| 89841 | نکاح کا بیان | نکاح کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
میری بیوی نے ایک مرتبہ کلمۂ کفر کہا تھا اور اب ہم نے نکاح کی تجدید کرنی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ میاں بیوی اور گواہان اکھٹے ہوں اور مولوی صاحب فون پر ہوں، تو سوال یہ ہے کہ اس طریقے سے نکاح ہو جائے گا یا مولوی صاحب کا موقع پر موجود ہونا بھی ضروری ہے؟ مسئلہ یہ ہے کہ اگر ہم مولوی صاحب کو گھر بلاتے ہیں تو خاندان میں بات پھیلنے کا خدشہ ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں میاں بیوی دو گواہوں کی موجودگی میں خود ایجاب و قبول کرلیں تو نکاح ہوجائے گا،مولوی صاحب کا ہونا ضروری نہیں ۔ مثلا : مرد عورت کو کہے کہ میں آپ کے ساتھ اتنے روپے مہر پر نکاح کرتا ہوں ،آپ کو قبول ہے؟عورت کہہ دے کہ قبول ہے، تو نکاح ہوجائے گا۔
حوالہ جات
رد المحتار: (3/14)
قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ:"(قوله: اتحاد المجلس) قال في البحر: فلو اختلف المجلس لم ینعقد، فلو أوجب أحدهما فقام الآخر أو اشتغل بعمل آخر، بطل الإیجاب؛ لأن شرط الارتباط اتحاد الزمان، فجعل المجلس جامعاً تیسیراً."
اللباب فی شرح الکتاب:(3/3)
"(ولا ينعقد نكاح المسلمين) بصيغة المثنى (إلا بحضور شاهدين حرين بالغين عاقلين مسلمين) سامعين معا قولهما فاهمين كلامهما على المذهب كما في البحر."
سید سمیع اللہ شاہ
دارالافتاءجامعۃ الرشید ،کراچی
20/ رجب المرجب/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید سمیع اللہ شاہ بن سید جلیل شاہ | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


