03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نام میں اضافہ کا شرعی حکم(نسبت کے ؛لئےنام میں والدکےنام کااضافہ کرنا)
89913جائز و ناجائزامور کا بیانبچوں وغیرہ کے نام رکھنے سے متعلق مسائل

سوال

مؤدبانہ گزارش ہے کہ میرا سابقہ نام محمد شرحبيل ہے۔ میرے والدِ محترم کا نام حسن ہے۔ میں نے نسبتِ والد کے اظہار اور شناخت کی تکمیل کے لیے اپنے نام کے ساتھ ''حسن'' کا اضافہ کر کے نیا نام محمد شرحبيل حسن رکھا ہے۔ اب میں یہ اضافہ / تبدیلی نادرا (NADRA) کے قومی شناختی ریکارڈ میں کروانا چاہتا ہوں، جس کے لیے دارالافتاء سے شرعی تصدیق / فتویٰ درکار ہے۔ براہِ کرم شرعی اصولوں کی روشنی میں تحریری فتویٰ مرحمت فرما دیں کہ شرعاً اس نوعیت کا اضافہ نام میں جائز ہے ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسئولہ میں نام کا اضافہ شرعا درست ہے،کیونکہ اسلام میں اپنے نام کے ساتھ شناخت کے لیے قومی،خاندانی یا نسبی نام کی نسبت لگانا جائز ہے۔لہذ اسائل کا اپنا نام'' محمد شرحبیل حسن ''رکھنا جائز ہے۔تاہم اس حوالہ سےقانونی تقاضوں کوبھی دیکھ لیا جائے۔تعلیمی اسناد وغیرہ میں کوئی حرج نہ ہو تو آپ کا یہ اضافہ کرنا جائز ہے۔

حوالہ جات

القرآن الكريم،سورة الأحزاب(5):

ادعوهم لِاٰبآئهِم هو اقسط عنداللّٰه فانْ لّم تعلموا اٰبآءهم فاخوانكم فی الدّینِ و موالیكم و لیس علیكم جناح فیمۤا اَخطاتم بِه ولكن ماتعمّدت قلوبكم وكان الله غفورًارحیما.

 تفسير الرازي(7/97):

كقوله تعالى: ‌ادعوهم لِآبائهِم‌هو ‌أقسط ‌عند‌اللَّه،أي: أعدل عنداللَّه، وأقرب إِلى الْحَقيقة من أن تنسبوهُمْ إِلَى غير آبائهم.

الفقہ الاسلامی و ادلتہ (2753/4، ط: دار الفکر)  :

ويجوز التسمية بأكثر من اسم واحد، والاقتصار على اسم واحد أولى، لفعله صلّى الله عليه وسلم بأولاده.

تخفة المودودبأحكام المولود(144):

لما كان المقصود بالاسم التعريف والتمييز ،وكان الاسم الواحد كافيا في ذلك كان الاقتصار عليه

أولى.ويجوز التسميةبأكثرمن اسم واحدكمايوضع له اسم وكنيةولقب.

محمد وجیہ الدین

 دارالافتاءجامعہ الرشید کراچی

  07 /شعبان المعظم /1447          

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد وجیہ الدین بن نثار احمد

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب