| 89839 | متفرق مسائل | متفرق مسائل |
سوال
بنی اسرائیل میں ایک شخص جس کا نام "کفل" بتایا جاتا ہے،ان کے توبہ کے متعلق کچھ عجیب واقعات سنائے جاتے ہیں،براہ کرم اس کے متعلق صحیح واقعہ بتا کر ممنون فرمائیں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بنی اسرائیل کے کفل نامی شخص کی توبہ کا صحیح واقعہ جو حدیث نبوی میں مذکورہے درج ذیل ہے :
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ سے ایک حدیث سنی ہے اگر میں نے اسے ایک یا دو بار سنی ہوتی یہاں تک کہ سات مرتبہ شمار کیا تو میں اسے تم سے بیان نہ کرتا، لیکن میں نے اسے اس سے زیادہ مرتبہ سنا ہے، آپ ﷺ فرما رہے تھے:
بنی اسرائیل میں کفل نامی ایک شخص تھا جو کسی گناہ کے کرنے سے پرہیز نہیں کرتا تھا، چنانچہ اس کے پاس ایک عورت آئی، اس نے اسے ساٹھ دینار اس لیے دیے کہ وہ اس سے بدکاری کرے گا، لیکن جب وہ اس کے آگے بیٹھا جیسا کہ مرد اپنی بیوی کے آگے بیٹھتا ہے تو وہ کانپ اٹھی اور رونے لگی، اس شخص نے پوچھا: تم کیوں روتی ہو کیا میں نے تمہارے ساتھ زبردستی کی ہے؟ وہ بولی: نہیں، لیکن آج میں وہ کام کر رہی ہوں جو میں نے کبھی نہیں کیا اور اس کام کے کرنے پر مجھے سخت ضرورت نے مجبور کیا ہے، چنانچہ اس نے کہا: تم ایسا غلط کام کرنے جا رہی ہو جسے تم نے کبھی نہیں کیا، اس لیے تم جاؤ، وہ سب دینار بھی تمہارے لیے ہیں، پھر اس شخص نے کہا: اللہ کی قسم! اب اس کے بعد میں کبھی بھی اللہ کی نافرمانی نہیں کروں گا، پھر اسی رات میں اس کا انتقال ہو گیا، چنانچہ صبح کو اس کے دروازے پر لکھا ہوا تھا 'بے شک اللہ تعالیٰ نے کفل کو بخش دیا'۔
حوالہ جات
سنن التر مذی ،2496) رقم الحدیث (وھکذا فی جامع الادیث ،246/15)ص(
حدثنا عبيد بن أسباط بن محمد القرشي حدثنا أبي حدثنا الأعمش عن عبد الله بن عبد الله الرازي عن سعد مولى طلحة عن ابن عمر قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يحدث حديثا لو لم أسمعه إلا مرة أو مرتين حتى عد سبع مرات ولكني سمعته أكثر من ذلك سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول كان الكفل من بني إسرائيل لا يتورع من ذنب عمله فأتته امرأة فأعطاها ستين دينارا على أن يطأها فلما قعد منها مقعد الرجل من امرأته أرعدت وبكت فقال ما يبكيك أأكرهتك قالت لا ولكنه عمل ما عملته قط وما حملني عليه إلا الحاجة فقال تفعلين أنت هذا وما فعلته اذهبي فهي لك وقال لا والله لا أعصي الله بعدها أبدا فمات من ليلته فأصبح مكتوبا على بابه إن الله قد غفر للكفل.
قال أبو عيسى هذا حديث حسن قد رواه شيبان وغير واحد عن الأعمش نحو هذا ورفعوه وروى بعضهم عن الأعمش فلم يرفعه وروى أبو بكر بن عياش هذا الحديث عن الأعمش فأخطأ فيه وقال عن عبد الله بن عبد الله عن سعيد بن جبير عن ابن عمر وهو غير محفوظ وعبد الله بن عبد الله الرازي هو كوفي وكانت جدته سرية لعلي بن أبي طالب وروى عن عبد الله بن عبد الله الرازي عبيدة الضبي والحجاج بن أرطأة وغير واحد من كبار أهل العلم). أبواب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله ﷺ، باب فضل كلي قريب هين سهل ضعيف(
سلیم اصغر بن محمد اصغر
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
22/رجب الرجب1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سلیم اصغر بن محمد اصغر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


