03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
پاکستان مرکنٹائل ایکسچینج میں میں ٹریڈنگ کا حکم
89831خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

میرا سوال یہ ہے کہ پاکستان مرکنٹائل ایکسچینج میں ہم انویسٹمنٹ کر سکتے ہیں؟کیا پاکستان مرکنٹائل ایکسچینج شریعہ کمپلائنٹ ہے اور کیا اس میں ٹریڈنگ جائز ہے ؟کن صورتحال میں ٹریڈنگ جائز ہے اور کن صورتحال میں ٹریڈنگ ٹھیک نہیں ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پاکستان مرکنٹائل ایکسچینج کی ہیلپ لائن اور بنکنگ سیکٹرکے بعض شریعہ ایڈوائزرز سے جو معلومات حاصل ہوئیں  اس کی روشنی میں پاکستان مرکنٹائل ایکسچینج میں ہونے والی موجودہ ٹریڈ میں کئی طرح کی شرعی خرابیاں پائی جاتی ہیں:

۱:خریدی جانے والی چیزپرنہ حسی   قبضہ دیا جاتا ہےاور نہ   حکمی ،یعنی مبیع کو معین نہیں کیا جاتا کہ اسے تخلیہ سمجھا جاسکے ۔ البتہ سونے میں اس شرط کے ساتھ قبضہ دیاجاتا ہے کہ کم سے کم سے دس تولہ ہواور انویسٹر کراچی میں ہو ،لیکن فی الحال اس کی  بھی شرعی نگرانی کا کوئی انتظام موجود نہیں ہے۔ باقی اشیاء میں نہ حسی قبضہ دیا جاتا ہے نہ حکمی، بلکہ اس میں مقصود صرف قیمتوں کے فرق کو برابر کرنا ہوتا ہے،جسے کیش سیٹلمنٹ ((settlementکہاجاتاہے۔

۲:اور نہ یہ چیزیں  عقد بیع کے وقت یقینی طور پرموجود ہوتی ہیں ،بلکہ معدوم اور غیر مملوک کی بیع ہو رہی ہوتی ہے جو کہ ناجائز ہے۔

۳: پھر اس میں مستقبل ((future saleبھی ہوتی ہے، جس میں   مقصود  صرف مستقبل میں قیمت کی بنیاد پر نفع و نقصان کو برابر کرنا ہوتا ہے ۔یعنی اگر آج آپ نے ایک ہزار کی گندم خریدی اور کل گندم کی قیمت میں اضافہ ہوکر ہزار سے بارہ سو ہو جائے تو آپ کونفع ہوجائےگا۔اوراس موقع پرمبیع کےتبادلےکی بجائےصرف فرق کو برابر کر کے دوسو روپے آپ کو دیدیے جائیں گے،جو کہ قمار( سٹہ بازی)  کے زمرے میں آتا ہے ۔

لہذا ان وجوہات کی بناء پر  اس طرح کی ٹریدنگ اورانویسٹمنٹ کرنا ناجائزہےاوراس سے حاصل ہونےوالی آمدن بھی حرام ہے۔

البتہ پاکستان مرکنٹائل ایکسچینج اپنی پروڈکٹ کو شریعہ کمپلائنٹ کرنے کے سلسلے میں کوشش کر رہی ہے اور فی الوقت اس پر کام بھی جارہی ہے ،چناچہ اگر مستقبل میں پاکستان مرکنٹائل ایکسچینج اپنی پروڈکٹ کو شرعی معیارات پرڈھال لیتی ہے تو پھر اس میں ٹریڈنگ جائز ہو گی۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية(3/16):

وفي فتاوى الفضلي إذا قال لغيره بعت منك هذه السلعة وسلمتها إليك ،فقال ذلك الغيرقبلت لم يكن هذا تسليما حتى يسلمه بعدالبيع كذا في المحيط.

بدائع الصنائع(5/147):

ومنها:وهو شرط انعقاد البيع للبائع أن يكون مملوكا للبائع عندالبيع فإن لم يكن لا ينعقد، وإن ملكه بعد ذلك بوجه من الوجوه إلا السلم خاصة، وهذا بيع ما ليس عنده،ونهى رسول الله صلي الله  عليه وسلم عن بيع ما ليس عند الإنسان، ورخص في السلم.

 المبسوط للسرخسی(13/8):

والكلام في بيع المبيع قبل القبض في فصول :أحدها: في الطعام فإنه ليس لمشتري الطعام أن يبيعه قبل أن يقبضه، لما روي أن النبي صلى الله عليه وسلم ''نهى عن بيع الطعام قبل أن يقبض ''وكذلك ما سوى الطعام من المنقولات لا يجوز بيعه قبل القبض عندنا، وقال مالك يجوز؛ لأن النبي صلى الله عليه وسلم خص الطعام بالذكر عند النهي فذلك دليل على أن الحكم فيما عداه بخلافه، وإلا فليس لهذا التخصيص فائدة .وحجتنا ما روي عن النبي صلى الله عليه وسلم :أنه نهى عن بيع ما لم يقبض.

بدائع الصنائع(5/245):

ولا يجوز بيع المبيع المنقول قبل قبضه بتمامه كما لا يجوز قبل قبضه أصلا ورأسا.

محمدوجیہ الدین

دارالافتاءجامعہ الرشیدکراچی

22/رجب المرجب /4714ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد وجیہ الدین بن نثار احمد

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب