مکان عبد اللہ کے نام رجسٹر کروا دیا۔ مکان کی ساری رقم والد صاحب کے(اس) مال سے(جو انہوں نے بطور قرض دیا تھا)منہا کی گئی۔ ہفتہ دو ہفتے بعد میرے پاس یہ خبر پہنچی کہ آپ کے والد صاحب کہتے ہیں کہ کوئی جیتے جی اپنا مکان چھوڑتا ہے؟ میں نے اس وقت یہ عرض کیا کہ میں(اپنا) خریدا ہوا مکان عبداللہ کو نہیں دوں گا، میرے ساتھ دھوکہ کیا گیا ہے، پھر میں عبد اللہ کے پاس گیا اور کہا کہ خریدے ہوئے مکان کے متعلق مجھ سے دھوکہ کیا گیا ہے، مجھے یہ کہا گیا کہ یہ مکان عبداللہ کو دے دو اور میں یہ مکان یعنی اپنے والا آپ کو دیتا ہوں، لہذا آپ اس معاملے میں ایک طرف ہو جائیں۔ اس معاملے کو تقریبا چار سال گزر چکے ہیں، جب بھی والد صاحب سے اس حوالے سے بات ہوئی، کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا اور ٹال مٹول سے کام لیتے رہے اور میں عبد اللہ کو کہتا رہا کہ میں مکان آپ کو نہیں دوں گا۔اب جواب طلب امر یہ ہے کہ جو مکان میں نے اپنے بچوں کی نیت سے خریدا تھا بعدہ وہ مکان عبداللہ کے نام رجسٹر ہو گیا اور رقم والد صاحب کے پیسوں سے ادا کی گئی۔ والد صاحب اپنے مکان کے متعلق وضاحتی بیان نہیں دے رہے۔خریدا ہوا مکان کس کی ملکیت ہے؟محمد احمد اس مکان کو واپس لینے کا مجاز ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
چونکہ محمداحمد نے شرقی جانب والا مکان اپنے لیے خود خریدا تھا اور قیمت کی ادائیگی مشترکہ کاروبارسے، شرکاء کی اجازت سے کی تھی،لہٰذا اس مکان کا مالک محمد احمد ہوگا،البتہ اس مکان کی خریداری میں جو پیسے ادا کیے گئے ہیں،ان پیسوں میں سے جو رقم مشترکہ کاروبار سےلی گئی تھی،وہ واپس کرنے ہوں گے،اسی طرح والد صاحب نے جو پیسے ادا کیے تھے، وہ اگرقرض کے طور پر تھے تو وہ بھی واپس کرنے ہوں گے۔
رہی بات یہ کہ بعد میں والد محترم نے فرمایا کہ" یہ مکان محمد عبد اللہ کو دے دو ، میں اپنا مکان جو مغربی سمت میں ہے آپ کو دیتا ہوں "،یہ پیشکش قبول کرنا یا رد کرنا محمد احمد کے اختیار میں تھا،محمد احمد نے اپنے اختیار سے اس پیشکش کو قبول کیا اور شرقی جانب والا اپنا مکان عبد اللہ کو دے دیا،اب والد صاحب کو چاہیے کہ وہ غربی جانب والا مکان محمد احمد کو دیں،لیکن سوال کے مطابق چونکہ والد صاحب غربی جانب والا مکان نہیں دے رہے یا کوئی واضح بات نہیں کر رہے،لہٰذاایسی صورت میں محمد احمد کے لیے اس شرقی جانب والے مکان کو واپس لینادرست ہے یا نہیں؟اس حوالے سے تفصیل یہ ہے کہ چونکہ محمد احمدنے شرقی جانب والا مکان اس وجہ سے محمد عبد اللہ کو دیا تھا کہ والد صاحب غربی جانب والا مکان محمد احمد کو دیں گے،جبکہ والد صاحب نے محمد احمد کو غربی جانب والا مکان نہیں دیا تو محمد احمد کی جانب سے عبد اللہ کو مکان کا ہبہ درست نہ ہوا،لہٰذا محمد احمد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ عبد اللہ سے شرقی جانب والا مکان واپس لے لے۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 314)
مطلب ادعى الشراء لنفسه وأما لو ادعى الشراء لنفسه لا للشركة. ففي الخانية: اشترى متاعا فقال الآخر هو من شركتنا وقال المشتري هو لي خاصة اشتريته بمالي لنفسي قبل الشركة فالقول له بيمينه بالله ما هو من شركتنا؛ لأنه حر يعمل لنفسه فيما اشترى. اهـ.والظاهر أن قوله قبل الشركة احتراز عن الشراء حال الشركة؛ ففيه تفصيل ذكره في البحر عن المحيط وهو أنه لو من جنس تجارتهما فهو للشركة وإن أشهد عند الشراء أنه لنفسه؛ لأنه في النصف بمنزلة الوكيل بشراء شيء معين وإن لم يكن من تجارتهما فهو له خاصة. اهـ.قلت: ويخالفه ما في فتاوى قارئ الهداية: إن أشهد عند الشراء أنه لنفسه فهو له، وإلا فإن نقد الثمن من مال الشركة فهو للشركة اهـ لكن اعترض بأنه لم يستند لنقل فلا يعارض ما في المحيط.وقد يجاب بحمله على ما إذا لم يكن من جنس تجارتهما تأمل.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (6/ 198)
امرأة وهبت مهرها من زوجها ليقطع لها في كل حول ثوبا مرتين وقبل الزوج فمضى حولان ولم يقطع قال الشيخ الإمام أبو بكر محمد بن الفضل إن كان ذلك شرطا في الهبة فمهرها عليه على حاله لأن هذا بمنزلة الهبة بشرط العوض فإذا لم يحصل العوض لا تصح الهبة، وإذا لم يكن ذلك شرطا في الهبة سقط مهرها ولا يعود بعد ذلك، وكذا لو وهبت مهرها على أن يحسن إليها ولم يحسن كانت الهبة باطلة ويكون بمنزلة الهبة بشرط العوض.
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
18.رجب1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


