03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
غصے اور نشے میں دی گئی تین طلاقوں کا حکم
89916طلاق کے احکامتین طلاق اور اس کے احکام

سوال

محترم مفتی صاحب! براہِ کرم درجِ ذیل معاملے میں شرعی رہنمائی فرمائیں: شوہر نے غصے اور نشے کی حالت میں اپنی بیوی کو ایک ہی وقت میں تین طلاقیں دے دیں، جس وقت دو گواہ بھی موجود تھے۔ پھر وہ طلاق کے ایک سال بعد آیا، اور دونوں باقاعدہ طور پر اکٹھے نہیں رہے، مگر شوہر کبھی کبھار آتا جاتا تھا۔ اس دوران بعض اوقات میاں بیوی کے درمیان جسمانی تعلق بھی قائم ہوا۔ آخری مرتبہ تقریباً تین سال  پہلے تعلق ہوا تھا۔

اس عورت نے پہلے شوہر سے نہ خلع لی اور نہ ہی کسی عدالت سے طلاق کا فیصلہ کروایا۔ شوہر اب بھی یہ کہتا ہے کہ اس نے طلاق نہیں دی یا طلاق کو تسلیم نہیں کرتا۔ بعد ازاں عورت نے تقریباً دو سال پہلے ایک دوسرے شخص سے نکاح کر لیا۔ پہلے شوہر کو اس دوسرے نکاح کے بارے میں علم نہیں ہے، اور نہ اب وہ اس کے ساتھ رہتا ہے اور نہ کوئی تعلق ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ: (1) ایسی صورت میں عورت کا دوسرا نکاح شرعاً درست ہے یا باطل؟ (2) اگر دوسرا نکاح درست نہیں تو اب شرعاً کون سا طریقہ اختیار کرنا لازم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 مسئولہ صورت میں تین طلاقیں واقع ہو چکی تھیں اور بیوی شوہر کے لیے مکمل طور پر حرام تھی۔ بعد ازاں ان دونوں کے درمیان جو تعلق قائم ہوا، وہ زنا کے حکم میں ہے، جو کہ حرام اور بڑا گناہ ہے۔ اس کے بارے میں قرآنِ کریم اور سنتِ مصطفیٰ ﷺ میں شدید وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔

لہذا ان دونوں پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں گڑگڑا کر سچی توبہ کریں، شاید اللہ تعالیٰ انہیں معاف فرما دے۔

2۔ طلاق کے بعد عورت کے لیے عدت گزار کر دوسری جگہ نکاح کرنا شرعاً درست تھا۔دوسری جگہ جو دو سال بعد نکاح کیا ہے ،وہ منعقد ہے۔ اس کے لیے پہلے شوہر سےاجازت لینے یا اسے اطلاع دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔

حوالہ جات

سورۃ النساء: (17)

{إِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللَّهِ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السُّوءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ يَتُوبُونَ مِنْ قَرِيبٍ فَأُولَئِكَ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا}

سورۃ الإسراء: (32)

{وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا}

سورۃ النور: (2)

{الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ وَلَا تَأْخُذْكُمْ بِهِمَا رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلْيَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَائِفَةٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ}

سورۃالبقرة: (227 - 230)

" فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ ...".

سنن الترمذی ،حدیث (2625)

عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال":إذا زنى العبد خرج منه الإيمان فكان فوق رأسه كالظلة فإذا خرج من ذلك العمل عاد إليه الإيمان".

الفتاوی الہندیۃ: (413/1)

الفصل الخامس في الكنايات : لا يقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة حال كذا في الجوهرة النيرة، ثم الكنايات ثلاثة أقسام...والأحوال ثلاثة : حالة الرضا، وحالة : مذاكرة الطلاق بان تسأل هي طلاقها أو غيرها يسأل طلاقها وحالة الغضب، ففي حالة الرضا لا يقع الطلاق في الألفاظ كلها إلا بالنية والقول قول الزوج في ترك النية مع اليمين، وفي حالة مذاكرة الطلاق يقع الطلاق في سائر الأقسام قضاء إلا فيما يصلح جواباً ورداً فإنه لا يجعل طلاقاً كذا في الكافي، وفي حالة الغضب يصدق في جميع ذلك لاحتمال الرد والسب إلا فيما يصلح للطلاق ...كذا في الهداية...

محمد شاہ جلال

دار الإفتاء، جامعۃ الرشید، کراچی

09/شعبان المعظم /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد شاہ جلال بن خلیل حولدار

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب