03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نکاح سے پہلے(خودکلامی کرتے ہوئے) الفاظ طلاق دہرانے کا شرعی حکم
89896طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

میرے منگنی کے دوران ایک خیال آیا کہ نکاح کے بعد میری منگیتر مجھے دھوکا دے رہی ہے، اور میں اس منظر کو خود دیکھ رہا
ہوں ۔جب میں اس خیال سے نکلا تو میں نے اکیلے میں خود سے یہ الفاظ کہے :’’اگر نکاح کے بعد ایسا ہوا تو میں تمہیں طلاق دیتا ہوں‘‘۔یہ بات مکمل طور پر تنہائی میں کہی گئی تھی۔ اس کے بعد مجھے یہ شبہ لاحق ہوا کہ کہیں یہ الفاظ نکاح کے ساتھ مشروط تو نہیں ہو گئے۔ اسی پریشانی کے عالم میں میں نے گوگل پر بھی اس مسئلے کے بارے میں تلاش کیا، جس سے وسوسہ مزید بڑھ گیا۔بعد ازاں، محض یاد کرنے اور اطمینان حاصل کرنے کے لیے میں نے خود سے مختلف الفاظ دہرائے، جیسے: ’’اگر نکاح کیا تو‘‘، ’’نکاح ہوا تو‘‘، ’’اب میں تم سے نکاح کروں تو‘‘۔ پھر میں نے یہ جملہ بھی دہرایا: ’’میں نے کہا تھا: میں تمہیں طلاق دیتا ہوں‘‘، اور اس کے بعد نام لے کر دوبارہ کہا: ’’میں تمہیں طلاق دیتا ہوں‘‘۔ یہ صورتِ حال دو تین مرتبہ پیش آئی۔اب میں محض زبان سے ان الفاظ کے دہرانے کی وجہ سے شدید پریشانی میں مبتلا ہوں کہ کہیں یہ الفاظ شرعاً شرط نہ بن گئے ہوں، اور آیا ان کی بنا پر نکاح کے بعد تین طلاق واقع ہو جائیں گی یا نہیں۔ چونکہ میرا نکاح بہت قریب ہے، اس لیے اس معاملے میں شرعی رہنمائی فرمائیں۔

تنقیح : سائل سے رابطہ کرنے پر یہ بات واضح ہوئی کہ اس نے پہلی مرتبہ طلاق کے الفاظ  نکاح کے ساتھ مشروط کیے بغیر  ادا کیے تھے، جبکہ دوسری مرتبہ جو الفاظ اس نے تحریر کیے ہیں وہ طلاق کی نیت سے نہیں بلکہ محض حکایت اور وضاحت کے طور پر تھے، یعنی یہ بیان کرنے کے لیے کہ اس نے اس موقع پر ایسے الفاظ کہے تھے یا نہیں کہے تھے۔ 

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

طلاق دینے کے لیے ضروری ہے کہ  جس عورت کو طلاق دی جارہی ہے وہ  نکاح میں ہو، یا اس کے ساتھ نکاح کی نسبت کرکے کہا جائے کہ اگر میں اس سے نکاح کروں تو اسے طلاق ہے۔ سوال میں درج تفصیل  کی روشنی میں  نہ ابھی طلاق ہوئی اور نہ آئندہ اس کا اثر ہوگا۔البتہ دوبارہ اس قسم کی خیالات سے خود کو بچانا چاہیے تاکہ کبھی بڑی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑجائے۔        

حوالہ جات

الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 243):

وإذا أضاف الطلاق إلى النكاح وقع عقيب النكاح مثل أن يقول لامرأة إن تزوجتك فأنت طالق أو كل امرأة أتزوجها فهي طالق……………ولنا أن هذا تصرف يمين لوجود الشرط والجزاء فلا يشترط لصحته قيام الملك في الحال لأن الوقوع عند الشرط والملك متيقن به عنده.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 132):

وأما التعليق بالملك فنحو أن يقول لأجنبية: إن تزوجتك فأنت طالق، وإنه صحيح عند أصحابنا حتى لو تزوجها وقع الطلاق. 

اسفندیارخان بن عابد الرحمان

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

7/شعبان المعظم /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

اسفندیار خان بن عابد الرحمان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب