03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مشترکہ تعمیرات اور تقسیم وراثت کا شرعی حکم
89930شرکت کے مسائلشرکت سے متعلق متفرق مسائل

سوال

مفتی صاحب :غلام ربانی نامی شخص تھے۔ ان کے ورثہ میں ایک بیوی، دو بیٹے (لقمان اور سلیمان) اور چار بیٹیاں ہیں۔ غلام ربانی کے نام ایک پلاٹ تھا، جس پر سن 1995 میں ایک تین منزلہ عمارت تعمیر کی گئی۔ یہ عمارت غلام ربانی اور ان کے دونوں بیٹوں، لقمان اور سلیمان، نے مل کر تعمیر کروائی۔ تعمیر کے وقت تینوں نے اپنی اپنی رقوم لگائیں، یعنی ہر ایک کی رقم الگ تھی۔ لقمان کی اہلیہ کے مطابق تعمیر میں غلام ربانی نے تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے، سلیمان نے تقریباً ڈھائی لاکھ روپے اور لقمان نے تقریباً پانچ لاکھ روپے خرچ کیے۔

بعد میں غلام ربانی، لقمان اور سلیمان کی وفات کے بعد، تمام ورثہ نے آپس میں اختلاف سے بچنے کے لیے یہ بات تسلیم کر لی کہ پہلی تین منزلوں میں تینوں (غلام ربانی، لقمان اور سلیمان) کی شراکت برابر (Equal) سمجھی جائے۔(تنقیح کے مطابق، ورثہ کے درمیان تنازعہ ہوا، جس کی وجہ سے جرگہ نے مذکورہ گھر میں شرکت کا فیصلہ کیالیکن اس فیصلے پر تمام ورثہ راضی نہیں ہیں۔)

غلام ربانی نے اپنی زندگی میں پہلی منزل اپنے بیٹے لقمان کو دے دی تھی۔ لقمان نے اس منزل کو قبول کیا، اس پر قبضہ کیا اور اپنی بیوی بچوں کے ساتھ تقریباً بارہ سال تک وہاں رہا۔ لقمان کا انتقال سن 2007 میں غلام ربانی کی زندگی ہی میں ہو گیا تھا۔ لقمان کے انتقال کے بعد آج تک پہلی منزل کا کرایہ لقمان کے ورثہ ہی وصول کر رہے ہیں، اور تمام بہن بھائی ہمیشہ یہ مانتے رہے ہیں کہ پہلی منزل لقمان ہی کی تھی۔

تیسری منزل دو بالکل الگ اور مکمل گھروں (فلیٹس) پر مشتمل ہے۔ ان میں سے ایک فلیٹ غلام ربانی نے اپنی زندگی میں واضح طور پر اپنے بیٹے سلیمان کو دے دیا تھا۔ سلیمان نے اس فلیٹ کو قبول کیا، اس پر قبضہ کیا اور کافی عرصہ خود وہاں رہائش رکھی۔ گھر کے تمام افراد اس بات کو مانتے رہے ہیں کہ تیسری منزل کا یہ ایک فلیٹ سلیمان ہی کا ہے۔

تیسری منزل میں موجود دوسرا الگ فلیٹ غلام ربانی کی زندگی میں ان کی بیوی اور ایک غیر شادی شدہ بیٹی کے استعمال اور رہائش میں رہا۔ اس فلیٹ کے بارے میں کسی کو باقاعدہ طور پر ملکیت میں دینے کے الفاظ استعمال نہیں کیے گئے، نہ ہی کوئی واضح ہبہ کیا گیا، بلکہ صرف رہائش کے طور پر استعمال ہوتا رہا۔ مذکورہ غیر شادی شدہ بیٹی آج بھی اسی فلیٹ میں رہائش پذیر ہے۔دوسری منزل کسی ایک شخص کو نہ تو باقاعدہ طور پر دی گئی اور نہ ہی اس کی واضح تقسیم کی گئی۔ اس منزل کا کرایہ مختلف اوقات میں مختلف افراد وصول کرتے رہے، یعنی کبھی لقمان، کبھی سلیمان اور کبھی ان کی والدہ کرایہ وصول کرتی رہیں۔

بعد ازاں سن 2008 میں سلیمان نے اپنی ذاتی رقم سے عمارت کی چوتھی منزل تعمیر کروائی اور خود وہاں منتقل ہو گئے۔ چوتھی منزل کی تعمیر میں غلام ربانی یا لقمان کی کوئی رقم شامل نہیں تھی۔

غلام ربانی کا انتقال سن 2009 میں ہوا۔ اس کے بعد ان کی بیوی کا بھی انتقال ہو گیا، اور پھر سن 2021 میں سلیمان کا انتقال ہو گیا۔ اب موجودہ صورتِ حال یہ ہے کہ چاروں بہنیں اپنی اپنی شرعی وراثت کا مطالبہ کر رہی ہیں اور یہ دعویٰ کر رہی ہیں کہ عمارت کی دوسری منزل اور تیسری منزل کے فلیٹس میں ان کا حق ہے۔

اس بنیاد پر ایک جرگہ منعقد ہوا، جس نے یہ فیصلہ کیا کہ پہلی منزل لقمان کی ہے، دوسری اور تیسری منزلیں مکمل طور پر بہنوں کی ہیں اور چوتھی منزل سلیمان کی ہے۔

اس پوری صورتِ حال کے پیشِ نظر درج ذیل سوالات کے شرعی جوابات درکار ہیں:

سوالات:

  1. کیا پہلی منزل کا غلام ربانی کی طرف سے اپنے بیٹے لقمان کو دیا جانا شرعاً درست ہبہ شمار ہوتا ہے، جبکہ لقمان نے اس پر قبضہ بھی کیا اور اپنی وفات تک وہاں رہائش رکھی؟
  2. چونکہ لقمان اپنے والد غلام ربانی کی زندگی میں ہی وفات پا گیا تھا، تو کیا اس بنا پر لقمان یا اس کے بچوں کا غلام ربانی کی وراثت میں کوئی حق بنتا ہے؟ اور کیا پہلی منزل پھر بھی لقمان کی ملکیت شمار ہو گی یا نہیں؟
  3. کیا تیسری منزل میں موجود وہ الگ فلیٹ جو غلام ربانی نے اپنی زندگی میں سلیمان کو دیا تھا، شرعاً درست اور مکمل ہبہ ہے؟
  4. تیسری منزل میں موجود دوسرا فلیٹ، جو غلام ربانی کی زندگی میں ان کی بیوی اور غیر شادی شدہ بیٹی کے استعمال اور رہائش میں رہا، لیکن اسے کسی کو باقاعدہ طور پر ملکیت میں نہیں دیا گیا، تو کیا یہ فلیٹ غلام ربانی کی وفات کے بعد ترکہ میں شامل ہو گا؟ اور اگر شامل ہو گا تو کیا اس غیر شادی شدہ بیٹی کا اس فلیٹ پر مکمل حق بنتا ہے یا صرف بطور وارث شرعی حصہ ملے گا؟
  5. پہلی تین منزلوں میں مشترکہ تعمیر اور بعد میں تمام ورثہ کے برابر شراکت تسلیم کر لینے کی صورت میں، کیا دوسری منزل کو صرف غلام ربانی کی ذاتی ملکیت سمجھا جا سکتا ہے یا یہ مشترکہ ملکیت شمار ہو گی؟(تنقیح کے مطابق ورثہ نے  مذکورہ گھر میں باقاعدہ شرکت  تسلیم نہیں کی بلکہ ورثہ کے درمیان تنازعہ ہوا، جس کی وجہ سے جرگہ نے مذکورہ گھر میں شرکت کا فیصلہ کیا لیکن اس فیصلے پر تمام ورثہ راضی نہیں ہیں۔)
  6. کیا چاروں بہنوں کا یہ مطالبہ کہ دوسری منزل اور تیسری منزل کے فلیٹس مکمل طور پر انہیں دے دیے جائیں، شرعاً درست ہے؟
  7. کیا جرگے کا یہ فیصلہ کہ دوسری اور تیسری منزلیں مکمل طور پر بہنوں کی ہوں، شرعاً صحیح ہے یا نہیں؟
  8. اس پوری عمارت (پہلی، دوسری، تیسری اور چوتھی منزل) کی شرعی تقسیم فقہِ حنفی کی روشنی میں کس طرح ہونی چاہیے؟ براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہِ حنفی کی روشنی میں اس معاملے کا واضح اور تفصیلی شرعی حکم عنایت فرمائیں۔

تنقیح:سائل سے زبانی رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ غلام ربانی کی اپنی زمین تھی۔ اس کے ایک بیٹے کی شادی کے موقع پر اسی زمین پر گھر بنوانا تھا۔ اس مقصد کے لیے غلام ربانی نے خود بھی پیسے دیے اور اس کے دونوں بیٹوں نے بھی پیسے دیے۔ غلام ربانی نے جب گھر بنایا تو اس کی پہلی منزل اپنے بیٹے لقمان کو دی اور اس کا قبضہ بھی دے دیا۔ اسی طرح تیسری منزل میں دو فلیٹ ہیں، جن میں سے ایک فلیٹ اپنے بیٹے سلیمان کو دے دیا اور قبضہ بھی دیا۔ تیسری منزل کے دوسرے فلیٹ میں غلام ربانی کی بیوی اور بیٹی رہتی تھیں۔ بیٹی اب بھی وہی رہتی ہے، لیکن یہ فلیٹ باقاعدہ بطورِ ہبہ کسی کو نہیں دیا گیا۔

بعد ازاں سلیمان، جس کو تیسری منزل میں ایک فلیٹ دیا گیا تھا، اس نے  پوری تیسری منزل کے اوپراپنے پیسوں سے چوتھی منزل  کی تعمیر کروائی اور وہاں منتقل ہو گیا۔ اس کے بعد اب صورتِ حال یہ ہے کہ غلام ربانی، اس کی بیوی اور دونوں بیٹے انتقال کر گئے ہیں۔ غلام ربانی کی اہلیہ کے انتقال کے وقت ان کے والدین وفات پا چکے تھے، ان کا کوئی اور وارث نہیں تھا، صرف ان کے بچے تھے۔ غلام ربانی کا بیٹا لقمان اپنے والد (غلام ربانی) کی زندگی ہی میں وفات پا گیا تھا۔ اس وقت غلام ربانی کا ایک بیٹا اور چار بیٹیاں زندہ ہیں، جن میں سے تین بیٹیوں کی شادی ہو چکی ہے اور ایک بیٹی گھر پر ہے، جو تیسری منزل پر رہتی ہے۔

یہ جو دوسری منزل ہے، وہ نہ تو کسی کو باقاعدہ طور پر دی گئی اور نہ ہی اس کی واضح تقسیم کی گئی۔ اس منزل کا کرایہ مختلف اوقات میں مختلف افراد وصول کرتے رہے؛ کبھی لقمان، کبھی سلیمان اور کبھی ان کی والدہ کرایہ وصول کرتی رہیں۔

اب ورثہ کے درمیان کچھ تنازعہ ہو گیا ہے۔ جرگہ نے یہ فیصلہ کیا کہ چونکہ اس گھر میں غلام ربانی اور اس کے دونوں بیٹوں نے پیسے لگائے تھے، اس لیے اس گھر میں شرکت ہوگی۔ جرگہ نے پہلی منزل لقمان کو، چوتھی منزل سلیمان کو، اور دوسری و تیسری منزل غلام ربانی کی بیٹیوں کو دی۔ لیکن اس تقسیم پر سب ورثہ راضی نہیں ہیں۔

ورثہ کے نام: والد: غلام ربانی، والدہ: مبارک جان، بیٹے: سلیمان، لقمان، بیٹیاں: ممتاز، زیتون، رابعہ، کلثوم۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

