03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کال پرایجاب وقبول سے نکاح کاحکم
89873نکاح کا بیاننکاح صحیح اور فاسد کا بیان

سوال

کال پرایجاب وقبول سے نکاح کاحکم

میری ایک  لڑکی سے محبت ہے ہم عرصے سے کال کے ذریعے آپس میں باتیں کرتے تھے میں نے ایک دن اس سے کہاکہ نکاح کرتے ہیں ،میں نے کہاکہ آپ کو میرارشتہ قبول ہے تو اس نے کہا:جی قبول ہے،کیااس طرح  کال پرایجاب وقبول سے نکاح ہوجائے گا ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں چونکہ ایجاب و قبول کی مجلس متحد نہیں، اس لیے کہ لڑکا ایک جگہ موجود ہے اور لڑکی دوسری جگہ پر، نیز مجلسِ عقد میں گواہوں کی موجودگی بھی نہیں پائی جاتی، لہٰذا محض کال کے ذریعے کیا گیا یہ نکاح شرعاً منعقد نہیں ہوگا۔ نکاح کے منعقد ہونے کے لیے یہ شرط ہے کہ ایجاب و قبول ایک ہی مجلس میں ہو اور گواہ بھی اسی مجلس میں موجود ہوں۔نیز  اگر لڑکا لڑکی کا کفو  نہ ہو توبھی نکاح منعقد نہیں ہوگا۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (3/ 14):

فلو اختلف المجلس لم ينعقد... ولو عقدا وهما يمشيان أو يسيران على الدابة لا يجوز، وإن كان على سفينة سائرة جاز،لأن السفينة في حكم مكان واحد.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية ( 269-267/1):

(وأما شروطه)(ومنها) أن يكون الإيجاب والقبول في مجلس واحد...وكذا إذا كان أحدهما غائبا لم ينعقدحتى لو قالت امرأة بحضرة شاهدين زوجت نفسي من فلان وهو غائب فبلغه الخبر فقال: قبلت، أو قال رجل بحضرة شاهدين: تزوجت فلانة وهي غائبة فبلغها الخبر فقالت زوجت نفسي منه لم يجز وإن كان القبول بحضرة ذينك الشاهدين .

الهداية في شرح بداية المبتدي(1/ 185):

ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضورشاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين رجلين أو رجل وامرأتين عدولا كانوا أو غير عدول أو محدودين في القذف.

حاشية ابن عابدين=ردالمحتارط الحلبي(3/ 56):

(ويفتى) في غير الكفء(بعدم جوازه أصلا) وهوالمختار للفتوى (لفساد الزمان).

 عزیزالرحمن

  دار الافتاءجامعۃ الرشید کراچی

29/رجب المرجب /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عزیز الرحمن بن اول داد شاہ

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب