| 89755 | نکاح کا بیان | نکاح کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
میری بیٹی کی عمر 31 سال ہو گئی ہے رشتہ نہیں آتا جس کے لیے میں پریشان ہوں۔ میری بیٹی پردے کے معاملے میں بہت سخت خیال رکھتی ہے یہاں تک کہ اپنے 10 یا 12 سال کی عمر والے کزنز (خالہ، پھوپھی، چچا، ماموں زاد یا میرے اور میری بیوی کے کزنز یا دور کے رشتہ داروں سے سلام و دعا نہیں لیتی بلکہ کمرے میں بیٹھ جاتی ہے اور کمرے سے باہر نہیں نکلتی۔ ہم نے بہت سمجھایا ہے کہ اتنا سخت پردہ نہ کرو اس لیے شاید رشتے بھی نہیں آتے۔ کہتی ہے کہ ہونے والے شوہر یا ان کے کزن رشتہ دار مردوں سے بھی اسی طرح پردہ کریں گی یہاں تک کہ ہونے والے شوہر کے بھائیوں (دیوروں) سے بھی اسی طرح کا پردہ کریں گی۔ آپ سے گزارش ہے کہ میری رہنمائی فرمائیں۔ میں بیٹی کے رشتے اور شادی کے لیے کیا کروں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
آپ کی بیٹی کا غیر محرم رشتہ دارو ں سے پردہ کا اہتمام کرنا اس بات کی علامت ہے کہ آپ نے ان کی اچھی تربیت کی ہے۔ ان کا یہ ارادہ کرنا کہ وہ آئندہ بھی اپنے ہونے والے سسرال میں بھی غیر محرم رشتہ داروں سے پردہ کا اہتمام کرے گی قابل تحسین ہے۔ تاہم سسرال میں پردے کا اہتمام کرتے ہوئےاپنی ذمہ داریاں اداکرنے کا سلیقہ بھی ہوناچاہیے، مثلا: چادر کے پلو سے پردہ کرکے صفائی وغیرہ کاکام کیاجاسکتا ہے۔نیز اسی طرح غیر محرم رشتہ داروں کو پردے کے ساتھ کھانا دینے اور بقدر ضرورت بات کرنے کی بھی گنجائش ہوتی ہے۔
آپ کی بیٹی کا پردہ کا اہتمام کرنا ان کے لیے خیر وبرکت اور نیک رشتہ کا باعث ہوگا نہ کہ وہ ان کے لیے رشتہ میں حائل ہے۔ ہر چیز کے لیے اللہ تعالی نے ایک تقدیر مقرر کر رکھی ہے جس سے وہ آگے پیچھے نہیں ہوسکتی ۔لہذا آپ اپنی بیٹی کے رشتہ کے واسطہ اتنا پریشان نہ ہوں جس سے ان کو یہ محسوس ہو کہ وہ والدین پر بوجھ بن رہی ہے بلکہ ان کے لیے نیک رشتہ کی دعاکریں، ان کے نیک و شرعی اعمال پر ان کی حوصلہ افزائی فرمائیں اور جب بھی کوئی نیک مناسب رشتہ ان کے لیے میسر ہو تو ان کا رشتہ کروادیا جائے۔
حوالہ جات
صحيح البخاري ط: السلطانية (8/ 122):
عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "وكل الله بالرحم ملكا، فيقول: أي رب نطفة...فإذا أراد الله أن يقضي خلقها قال: أي رب ذكر أم أنثى؟ أشقي أم سعيد؟ فما الرزق؟ فما الأجل؟ فيكتب كذلك في بطن أمه."
رد المحتار على الدر المختار ط : الحلبي (1/ 406):
(وتمنع) المرأة الشابة (من كشف الوجه بين رجال) لا ؛لأنه عورة بل (لخوف الفتنة) كمسه وإن أمن الشهوة؛لأنه أغلظ.
قال العلامة ابن عابدين :" والمعنى تمنع من الكشف لخوف أن يرى الرجال وجهها فتقع الفتنة لأنه مع الكشف قد يقع النظر إليها بشهوة."
رد المحتار على الدر المختار ط: الحلبي (1/ 406):
"فإذا نجيز الكلام مع النساء للأجانب ومحاورتهن عند الحاجة إلى ذلك، ولا نجيز لهن رفع أصواتهن ولا تمطيطها ولا تليينها وتقطيعها؛ لما في ذلك من استمالة الرجال إليهن وتحريك الشهوات منهم."
محمد جمال
دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
21/رجب المرجب/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد جمال بن جان ولی خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


