| 89858 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
میر اسوال گروپ بائے ٹولز (Group Buy Tools) سروس کے استعمال سے متعلق ہے ۔ یہ سروس آن لائن کام میں استعمال ہونے والے سافٹ ویئرز کوسستے ریٹ پر مہیا کرتی ہے۔ ان کا طریقہ کار یہ ہے کہ یہ ان سافٹ ویئرز کو خرید کر یا کسی اور طریقے سے حاصل کرکے ، اس اکاؤنٹ کو آگے کم پیسوں میں شیئر کرتے ہیں۔ اگرا کاؤنٹ کو ڈائریکٹ شیئر کر دیں تو کمپنی بلاک کر سکتی ہے۔ اس کے لیے ایک اور سافٹ ویئر کے ذریعے اس اکاؤنٹ کو شیئر کرتے ہیں، جہاں پر کلک کر کے اس کمپنی کے سافٹ ویئر کی ایکسیس (Access) مل جاتی ہے۔ چونکہ اصل کمپنی اکاؤنٹ شیئر نگ کی اجازت نہیں دیتی ، اس لیے پتہ چلنے پر وہ اکاؤنٹ کو بلاک تو کر دیتے ہیں لیکن عام طور پر قانونی کارروائی نہیں کرتے۔ میرا سوال خصوصاً سیم رش (SemRush) سافٹ ویئر کے استعمال کے بارے میں ہے۔ یہ سافٹ ویئر آفیشل کمپنی کی ویب سائٹ پر ہزاروں روپے ماہانہ ہے لیکن گروپ بائے ٹولز سروس کے ذریعے 400 روپے ماہانہ میں مل جاتا ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ پائیریٹڈ سافٹ ویئر سے مختلف اس طرح ہے کہ سافٹ ویئر کو عام طور پر ڈاؤنلوڈ نہیں کرنا پڑتا بلکہ سافٹ ویئر کمپنی کی ویب سائٹ پر ہی استعمال کیا جاتا ہے ، بس اکاؤنٹ شیئر نگ کی تکنیک کو استعمال کیا جاتا ہے۔ ذیل میں آپ کے دارالافتاء کے اس سوال سے ملتے جلتے فتوی لکھ رہا ہوں، برائے مہربانی ان کی روشنی میں رہنمائی فرمادیں۔ جزاک اللہ ۔
متعلقہ فتوی کا متن: سوال: میں میکینکل انجینئر نگ کر رہا ہوں۔ اس میں D3 ماڈلنگ سافٹ وئیر استعمال ہوتے ہیں ،جن کے لائسنس بہت مہنگے ہوتے ہیں۔ کیا سیکھنے کے لیے پائیریٹڈ کاپی استعمال کی جاسکتی ہے ؟ اگر سیکھنا فری لانسنگ کے لیے ہو اور بعد میں فری لانسنگ کرتے وقت کمر شل کاپی خریدیں تو یہ جائز ہے ؟ نیز ا گر سیکھنا جاب اسکل ڈیویلپمنٹ یعنی سی دی بہتر بنانے کے لیے ہو تو کیا حکم ہو گا ؟
جواب : ذاتی استعمال کی حد تک سافٹ وئیر کے" کاپی رائٹ"کے قوانین کا شرعا اعتبار نہیں ہے ۔ لہذا سوال میں مذکور صورت میں آپ کے لیے ان سافٹ وئیرز کی پائیر ٹینڈ کا پی اپنے ذاتی استعمال میں رکھنا شرعاً جائز ہے۔ نیز سیکھنے کے بعد اگر فری لانسنگ کرنے میں استعمال کریں تو وہ بھی شرعاً جائز ہے۔
آپ میرے سوال سے متعلق درج بالا فتوے کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مختلف ویب سائٹس پر موجود معلومات کے مطابق Group by SEO Tools آن لائن مارکیٹنگ کی فیلڈ میں ایک سستا متبادل ہے۔ یہ مہنگے SEO سافٹ ویئرزیادیگرسافٹ ویئرز کو کم قیمت پر حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔اس کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ Group by SEO Tools مختلف قسم کےسافٹ ویئرز جیسے Semrush، Ahrefs، Moz کا ایک اکاؤنٹ خرید لیتےیعنی سبسکرپشن لے لیتے ہیں،اورپھر اسے دیگر افراد یا کمپنیز کو کم قیمت میں اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے سے متعلقہ سافٹ ویئر تک رسائی دیتے ہیں،اس طرح ایک سے زائد یوزر اسے استعمال کرتے ہیں، اس کے نتیجے میں ہر فرد کو مکمل قیمت ادا کرنے کے بجائے معمولی رقم ادا کرکے متعلقہ سافٹ ویئر تک رسائی مل جاتی ہے،مثلاً $179 ماہانہ کی بجائے صرف $20 تا $50۔
ہماری معلومات کے مطابقSemrush ، Group Buy Toolsکے ذریعےایک اکاؤنٹ سے،ایک سے زائد یوزرز کو اپنی سروسز تک رسائی (Access)کی اجازت نہیں دیتا، اور ایسا کرنا ان کی شرائطِ استعمال (Terms of Service) کی صریح خلاف ورزی ہے۔تفصیلی شرائط و ضوابط کے لیےدرج ذیل لنک ملاحظہ ہو،اس میں صراحتا مذکورہ ایکٹیوٹیز سے منع کیا گیا ہے؛
https://www.semrush.com/company/legal/terms-of-service/
چنانچہ ایک سے زائد اکاؤنٹس کا بلااجازت استعمال غیر مجاز تصور کیا جاتا ہے، اور Semrush ان اکاؤنٹس کی نشاندہی اور انہیں معطل کرنے کے لیے باقاعدہ مسلسل اقدامات کرتا ہے۔خاص طور پر وہ اس بات کو سختی سے منع کرتا ہے کہ اس کی سروسز کو تیسرے فریق کے لیے کمرشل بنیادوں پر ٹائم شیئرنگ، ڈیٹا پروسیسنگ یا آؤٹ سورسنگ کے ذریعے فراہم کیا جائے۔اگر Semrush کو یہ معلوم ہو جائے کہ ایک ہی اکاؤنٹ مختلف مقامات، ڈیوائسز یا آئی پی ایڈریسز سے بار بار استعمال ہو رہا ہے (جو کہ Group by Tools کا طریقہ ہے)، تو وہ فوری طور پر اس اکاؤنٹ کو معطل یا ختم کر دیتاہے۔نیزGroup by Toolsیا اس جیسی کسی کمپنی کے اکاؤنٹ کو استعمال کرنے میں آپ کے اپنے پراجیکٹس، ریسرچ کی ورڈ اور آپ کی تمام تر ایکٹیوٹیز دیگر صارفین کے لیے بھی قابلِ رسائی ہوتی ہیں،جس کی وجہ سے آپ کے ڈیٹا کے ساتھ ساتھ آپ کے اپنے کلائنٹس کی معلومات وغیرہ بھی غیر محفوظ ہوجاتی ہیں،کیوں کہ اس طرح کے استعمال پر Semrush کی طرف سے کسی قسم کی کوئی سپورٹ، ڈیٹا کی حفاظت وغیرہ سے متعلق نہیں دی جاتی اور بسا اوقات یہ بہت بڑے ضرر کا سبب بھی بن جاتا ہے،چنانچہ کسی اور کمپنی کی طرف سے حاصل کی گئی سبسکرپشن کے ذریعے ایسے سافٹ ویئرز کو استعمال کرنے کے بجائے، براہ راست Semrush وغیرہ سے سبسکرپشن لے کر اسے استعمال کیا جائے تاکہ Semrush کے مالکان کو بھی ضرر نہ ہو اور آپ خود بھی اور آپ کے کلائنٹس بھی ضرر سے محفوظ رہ سکیں۔
بہرحال جیسا کہ آپ نے سوال میں بھی صراحت کی ہے اور انٹرنیٹ پر دستیاب معلومات کے مطابق بھی Semrush کمپنی اپنا سافٹ ویئر باقاعدہ بیچتی نہیں ہے بلکہ بالعوض سبسکرپشن دیتی ہے،یعنی سبسکرائب کرنے والے کو ایک متعین مدت تک طے شدہ خدمات سے استفادے کی سہولت بالعوض فراہم کرتی ہے،شریعت کی اصطلاح میں ایسے معاملے کو "اجارہ" کہتے ہیں۔
عقد اجارہ میں مستاجر(Lessee) کے لیے یہ جائز نہیں ہوتا کہ وہ مالک (Lessor) کی اجازت کے بغیر مزید لوگوں کو اجارے پر دے، یعنی مزید لوگوں کو اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے رسائی دے تاکہ وہ اس سافٹ ویئر وغیرہ سےاستفادہ کرسکیں،اس لیے کہ سبسکرپشن کی صورت میں سبسکرائبر کو فقط خود استفادے کی اجازت ہوتی ہے،اُسے یہ اجازت نہیں ہوتی کہ وہ کوئی بھی ایسا طریقہ اختیار کرے ،جس کے نتیجے میں سبسکرائب کیے گئے سافٹ ویئر کی نقل تیار ہو یا دیگر لوگوں کو بھی غیر مجوزہ طریقے سے رسائی حاصل ہو،لہٰذا مذکورہ صورت میں باوجود یہ معلوم ہوتے ہوئے کہ Group by Tools نے Semrush سے سافٹ ویئر خریدا نہیں ہے بلکہ صرف سبسکرپشن لی ہے، Group by Tools کے ذریعے Semrush تک رسائی حاصل کرنا جائز نہیں ہے،اس سے اجتناب لازم ہے۔
رہی بات سوال میں ذکر کیے گئے فتوی کی تو اس حوالے سے تفصیل یہ ہے کہ سافٹ ویئرز کے کاپی رائٹ کے قوانین حقوق کی مالیت کی رائےپر مبنی ہے اور یہ رائےاتفاقی نہیں،بلکہ ابتداء سے معتبر اہل علم کا اس حوالے سے اختلاف رہا ہے،چنانچہ معتبر اہل علم کے ایک طبقے کےہاں کتابوں کے حق تالیف کو محفوظ کرنے کا بھی شرعاً کوئی اعتبار نہیں،حالانکہ سافٹ ویئرز کی بنسبت کتاب خریدنا عام لوگوں کے لیے آسان ہے،جبکہ اس کے بالمقابل سافٹ ویئرز کے کاپی رائٹ کے قوانین کے تحت مالکان ایک ایک سافٹ ویئر کی اتنی زیادہ قیمت مقرر کرتے ہیں کہ انہیں خریدنا ایک عام آدمی کے بس میں نہیں رہتا،اس لیے ان قوانین کا اعتبار کرنا ایک بڑے طبقے کو علم و فن سے محروم کرنے اور بڑی بڑی کمپنیوں کی اجارہ داری قائم رکھنے کے مترادف ہے،اس لیے ذاتی استعمال کی حد تک سافٹ ویئرز کے کاپی رائٹ کے قوانین کا شرعاً اعتبار نہیں،اوریہ مصلحتِ عامہ اور حقوق مجردہ کی مالیت متفق علیہ نہ ہونے کا مشترکہ تقاضا ہے،لہٰذا اس طرح کے سافٹ وئیرز جنہیں باقاعدہ کسی نے خریدا ہو اور پھر اس کا پائریٹڈ(Pirated) یا کریکڈ(Cracked) ورژن تیار کیا ہو تو اسے استعمال کرنے اوران پر کام کرکے پیسے کمانے کی گنجائش معلوم ہوتی ہے،تاہم اگر کوئی شخص ایسے سافٹ ویئرز کو بھی براہ راست اصل کمپنی سےخرید کر استعمال کرنے کی استطاعت رکھتا ہو تو اس کے لیے خرید کر استعمال کرنا ہی زیادہ بہتر ہے۔
واضح رہے کہ آپ کے سوال کا تعلق سبسکرپشن یعنی اجارے والی صورت سے ہے لہٰذا اس صورت میں تو ذاتی استعمال کے لیے بھی براہ راست یا بالواسطہ اصل کمپنی سے سبسکرپشن حاصل کرنا ضروری ہے،بصورت دیگراس کااستعمال ناجائز ہے،جبکہ جو فتویٰ آپ نے ذکر کیا ہے اس کا تعلق بیع یعنی خریدوفروخت والی صورت سے ہے اور اس حوالے سے تفصیل اوپرذکر کردی ہے۔
حوالہ جات
https://www.groupbuyseotools.org.
https://www.semrush.com/company/legal/terms-of-service/
المعايير الشرعية: (ص:243)
3/3:يجوز لمن استأجر عينا أن يؤجرها لغير المالك بمثل الأجرة أو بأقل أو بأكثر بأجرة حالة أومؤجلة (وهو ما يسمى التأجير من الباطن) مالم يشترط عليه المالك الامتناع عن الإيجار للغير أو الحصول على موافقة منه.
