03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نیک اعمال میں نیت کرنا
89864ایمان وعقائدایمان و عقائد کے متفرق مسائل

سوال

نیک اعمال اللہ تعالیٰ کے قرب ومحبت کے لیے کیے جاتے ہیں،میرا دلی جذبہ یہ ہے کہ جتنی بھی نیکیاں ،حقوق اللہ اور حقوق العباد ہوں،صرف اللہ تعالیٰ کی محبت میں کی جائیں ،اس نیت سے نہ ہو کہ اگر میں کوئی نیک کام ، حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا نہیں کروں گا، تواللہ تعالیٰ میری پکڑ فرمایےگا اور مجھ پر عذاب آیےگا ۔اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ عقیدہ درست ہے کہ نیک اعمال ،حقوق اللہ اور حقوق العبادکی ادائیگی صرف اللہ تعالیٰ کی محبت میں کیے جائیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اہلِ علم اور فقہاء نے نیک اعمال کی نیت کے اعتبار سے تین درجے بیان کیے ہیں:

1۔    آدمی جہنم سے نجات اور جنت کے حصول کی امید میں عبادت کرے۔ یعنی اس کے عمل کی بنیاد خوفِ عذاب اور شوقِ ثواب ہوتی ہے۔

2۔ انسان اس احساس کے تحت عبادت کرے کہ وہ اللہ کا بندہ اور مملوک ہے، اور اللہ اس کا رب اور مالک ہے۔ لہٰذا وہ اللہ کے حقِ بندگی کو ادا کرنے کے لیے عبادت کرتا ہے، اس نیت سے کہ بندہ ہونے کے ناطے عبادت اس پر لازم ہے۔

3 ۔ سب سے اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ بندہ نیک اعمال خالصتاً اللہ کی رضا اور محبت کے لیے انجام دے۔ ( نہ جنت کی امید کو ملحوظ رکھے، نہ جہنم کے خوف کو )  بلکہ صرف اس لیے کہ اللہ عبادت و اطاعت کا مستحق ہے۔

حوالہ جات

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح(1/ 61):

أن العبادة حفظ الحدود والوفاء...وله ثلاث ‌مراتب لأنه إما أن يعبده رهبة من العقاب ورغبة في الثواب، وهو المسمى بالعبادة، وهذه لمن له علم اليقين. أو يعبده تشوقا لعبادته وقبول تكاليفه، وتسمى بالعبودية، وهذه لمن له عين اليقين، أو يعبده لكونه إلها وكونه عبدا.

حاشية العدوي على كفاية الطالب الرباني (1/ 202):

إشارة إلى المرتبة الدنيا من مراتب الإخلاص، إذ المراتب ثلاث دنيا وهي أن يعمل طمعا في جنته وخوفا من ناره، ووسطى وهي أن يعمل لكونه عبدا مملوكا لله يستحق عليه مولاه كل شيء ولا يستحق على مولاه شيئا، وعليا وهي أن يعمل لأجل الذات العلية لا طمعا في جنته ولا خوفا من ناره، والفرق بين الثانية والثالثة أنه في الثانية عمل لأجل استحقاق الذات العلية، والعليا لم يلاحظ في العمل استحقاق الذات بل عمل لمجرد الذات، ولا شك أن العمل لمجرد الذات أرفع رتبة من العمل للذات لكونها مستحقة للعبادة.

مجیب الرحمان بن محمد لائق

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

06  /شعبان المعظم    /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

مجیب الرحمٰن بن محمد لائق

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب