03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ٹیکس کی ادائیگی سے زکوٰۃ کی ادائیگی کا حکم
89856زکوة کابیانزکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان

سوال

کیا ٹیکس کی ادائیگی کرتے ہوئے، زکوٰۃ کی نیت کرنے سے، زکوٰۃ ادا ہوجائے گی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کیا پاکستان میں ٹیکس کی ادائیگی کرتے ہوئے زکوٰۃ کی نیت کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوجائے گی یا نہیں؟اس حوالے سےدارالافتاء نے اپنی بساط کی حد تک جہاں فقہ و فتاوی کی قدیم عبارات کو سامنے رکھ کر غور و فکر کیا، وہاں جدید آراء،فتاوی اور مختلف تاجروں سے بھی واقعی اور حقیقی حالات معلوم کرکے تمام پہلوؤں پر بھی غور کیا۔اسی طرح انفرادی غور وفکر اور تحقیق کے ساتھ ساتھ اجتماعی غور وفکر بھی کیا گیا،اس ساری کاوش کے نتیجے میں جو رائےدارالافتاء کی طے ہوئی ہے اس کاخلاصہ درج ذیل ہے؛

  1. مروجہ ٹیکس کا نظام، زکوٰۃ کے نظام سے بالکل مختلف اور الگ ہے،زکوٰۃ کے شرعی اصولوں کے مطابق نہ حکومت ٹیکس وصول کرتی ہے اور نہ اسےخرچ کرتی ہے،لہٰذا ٹیکس کی ادائیگی کرتے ہوئے زکوٰۃ کی ادائیگی کی نیت کرنے سے، زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی۔
  2. زکوٰۃ کی مد میں جو رقم ادا کی جاتی ہے اگر اس کا تحریری ثبوت زکوٰۃ ادا کرتے ہوئے جمع کروایا جائے تو زکوٰۃ کی مد میں ادا کی گئی رقم کے بقدر قانوناً ٹیکس میں چھوٹ دی جاتی ہے،یعنی اس رقم پر ٹیکس نہیں دینا پڑتا جو زکوٰۃ کی مد میں ادا کی گئی ہے۔اس سے دو باتیں واضح ہوئیں؛
  • حکومت کی نظر میں بھی زکوٰۃ اور ٹیکس الگ الگ ہیں۔
  • زکوٰۃ کی علیحدہ سے ادائیگی کی صورت میں بھی کسی درجے میں ٹیکس کی ادائیگی میں ضرور رعایت حاصل ہوتی ہے،اس لیے زکوٰۃ کی علیحدہ سے ادائیگی کی صورت میں کسی درجے میں حرج میں کمی ضرور واقع ہوتی ہے۔

چنانچہ The Income Tax Ordinance 2001  اورThe Income Tax Rules 2002  (212،220) کے مطابق ایسی NPOs  یا NGOs جو رجسٹرڈ ہوں اور FBR سےٹیکس سے استثناء لے لیں،ایسے اداروں کو جوبھی عطیات دیے جاتے ہیں، خواہ وہ زکوٰۃ اور صدقات واجبہ ہوں یا صدقات نافلہ وغیرہ،اس کا تحریری قانونی ثبوت موجود ہونے پر خاص اس رقم پر جو عطیات یا زکوٰۃ کی مد میں دی گئی ہے، ٹیکس سے استثناء حاصل ہوتا ہے،یعنی یہ رقم آمدنی (Income) میں شمار نہیں ہوتی،چنانچہ اس رقم کا ٹیکس بھی ادا نہیں کرنا پڑتا۔

  1. ماہرینِ ٹیکس کی مشاورت سے اگر جھوٹ اور دھوکا دہی سے بچتے ہوئے ایسے قانونی راستے اختیار کیے جائیں جن کے نتیجے میں ٹیکس بچایا جاسکتا ہوتو ایسا کرنابھی جائز ہے،چنانچہ حضرت شیخ الاسلام مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں کہ؛

"سرکاری ٹیکسوں کی ادائیگی سے زکوٰۃ ادانہیں ہوتی،حکومت کو صرف ایسے ٹیکس لگانے چاہئیں جو عوام پر بار نہ بنیں، اگر حق و انصاف سے زائد ٹیکس لگائے گئے ہوں تو ان سے اخفاء (چھپاکر) کے ذریعہ نجات حاصل کرنا جائز ہے بشرطیکہ اس میں جھوٹ وغیرہ کا گناہ مول نہ لیاجائے"۔(فتاوی عثمانی،ج:۲،ص:۶۷)

  1. معاشرے میں موجود پسماندہ طبقات کی کفالت کا یہی ایک راستہ ہے کہ مالدار لوگ مستحقین زکوٰۃ تک خود اپنی زکوٰۃ پہنچائیں،اس لیے کہ اس کے علاوہ پسماندہ طبقات کی کفالت کا کوئی باقاعدہ ذریعہ نہیں ہے۔حکومت یا ریاست کا ایسا کوئی منصفانہ عملی نظام نہیں ہے، جس کے نتیجے میں معاشرے میں موجود پسماندہ طبقات کی کفالت کا باقاعدہ کوئی انتظام ہو،لہٰذا اگر ٹیکس کی ادائیگی کو زکوٰۃ کی ادائیگی مان لیاجائے تو یہ زکوٰۃ کے شرعی حکم کے خلاف ہونے کے ساتھ ساتھ، زکوٰۃ کے پاکیزہ نظام کی حکمت کے بھی خلاف ہوگا۔
  2. یہ بات سمجھنا بھی بہت اہم ہے کہ زکوٰۃ کتنے فیصد لازم ہوتی ہے؟پھر کن اموال پر لازم ہوتی ہے؟ اگر اس کا تفصیلی تجزیہ،ٹیکس اور دیگر اخراجات سے ہم کریں تو کل اموال میں سے انتہائی کم رقم ایسی ہے، جو زکوٰۃ کی مد میں عام طور پر لازم ہوتی ہے،چنانچہ بسا اوقات ہم اخراجات کرتے ہوئے ضرورت،آسائش،آرائش سے بھی زیادہ، بلاضرورت خرچ کر رہے ہوتے ہیں اور اس کے مقابلے میں زکوٰۃ کی رقم جو ذمے میں لازم ہورہی ہوتی ہے، وہ انتہائی کم ہوتی ہے،چنانچہ فقط اموالِ زکوٰۃ کا ڈھائی فیصد زکوٰۃ کی مد میں لازم ہوتا ہے،لہٰذا خوش دلی سے اسے ادا کرنا چاہیے،اس لیے کہ یہ بقیہ اموال میں بھی برکت کا سبب ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ یہ بات بالکل درست اور حقیقی ہے کہ پاکستان میں بالواسطہ اور بلا واسطہ ٹیکسوں کی شرح بنسبت حکومت اور ریاست کی طرف سے ملنے والی سہولیات کے مقابلے میں کافی زیادہ ہے اور منصفانہ عملی نظام نہ ہونے کی وجہ سے معاشرہ میں ٹیکسز کے حوالے سے خدشات اور شدید اضطراب پایا جاتا ہے، لیکن اس کا حل یہ نہیں ہے کہ ہم اس کی وجہ سے زکوٰۃ کی مد میں معاشرے کے کمزور طبقات کی جو کفالت جاری ہے،اسے متاثر کریں بلکہ ہمیں تمام آئینی اور قانونی راستے استعمال کرتے ہوئے ٹیکسز کے نظام میں بہتری لانے کی کوشش کرنی چاہیے اور خوش دلی سے اموالِ زکوٰۃ کی ادائیگی مستحقین زکوٰۃ کو کرنی چاہیے۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 289)

مطلب فيما لو صادر السلطان جائرا فنوى بذلك أداء الزكاة إليه :

قال في التنجيس والولوالجية: السلطان الجائر إذا أخذ الصدقات قيل إن نوى بأدائها إليه الصدقة عليه لا يؤمر بالأداء ثانيا؛ لأنه فقير حقيقة.

ومنهم من قال: الأحوط أن يفتى بالأداء ثانيا كما لو لم ينو لانعدام الاختيار الصحيح، وإذا لم ينو منهم من قال يؤمر بالأداء ثانيا. وقال أبو جعفر: لا لكون السلطان له ولاية الأخذ فيسقط عن أرباب الصدقة، فإن لم يضعها موضعها لا يبطل أخذه وبه يفتى، وهذا في صدقات الأموال الظاهرة.

أما لو أخذ منه السلطان أموالا مصادرة[أخذ السلطان مال الغيرجبرا  بغير عوض] ونوى أداء الزكاة إليه، فعلى قول المشايخ المتأخرين يجوز. والصحيح أنه لا يجوز وبه يفتى؛ لأنه ليس للظالم ولاية أخذ الزكاة من الأموال الباطنة. اهـ.

أقول: يعني وإذا لم يكن له ولاية أخذها لم يصح الدفع إليه وإن نوى الدافع به التصدق عليه لانعدام الاختيار الصحيح، بخلاف الأموال الظاهرة؛ لأنه لما كان له ولاية أخذ زكاتها لم يضر انعدام الاختيار ولذا تجزيه سواء نوى التصديق عليه أو لا.

هذا، وفي مختارات النوازل: السلطان الجائر إذا أخذ الخراج يجوز، ولو أخذ الصدقات أو الجبايات أو أخذ مالا مصادرة إن نوى الصدقة عند الدفع قيل يجوز أيضا وبه يفتى، وكذا إذا دفع إلى كل جائر نية الصدقة؛ لأنهم بما عليهم من التبعات[الحقوق] صاروا فقراء ،والأحوط الإعادة اهـ وهذا موافق لما صححه في المبسوط، وتبعه في الفتح، فقد اختلف التصحيح والإفتاء في الأموال الباطنة إذا نوى التصدق بها على الجائر وعلمت ما هو الأحوط.

قلت: وشمل ذلك ما يأخذه المكاس؛ لأنه وإن كان في الأصل هو العاشر الذي ينصبه الإمام، لكن اليوم لا ينصب لأخذ الصدقات بل لسلب أموال الناس ظلما بدون حماية فلا تسقط الزكاة بأخذه كما صرح به في البزازية.فإذا نوى التصديق عليه كان على الخلاف المذكور (قوله: لأنهم بما عليهم إلخ) علة لقوله قبله الأصح الصحة، وقوله بما عليهم تعلق بقوله فقراء (قوله: حتى أفتي) بالبناء للمجهول، والمفتي بذلك محمد بن سلمة، وأمير بلخ هو موسى بن عيسى بن ماهان والي خراسان سأله عن كفارة يمينه فأفتاه بذلك، فجعل يبكي ويقول لحشمه إنهم يقولون لي ما عليك من التبعات فوق ما لك من المال فكفارتك كفارة يمين من لا يملك شيئا.قال في الفتح: وعلى هذا لو أوصى بثلث ماله للفقراء فدفع إلى السلطان الجائر سقط، ذكره قاضي خان في الجامع الصغير. وعلى هذا فإنكارهم على يحيى بن يحيى تلميذ مالك حيث أفتى بعض ملوك المغاربة في كفارة عليه بالصوم غير لازم، لجواز أن يكون للاعتبار المذكور لا لكون الصوم أشق عليه من الإعتاق، وكون ما أخذه خلطه بماله بحيث لا يمكن تمييزه فيملكه عند الإمام غير مضر لاشتغال ذمته بمثله، والمديون بقدر ما في يده فقير اهـ ملخصا.

قلت: وإفتاء ابن سلمة مبني على ما صححه في التقرير من أن الدين لا يمنع التكفير بالمال، أما على ما صححه في الكشف الكبير وجرى عليه الشارح فيما مر تبعا للبحر والنهر فلا (قوله: لم تقع زكاة) في بعض النسخ لم تصح زكاة، وعزا هذا في البحر إلى المحيط.

ثم قال: وفي مختصر الكرخي إذا أخذها الإمام كرها فوضعها موضعها أجزأ؛ لأن له ولاية أخذ الصدقات فقام أخذه مقام دفع المالك. وفي القنية: فيه إشكال؛ لأن النية فيه شرط ولم توجد منه. اهـ.

قلت: قول الكرخي فقام أخذه إلخ يصلح للجواب تأمل. ثم قال في البحر: والمفتى به التفصيل إن كان في الأموال الظاهرة يسقط الفرض؛ لأن للسلطان أو نائبه ولاية أخذها، وإن لم يضعها موضعها لا يبطل أخذه وإن كان في الباطنة فلا. اهـ. (قوله: وفي التجنيس) في بعض النسخ لكن بدل الواو وهو استدراك على ما في المبسوط وقد أسمعناك آنفا ما في التجنيس.

وقد يدعي عدم المخالفة بينهما بحمل ما في التنجيس على ما إذا دفع إلى السلطان مال المكس أو المصادرة ونوى به كونه زكاة ليصرفه السلطان في مصارفه ولم ينو بذلك التصدق به على السلطان، ويؤيد هذا الحمل قوله؛ لأنه ليس له ولاية أخذ الزكاة من الأموال الباطنة فلا ينافي ذلك قول المبسوط الأصح أن ما يأخذه ظلمة زماننا من الجبايات والمصادرات يسقط عن أرباب الأموال إذا نووا عند الدفع التصدق عليهم؛ لأنهم بما عليهم من التبعات فقراء فليتأمل (قوله: بماله) متعلق بخلط، وأما لو خلطه بمغصوب آخر فلا زكاة فيه كما يذكره في قوله كما لو كان الكل خبيثا (قوله: لأن الخلط استهلاك) أي بمنزلته من حيث إن حق الغير يتعلق بالذمة لا بالأعيان ط.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 310)

مطلب لا تسقط الزكاة بالدفع إلى العاشر في زماننا ثم قال: واعلم أن بعض فسقة التجار يظن أن ما يؤخذ من المكس يحسب عنه إذا نوى به الزكاة وهذا ظن باطل.لا مستند له في مذهب الشافعي؛ لأن الإمام لا ينصب المكاسين لقبض الزكاة بل لأخذ عشورات مال وجدوه قل أو كثر وجبت فيه الزكاة أو لا اهـ وتمامه هناك.قلت: على أنه اليوم صار المكاس يقاطع الإمام بشيء يدفعه إليه ويصير يأخذ ما يأخذه لنفسه ظلما وعدوانا، ويأخذ ذلك ولو مر التاجر عليه أو على مكاس آخر في العام الواحد مرارا متعددة، ولو كان لا تجب عليه الزكاة فعلم أيضا أنه لا يحسب من الزكاة عندنا؛ لأنه ليس هو العاشر الذي ينصبه الإمام على الطريق ليأخذ الصدقات من المارين وقد مر أيضا أنه لا بد من شرط: أن يأمن به التجار من اللصوص، ويحميهم منهم وهذا يقعد على أبواب البلدة، ويؤذي التجار أكثر من اللصوص، وقطاع الطريق ويأخذه منهم قهرا ولذا قال في البزازية إذا نوى أن يكون المكس زكاة فالصحيح أنه لا يقع على الزكاة كذا قال الإمام السرخسي. اهـ.وأشار بالصحيح إلى القول بأنه إذا نوى عند الدفع التصدق على المكاس جاز؛ لأنه فقير بما عليه من التبعات وقد مر الكلام عليه.

محمد حمزہ سلیمان

دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

27.رجب1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب