03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کیا نکاح خواں کا مجلس میں موجود ہونا ضروری ہے؟
89841نکاح کا بیاننکاح کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

   میری بیوی نے ایک مرتبہ کلمۂ کفر کہا تھا اور اب ہم نے نکاح کی تجدید کرنی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ میاں بیوی اور گواہان اکھٹے ہوں اور مولوی صاحب فون پر ہوں، تو سوال یہ ہے کہ اس طریقے سے نکاح ہو جائے گا یا مولوی صاحب کا موقع پر موجود ہونا بھی ضروری ہے؟ مسئلہ یہ ہے کہ اگر ہم مولوی صاحب کو گھر بلاتے ہیں تو خاندان میں بات پھیلنے کا خدشہ ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

    صورت مسئولہ میں میاں بیوی دو گواہوں کی موجودگی میں خود ایجاب و قبول کرلیں تو نکاح ہوجائے گا،مولوی  صاحب کا  ہونا ضروری نہیں ۔ مثلا : مرد عورت کو کہے کہ میں آپ کے ساتھ اتنے روپے مہر  پر نکاح کرتا ہوں ،آپ کو قبول ہے؟عورت کہہ دے کہ قبول ہے، تو نکاح ہوجائے گا۔

حوالہ جات

رد المحتار: (3/14)

  قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ:"(قوله: اتحاد المجلس) قال في البحر: فلو اختلف المجلس لم ینعقد، فلو أوجب أحدهما فقام الآخر أو اشتغل بعمل آخر، بطل الإیجاب؛ لأن شرط الارتباط اتحاد الزمان، فجعل المجلس جامعاً تیسیراً."

اللباب فی شرح الکتاب:(3/3)

  "(ولا ينعقد نكاح المسلمين) بصيغة المثنى (إلا بحضور شاهدين حرين بالغين عاقلين مسلمين) سامعين معا قولهما فاهمين كلامهما على المذهب كما في البحر."

سید سمیع اللہ شاہ  

دارالافتاءجامعۃ الرشید ،کراچی

20/  رجب المرجب/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید سمیع اللہ شاہ بن سید جلیل شاہ

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب