| 89944 | جائز و ناجائزامور کا بیان | خریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل |
سوال
ایک شخص یہاں سے مال لے کر سعودیہ جاتا ہے اور سعودیہ سے یہاں پر لے کر آتا ہے۔ اب اس مال کے اندر قانونی اور غیر قانونی جیسے ممنوع ادویات وغیرہ سب چیزیں شامل ہوتی ہیں وہ اس کی خرید و فروخت کرتا ہے تو اس کی آمدن کا کیا حکم ہے جبکہ دوسرا شخص اس سے مال لے کر آگے سپلائی کرتا ہے اگرچہ وہ اس کے ساتھ جاتا نہیں ،لیکن اس کو مال سپلائی کرتا ہے ۔کیا ان دونوں شخصوں کے گھر دعوت میں کھانا کھا سکتے ہیں ؟ تنقیح:رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ مذکورہ شخص قانونی طور پر ممنوعہ ادویات کی سپلائی کرتا رہتا ہے۔جو صرف قانونی طور پر نقصان دہ ہوتے ہیں .
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
حکومت کے مقرر کردہ قوانین کی جائز امور میں پاسداری لازم ہے،اس کی خلاف ورزی شرعا مذموم ہے۔اگر کسی چیز کی قانونی طور پر تجارت کی اجازت نہ ہو لیکن وہ چیز اپنی ذات میں شرعاً جائز ہو، تو اس کی تجارت سے حاصل ہونے والی آمدن شرعاً جائز ہوگی، البتہ قانون کی خلاف ورزی کا گناہ اپنی جگہ باقی رہے گااور اگر وہ اشیاء فی نفسہٖ ناجائز ہوں، تو ایسی صورت میں نہ صرف قانون شکنی کا گناہ ہوگا بلکہ ان سے حاصل ہونے والی آمدن بھی حرام ہوگی۔
ایسے شخص کے بارے میں حکم یہ ہے کہ اگر اس کی قانونی حلال ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدن غالب ہو، تو اس کی دعوت قبول کی جا سکتی ہے، لیکن اگر حرام آمدن غالب ہو تو ایسی دعوت قبول کرنے سے احتراز کرنا چاہیے۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين۔5/ 167:
طاعة أمر السلطان بمباح واجبة.
مجلة الأحكام العدلية۔ص230:
كل يتصرف في ملكه كيفما شاء. لكن إذا تعلق حق الغير به فيمنع المالك من تصرفه على وجه الاستقلال.
المحيط البرهاني (5/ 367):
وفي «عيون المسائل» : رجل أهدى إلى إنسان أو أضافه إن كان غالب ماله من حرام لا ينبغي أن يقبل ويأكل من طعامه ما لم يخبر أن ذلك المال حلال استقرضه أو ورثه، وإن كان غالب ماله من حلال فلا بأس بأن يقبل ما لم يتبين له أن ذلك من الحرام؛ وهذا لأن أموال الناس لا تخلو عن قليل حرام وتخلو عن كثيره، فيعتبر الغالب ويبنى الحكم عليه.
الفتاوی الھندیة( 342:5)
أھدی إلی رجل شیئا أو أضافہ إن کان غالب مالہ من الحلال فلا بأس إلا أن یعلم بأنہ حرام، فإن کان الغالب ھو الحرام ینبغي أن لا یقبل الھدیة ولا یأکل الطعام إلا أن یخبرہ بأنہ حلال ورثتہ أو استقرضتہ من رجل کذا فی الینابیع۔ ولا یجوز قبول ھدیة أمراء الجور؛لأن الغالب في مالھم الحرمة إلا إذا علم أن أکثر مالہ حلال بأن کان صاحب تجارة أو زرع فلا بأس بہ ؛لأن أموال الناس لا تخلو عن قلیل حرام فالمعتبر الغالب، وکذا أکل طعامھم کذا فی الاختیار شرح المختار۔
مجمع الانھر(2:529)
آكل الربا وكاسب الحرام أهدى إليه أو أضافه وغالب ماله حرام لا يقبل، ولا يأكل ما لم يخبره أن ذلك المال أصله حلال ورثه أو استقرضه، وإن كان غالب ماله حلالاً لا بأس بقبول هديته والأكل منها، كذا في الملتقط.
اسفندیارخان بن عابد الرحمان
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
7/شعبان المعظم /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | اسفندیار خان بن عابد الرحمان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


