| 89870 | زکوة کابیان | زکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان |
سوال
ایک عورت کے پاس گزشتہ پانچ سالوں سے ایک تولہ سونا موجود ہے، اور اس دوران عورت کے پاس مختلف اوقات میں کچھ نقدی رقم مثلا دو ،تین ہزار روپے موجود ہوتی رہی... کیا اب اس عورت پر زکوٰۃ واجب ہے یا نہیں ؟ نیز مذکورہ بالا مسئلہ میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا قول "ضم بالقیمتہ "کے بجائے صاحبین رحمہما اللہ کے قول" ضم بالاجزاء "پر عمل کرنا کیسا ہے؟ جس طرح کے بعض مدارس فتوی بھی دیتے ہیں
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر زکاۃ کی تاریخ میں مال صرف سونے کی صورت میں ہو تو زکاۃ واجب ہونے کے لیے اس کا نصاب ساڑھے سات تولے سونا ہونا ضروری ہے، البتہ اگر اس کے ساتھ نقدی رقم بھی باقی ہو اور سونا اور نقدی دونوں کو ملا کر ان کی مجموعی قیمت ساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زائد ہوجائے، تو اس پوری قیمت کا اڑھائی فیصد بطورِ زکاۃ ادا کرنا واجب ہوگا۔
اب جتنے سال زکاۃ کے حساب کی تاریخ میں نقدی موجود رہی، اتنے سال کی زکاۃ اس پر لازم ہوگی۔ البتہ دوسرے اور اس کے بعد کے ہر سال کی زکاۃ ادا کرتے وقت پچھلے سال کی واجب الادا زکاۃ کی رقم منہا کر کے باقی مال پر زکاۃ کاحساب کیاجائےگا۔
اور ہمارے یہاں سے امام صاحب کے قول "ضم بالقیمۃ " پر فتوی دیاجاتا ہے ۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 260)
فلو كان له نصاب حال عليه حولان ولم يزكه فيهما لا زكاة عليه في الحول الثاني.
الفتاوى الهندية (1/ 179)
وتضم قيمة العروض إلى الثمنين والذهب إلى الفضة قيمة كذا في الكنز. حتى لو ملك مائة درهم خمسة دنانير قيمتها مائة درهم تجب الزكاة عنده خلافا لهما.
الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 95)
الزكاة واجبة على الحر العاقل البالغ المسلم إذا ملك نصابا ملكا تاما وحال عليه الحول.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 259)
وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول لحولانه عليه (تام).
محمد امداداللہ بن مفتی شہیداللہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
19/رجب/1447
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | امداد الله بن مفتی شہيد الله | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