المحیط البرهاني في الفقه النعماني (7/ 429) دار الكتب العلمية، بيروت:
الفصل السابع: في إجارة المستأجر: قال محمد رحمه الله: وللمستأجر أن يؤاجر البيت المستأجر من غيره، فالأصل عندنا: أن المستأجر يملك الإجارة فيما لا يتفاوت الناس في الانتفاع به؛ وهذا لأن الإجارة لتمليك المنفعة والمستأجر في حق المنفعة قام مقام الآجر،وكما صحت الإجارة من الآجر تصح من المستأجر أيضاً فإن أجره بأكثر مما استأجره به من جنس ذلك ولم يزد في الدار شيء ولا أجر معه شيئاً آخر من ماله مما يجوز عند الإجارة عليه، لا تطيب له الزيادة عند علمائنا رحمهم الله وعند الشافعي تطيب له الزيادة.
۱۱۷ – تنبيه(فقہ البیوع،ج:۱،ص:۲۸۶)
وبالجملة، فالراجح عندنا، والله سبحانه أعلم، أن حق الابتكار والتأليف حق معتبر شرعاً، فلا يجوز لأحد أن يتصرف في هذا الحق بدون إذن من المبتكر أو المؤلف. وينطبق ذلك على حقوق برامج الكمبيوتر أيضا. ولكن التعدي على هذا الحق إنما يتصور إذا أنتج أحد مثل ذلك المنتج أو الكتاب أو البرنامج بشكل واسع للتجارة فيه، أو بقصد الاسترباح. أما إذا صوره لاستعماله الشخصي، أو ليهبه إلى بعض أصدقاءه بدون عوض، فإن ذلك ليس من التعدى على حق الابتكار، فما توغل فيه نشرة الكتب ومنتجو برامج الكمبيوتر من منع الناس من تصوير الكتاب، أو قرص الكمبيوتر، أو جزء منه الاستفادة شخصية، وليس للتجارة، فإنه لا مبررله أصلا. وهذا ما ينطبق عليه أن مالك الكتاب أو القُرص يملك ماشاء فيه من التصرفات للاستفادة الشخصية، وليس للمنتج أن يمنعه منها. وإنما الممنوع أن يُنتج مثلها بقصد الاسترباح والتجارة فيه بدون إذن منه. والله سبحانه وتعالى أعلم. (
"رد المحتار" (4/ 518):
"مطلب: لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة (قوله: لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة عن الملك) قال: في البدائع: الحقوق المفردة لا تحتمل التمليك ولا يجوز الصلح عنها. أقول: وكذا لا تضمن بالإتلاف قال: في شرح الزيادات للسرخسي وإتلاف مجرد الحق لا يوجب الضمان؛ لأن الاعتياض عن مجرد الحق باطل".
قرارات وتوصيات مجمع الفقه الإسلامي (رقم:43،ص: 48)
مجلة مجمع الفقه الإسلامي (5/ 2095)
ثالثاً : حقوق التأليف والاختراع أو الابتكار مصونة شرعاً ، ولأصحابها حق التصرف فيها ، ولا يجوز الاعتداء عليها .
"العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية" (1/ 215):
"(أقول) ظاهر تقييد المؤلف الرجوع بالحيثية المذكورة أنه ليس له الرجوع لو قبل السلطان فراغه وقرره وحاصل ما ذكره السيد أحمد الحموي محشي الأشباه أن بعضهم قال لا يجوز الاعتياض عن الوظائف بالمال؛ لأنه رشوة وأن العلامة نور الدين علي ا المقدسي في شرحه على نظم الكنز استخرج صحة ذلك من فرع ذكره السرخسي في مبسوطه وذكره ثم ذكر عن شرح المنهاج للشمس الرملي عن والده أنه أفتى بصحة ذلك أيضا وحاصل ما في الفتاوى الخيرية أنه لا يصح وأفتى به مرارا قال؛ لأن القائل بجوازه بناه على اعتبار العرف الخاص والمذهب عدم اعتباره وقد قال العلامة المقدسي أي في حاشيته على الأشباه الفتوى على عدم جواز الاعتياض عن الوظائف؛ لأنه حق مجرد فلا يجوز الاعتياض عنه كالاعتياض عن حق الشفعة اهـ".
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
29.رجب1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


