| 89834 | ایمان وعقائد | کفریہ کلمات اور کفریہ کاموں کابیان |
سوال
اگر یہ کہا جائے کہ جو شخص بھی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی شان میں بھونکے وہ خنزیر ہے وغیرہ وغیرہ ،کیونکہ آئے روز بعض مخصوص لوگ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر طعن کرتے ہیں،توکیا یہ الفاظ تمام سادات کی گستاخی کے زمرے میں آتے ہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سادات کسی مخصوص فرقے یا گروہ کا نام نہیں بلکہ یہ ان افراد کے لیے بولاجاتا ہے جن کا شجرہ نسب حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ تعالی عنہا کے واسطے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچے اورحضرات سادات کسی بھی صحابی کےلیے نازیبا الفاظ استعمال نہیں کر سکتے چہ جائیکہ کاتب ِوحی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے لیے ایسے نازیبا الفاظ استعمال کریں ۔اگر کوئی گروہ خود کو سادات کہلاتا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے بارے میں برے الفاظ استعمال کرتا ہے تو یہ انتہائی گمراہی اور ایمان کے لیے خطرے کی بات ہے ۔یہ بات ان کےسادات ہونےکوبھی مشکوک بنارہی ہے۔
صحابہ کرام کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرنے والے پر رد کرناجائزاورایمان کی علامت ہے۔تاہم بہت سخت الفاظ نہ استعمال کیےجائیں کہ اس سےدوسرافریق بھی بدزبانی شروع کرسکتاہے۔
حوالہ جات
تفسير الماتريدي ، تأويلات أهل السنة :(6/ 595)
(وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ)أي: جادلهم أحسن المجادلة بلين القول، وخفض الجانب والجناح؛ لعلهم يقبلون دينهم، ويخضعون لربهم۔
الدر المنثور في التفسير بالمأثور: (3/ 339)
عن قتادة قال: كان المسلمون يسبون أصنام الكفار فيسب الكفار اللہ فأنزل اللہ {ولا تسبوا الذين يدعون من دون اللہ}۔
تنبيه الولاة والحكام: (1/367)
وأما من سب أحدا من الصحابة فهو فاسق ومبتدع بالإجماع إلا إذا اعتقد أنه مباح أو يترتب عليه ثواب كما عليه بعض الشيعة أو اعتقد كفر الصحابة فإنه كافر بالإجماع۔
فیصل حیات بن خان بہادر
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
20/رجب المرجب1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | فیصل حیات بن خان بہادر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