  1. پہلی منزل غلام ربانی نے اپنے بیٹے لقمان کو بطورِ ہبہ دی تھی، اور انہوں نے اس وقت اس پر قبضہ بھی کر لیا تھا؛ لہٰذا یہ شرعاً ہبہ شمار ہوگا اور یہ لقمان ہی کی ملکیت ہوگا۔ ان کی وفات کے بعد یہ ان کے ورثہ کو منتقل ہوگی۔
  2. غلام ربانی کا بیٹا لقمان جو ان کی زندگی ہی میں فوت ہو گیا تھا، غلام ربانی کی میراث میں  انہیں یا ان کی اولاد  کو حصہ نہیں ملے گا اور پہلی منزل  غلام ربانی نے اسے ہبہ کی تھی لہذا وہ اسی کی ملک ہے۔
  3. تیسری منزل میں موجود الگ فلیٹ  سلیمان کا ہے۔
  4. تیسری منزل میں موجود دوسرا فلیٹ غلام ربانی کے ترکہ میں شامل ہوگا اور اس کی بیٹی اس گھر میں  بقیہ ورثہ کے ساتھ بطورِ وارث شریک ہوگی۔
  5. غلام ربانی چونکہ گھر بنا رہے تھے اور ان کے بیٹوں نے ان کے ساتھ مدد کے طور پر پیسے دیے تھے، اس لیے یہ گھر ان کے والد (غلام ربانی) ہی کا شمار ہوگا۔ بعد میں انہوں نے پہلی اور تیسری منزل کا ایک فلیٹ اپنے بیٹوں کو ہبہ کیا تھا۔اور بعد میں  جرگہ نے جو  تمام ورثہ کے  حق  میں شرکت کا فیصلہ کیا اس فیصلے پر سب ورثہ راضی نہیں ہیں  ،اس لیے غلام ربانی  کی ملکیت میں صرف دوسری منزل اور تیسری منزل کا ایک فلیٹ شمار ہوگا، اور اسی حصے کو ان کے ترکہ میں شامل کیا جائے گا۔
  6. بہنوں کا دوسری اور تیسری منزل کے ایک فلیٹ کا مطالبہ شرعاً درست نہیں ،بلکہ وہ  صرف غلام ربانی کے ترکہ میں بطورِ وارث شریک ہوں گی۔ ہاں اگر دوسرے ورثہ خوشی سے انہیں دوسری اور تیسری منزل کا ایک فلیٹ دینا چاہیں تو یہ جائز ہے۔
  7. جرگہ نے جو فیصلہ کیا ہے، چونکہ اس پر سب ورثہ راضی نہیں ہیں، اس لیے اس کا اعتبار نہیں ہوگا بلکہ پورا ترکہ میراث کے اصول کے مطابق تقسیم ہوگا۔

نیز جو چوتھی منزل سلیمان نے تعمیر کی ہے، وہ پوری تیسری منزل کے اوپر بنائی گئی ہے۔ تیسری منزل میں ایک فلیٹ تمام ورثہ کا مشترک ہےاس لیے اس مشترکہ فلیٹ کے اوپر جو عمارت  بنائی گئی ہے اس کی تعمیر میں دیگر ورثہ نے کوئی حصہ نہیں ملایا، اس لیے ان تعمیرات میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔

البتہ اگر ورثہ  اس  مشترکہ حصے کی عمارت  بنانے پر راضی ہوں تو کوئی معاوضہ نہیں ہوگا۔ لیکن اگر راضی نہ ہوں تو پھر ان تعمیرات پر جتنا خرچ ہوا ہے، وہ تمام ورثہ پر تقسیم کیا جائے گا اور خرچ کرنے والا باقی ورثہ سے وصول کر لے گا اور اس  مشترکہ حصے کی تعمیر میں سب شریک ہوں گےیا سلیمان اس نصف مشترکہ  زمین  کی قمیت باقی ورثہ کو دے دیں تو پوری منزل سلیمان کا ہوجائے گا ۔ تاہم سلیمان نے جتنا عرصہ باقی ورثہ کی ملکیت سے نفع حاصل کیا ہے، اس کا اخلاقی تقاضا ہے کہ وہ ورثہ کے ساتھ احسان والا معاملہ کریں اور  ان کو احسان کے بدلے میں  اپنی سہولت کے مطابق ادائیگی کریں۔

  .8صورت مذکورہ میں پہلی ،دوسری ،تیسری اور چو تھی منزل میں میراث کی تقسیم:

 غلام ربانی کےورثہ میں اس کی بیوی، ایک بیٹا اور چار بیٹیاں شامل ہیں۔ ان میں میراث کی تقسیم اس طرح ہوگی کہ مرحوم غلام ربانی نے اپنے انتقال کے وقت (2009ء) میں جو جائیداد، نقد رقم، سونا چاندی، مکان، کاروبار، غرض جو کچھ سازوسامان چھوڑا یا اگر کسی کے ذمے ان کا قرض تھا، یہ سب ان کا ترکہ شمار کیا جائے گا۔

سب سے پہلے اس ترکہ میں سے ان کی تجہیز و تکفین کے متوسط اخراجات نکالے جائیں گے، بشرطیکہ یہ اخراجات کسی نے بطورِ احسان ادا نہ کیے ہوں۔ اس کے بعد اگر کسی کا ان پر قرض ہو تو وہ ادا کیا جائے گا۔ پھر اگر غیر وارث کے حق میں انہوں نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ترکہ کی ایک تہائی کی حد تک وہ ادا کی جائے گی۔

اس کے بعد جو کچھ بچے، اس میں سے آٹھواں حصہ (%12.5) مرحوم غلام ربانی کی بیوی (مبارک جان) کا ہوگا، جو اس کے ورثہ کو ملے گا؛ چونکہ اس کے وفات کے وقت اس کے ورثہ صرف اس کی چار بیٹیاں اور ایک بیٹا (بیٹا: سلیمان، بیٹیاں: ممتاز، زیتون، رابعہ، کلثوم) تھے، اس لیے ان کے والد کی میراث اور ان کی والدہ کی پوری میراث ان کو ملے گی اور ان کے بعد ان کے ورثہ  کی طرف منتقل ہوگی ۔

مرحوم کی میراث میں سے مرحوم کے بیٹے سلیمان کو (%33.333) اور مرحوم کی بیٹیوں (ممتاز، زیتون، رابعہ، کلثوم) میں سے ہر ایک (%16.666) ملے گا۔

سلیمان چونکہ فوت ہو چکے ہیں، اس لیے اس کا حصہ اس کے ورثہ کو دیا جائے گا اور لقمان کا انتقال والدین سے پہلے ہوا ہے ،اس لیے اس کو  یا اس کی اولاد  کو میراث میں سے کچھ نہیں ملے گا۔

ورثہ

عددی حصہ

فیصدی حصہ

سلیمان

16

33.333

ممتاز

8

16.666

زیتون

8

16.666

کلثوم

8

16.666

رابعہ

8

16.666

 

حوالہ جات

دررالحكام شرح مجلة الأحكام(421/3)

إذا عمل أحد في صنعته مع ابنه الذي في عياله فكافة الكسب لذلك الشخص ويعد ولده معينا، كما أنه إذا غرس أحد شجرا فأعانه ولده الذي في عياله فيكون الشجر لذلك الشخص ولا يشاركه ولده فيهإذا عمل أحد في صنعة هو وابنه الذي في عياله واكتسبا أموالا ولم يكن معلوما أن للابن مالا سابقا فكافة الكسب لذلك الشخص ولا يكون لولده حصة في الكسب بل يعد ولده معينا وليس له طلب أجر المثل حتى أنه لو تنازع الأب في المتاع الموجود في بيته مع أولاده الخمسة الذين يقيمون معه في ذلك البيت وادعى كل منهم أن المتاع له فالمتاع للأب ولا يكون للأولاد غير الثياب التي هم لابسوها .

حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (5/ 443):

 (‌يمنع صاحب سفل عليه علو) أي طبقة (لآخر من أن يتد) أي يدق الوتد (في سفله) وهو البيت التحتاني (أو ينقب كوة) بفتح أو ضم الطاقة وكذا بالعكس دعوى المجمع (بلا رضا الآخر)

(قوله وكذا بالعكس إلخ) أي كما يمنع ذو السفل يمنع ذو العلو وعبارة المجمع وكل من صاحب علو وسفل ممنوع من التصرف فيه إلا بإذن الآخر وأجازه إن لم يضر به وفي العيني، وعلى هذا الخلاف إذا أراد صاحب العلو أن يبني على العلو شيئا أو بيتا أو يضع عليه جذوعا أو يحدث كنيفا اهـ، وكذا جعله في الهداية على الخلاف لكن في البحر عن قسمة الولوالجية اختلف المشايخ على قوله فقيل له أن يبني ما بدا له ما لم يضر بالسفل وقيل وإن أضر والمختار للفتوى أنه إذا أشكل أنه يضر أو لا لا يملك وإذا علم أنه لا يضر يملك.

