| 89757 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
رنڑا فلاحی و ترقیاتی تنظیم، جانی خیل نے "رنڑا تعلیم (ایجوکیشن) اکیڈمی "کے نام سے ایک تعلیمی ادارہ قائم کیا ہے۔ چونکہ یہ تنظیم یتیم، غریب، مسکین اور نادار افراد کی امداد کے مقصد سے قائم کی گئی ہے، لہٰذا عوام الناس اس تنظیم کو انہیں مستحقین کے نام پر زکوٰۃ، صدقات، چندہ اور دیگر عطیات دیتے ہیں۔تنظیم درج ذیل شعبہ جات میں خدمات سرانجام دے رہی ہے1:۔ کفالت2۔ صحت3۔ تعلیم (عصری و دینی) 4۔روزگار وغیرہ۔
تعلیم کے شعبے میں تنظیم نے عصری اور دینی تعلیم کے لیے مجموعی طور پر 25 فیصد حصہ مختص کیا ہے۔ تاہم، تنظیم کے تحت چلنے والی اکیڈمی میں اس وقت صرف عصری تعلیم دی جاتی ہے۔ جس طرح تنظیم دیگر شعبوں میں مستحقین کی مدد کرتی ہے، اسی طرح تعلیم کے میدان میں بھی مستحق طلبہ کی معاونت تنظیم کے منشور کا حصہ ہے۔تنظیم کی اکیڈمی میں غیر مستحق طلبہ سے مناسب فیس لی جاتی ہے، جبکہ مستحق طلبہ پر اوسطاً 9,000 روپے ماہانہ خرچ آتا ہے، جو ان کے لیے معاف کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، مجموعی طور پر اکیڈمی پر ماہانہ 24,000 روپے یا اس سے زیادہ اضافی اخراجات آتے ہیں، جو تنظیم برداشت کرتی ہے۔
اب سوال یہ ہے:سوال (1): کیا یہ اضافی اخراجات (یعنی 24,000 روپے یا اس سے زیادہ)، جو براہ راست مستحقین کے علاوہ ادارے کے مجموعی نظام پر خرچ ہوتے ہیں، مستحقین کے نام پر حاصل شدہ عطیات اور زکوٰۃ سے ادا کیے جا سکتے ہیں یا نہیں؟ جبکہ اہل خیر حضرات سے یہ رقم صرف مستحقین کی مدد کے نام پر وصول کی جاتی ہے۔
سوال (2):اکیڈمی چلانے کا مقصد جانی خیل قوم میں تعلیمی شعور بیدار کرنا اور تنظیم کے لیے منافع حاصل کرنا تھا۔ تعلیمی شعور تو کسی حد تک پیدا ہوا ہے، لیکن منافع کے بجائے نقصان ہو رہا ہے۔ آیا نقصان یا منافع دونوں صورتوں کو سامنے رکھتے ہوئے اکیڈمی کو جاری رکھنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ اس بارے میں شرعی رہنمائی درکار ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
دی گئی معلومات کے مطابق صورت مسئولہ میں مذکورہ ادارہ ’’رنڑا فلاحی و ترقیاتی تنظیم‘‘ یتیموں، غریبوں، مسکینوں اور نادار افراد کی امداد کے مقصد سے قائم کیا گیا ہے۔ اگر ادارہ مستحقین کے نام پر حاصل شدہ رقوم میں تملیکِ شرعی کا بےغبار طریقہ اختیار کرتا ہو، تو زکوٰۃ اور صدقاتِ واجبہ کی رقوم ادارہ جاتی اخراجات، اساتذہ کی تنخواہوں اور ان کے دیگر امور میں خرچ کی جا سکتی ہیں۔
-2چونکہ درجِ بالا اکیڈمی کا مقصد قوم میں تعلیمی شعور بیدار کرنا اور یتیم، غریب، مسکین اور نادار افراد کی امداد کرنا ہے، جو ایک نافع سرگرمی ہے۔ اس لیے مستحقین کے نام پر جمع ہونے والا چندہ تملیک کے بعد استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اگر وہ کافی نہ ہو، تو عمومی چندہ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم صحت کی مد میں آنے والا چندہ صرف طلبہ کے علاج و معالجہ پر ہی خرچ کیا جائے۔
خلاصہ یہ کہ مدات کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ اگر یہ آپ کے بس سے باہر ہو تو مناسب حکمتِ عملی کے ساتھ اسے بند کرنے کی گنجائش ہوگی، بشرطیکہ اس سے طلبہ کی پڑھائی کا حرج نہ ہو۔
حوالہ جات
سنن أبی داود:(حدیث 635 1)
عن عطاء بن یسار، أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: "لا تحل الصدقۃ لغني إلا لخمسۃ … أو لرجل کان لہ جار مسکین فتصدق علی المسکین فأهداھا المسکین لغني".
وفی درر الحكام شرح غرر الأحكام - ((136/5
ومن الأصول المقررة أن تبدل الملك قائم مقام تبدل الذات أخذا من قوله صلى الله عليه وسلم لبريرة هي لك صدقة ولنا هدية.
الفتاوى الهندية (3 / 564)
ويجوز التوكيل بالبياعات والأشربة والإجارات والنكاح والطلاق والعتاق والخلع والصلح والإعارة والاستعارة والهبة والصدقة والإيداع وقبض الحقوق والخصومات وتقاضي الديون والرهن والارتهان كذا في الذخيرة.
ردالمحتار (85/2):
قال فی شرح التنویر لا یصرف مال الزکوۃ إلی بناء نحو مسجد وفی الشامیۃ کبناء القناطیروالسقایات و إصلاح الطرقات و کری الأنھار والحج والجحاد وکل مالا تملیک فیہ زیلعی .
رد المحتار:(204/3)
’’قولہ: (بشرط أن یعقل القبض) قید في الدفع والکسوۃ کلیھا. وفسرہ في الفتح وغیرہ بالذي لا یرمی بہ ولا یخدع عنہ، فإن لم یکن عاقلاً فقبض عنہ أبوہ أو وصیہ أو من یعولہ قریباً أو أجنبیاً أو ملتقطہ صح.... وعبر بالقبض؛ لأن التملیک في التبرعات لایحصل إلا بہ فھو جزء من مفھومہ‘‘.
محمد شاہ جلال
دار الإفتاء، جامعۃ الرشید، کراچی
22/رجب 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد شاہ جلال بن خلیل حولدار | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