درر الحكام  فی شرح مجلة الأحكام۱/۵۸۸(

شرح المادة 597: مسائل تتفرع عن ذلك: أولًا: مثلًا لو تصرف أحد الشركاء تغلبًا في المال المشترك كالدار والحانوت مدةً بدون إذن شريكه مستقلًا واستعمله بنفسه، فليس للشريك الآخر أخذ أجرة حصته؛ لأنه استعمله على أنه ملكه، كما أنه ليس له أن يطالب بسكنى الدار وحده بقدر ما سكنها شريكه، انظر المادة ( 1083 )، حتى أن الساكن إذا دفع إلى شريكه أجرة حصته يزعم أنها تلزمه فله استردادها بعد ذلك، انظر المادة ( 97 ) .ويستفاد من المثال أن ذلك خاص باستعمال الشريك بالذات، ولا دخل لإيجاره من آخر؛ لأن الشريك إذا لم يستعمل المال المشترك مستقلًا بنفسه، وآجره كله من آخر وأخذ أجرته لزمه رد أجرة شريكه إليه . مثلًا لو آجر أحد الشركاء الحمام المشترك بين ثلاثة، ولكل منهم ثلثه، من آخر وأخذ أجرته لزمه أن يعطي لشريكيه ثلثي الأجرة ،وسنفصل هذه المسألة، وتوضح في المادة ( 1077 )لكن إيجار أحد الشركاء المال المشترك على هذا الوجه أو إعارته غير جائزة ديانة؛ إذ التصرف في ملك الغير بلا إذن حرام ، ولا يمنع قضاء؛ إذ الإنسان لا يمنع من التصرف فيما بيده إذا لم ينازعه فيه أحد(التنقيح، رد المحتار،  علي أفندي ) .

درر الاحکام فی شرح مجلۃالاحکام(310/3):

الخلاصة: إن نفقات الأموال المشتركة تعود على الشركاء بنسبة حصصهم في تلك الأموال حيث إن الغرم بالغنم.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (2/ 346):

لو تصرف أحد الورثة في التركة المشتركة وربح فالربح للمتصرف وحده، كذا في الفتاوى الغياثية.

حاشیہ ابن عابدین،283/4)ص(:

الاب وابنہ یکتسبان فی صنعۃ واحدة ولم یکن لھما شئ فالکسب کلہ للاب ان کان الابن فی عیالہ لکونہ معیناً لہ، الا تری لو غرس شجرة تکون للاب، انتھی کلام الشامی، قلت فما کان المال للاب کان کلہ بالاولى.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (4/ 374):

ومنها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض وأن يكون الموهوب مقسوما إذا كان مما يحتمل القسمة وأن يكون الموهوب متميزا عن غير الموهوب ولا يكون متصلا ولا مشغولا بغير الموهوب حتى لو وهب أرضا فيها زرع للواهب دون الزرع.

الفتاوى الهندية): 6( 448/

وأما النساء فالأولى البنت ولها النصف إذا انفردت وللبنتين فصاعدا الثلثان، كذا في الاختيار شرح المختار وإذا اختلط البنون والبنات عصب البنون البنات فيكون للابن مثل حظ الأنثيين، كذا في التبيين.

المبسوط للسرخسي. 29/ 139:

وللبنت الواحدة إذا انفردت النصف ثبت ذلك بالنص وهو قوله تعالى {وإن كانت واحدة فلها النصف} [النساء: 11] واستدلالا أيضا بميراث الأخت فقد قال الله تعالى {وله أخت فلها نصف ما ترك} [النساء: 176] والبنت أقرب إليه من الأخت فإن كن ثلاثا فصاعدا فلهن الثلثان بالنص وهو قوله تعالى {فإن كن نساء فوق اثنتين فلهن ثلثا ما ترك} [النساء: 11] فهذا تنصيص على أنه لا يزاد للبنات على الثلثين عند الانفراد، وإن كثرن {فإن كانتا اثنتين فلهما الثلثان} [النساء: 176] في قول عامة الصحابة - رضوان الله عليهم - وهو قول جمهور الفقهاء.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (6/ 769):

فقال (فيفرض للزوجة فصاعدا الثمن مع ولد أو ولد ابن) (قوله مع ولد) أي للزوج الميت ذكرا أو أنثى ولو من غيرها .

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (6/ 773):

(يحوز العصبة بنفسه وهو كل ذكر) فالأنثى لا تكون عصبة بنفسها بل بغيرها أو مع غيرها..ثم العصبات بأنفسهم أربعة أصناف جزء الميت ثم أصله ثم جزء أبيه ثم جزء جده (ويقدم الأقرب فالأقرب منهم) بهذا الترتيب فيقدم جزء الميت.

ابن امین صاحب دین

دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی

07/شعبان المعظم /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ابن امین بن صاحب دین

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب