| 89976 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں دوسری شادی کرنا چاہتا ہوں۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ میری بیوی نے میرے خلاف عدالت میں خلع کا کیس دائر کیا تھا اور جج نے خلع کا فیصلہ سنا دیا تھا۔ کیا عدالت کی جانب سے دیے گئےاس خلع کے فیصلے سے واقعی نکاح ختم ہو جاتا ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر عدالت میں خلع کے وقت شوہر نے صراحتاً یا دلالتا رضامندی ظاہر کی ہو ، تو شرعاً خلع واقع ہو گئی ہے اور نکاح بھی ختم ہو چکا ہے۔ نیز اگر شوہر اس وقت نہ خلع کرنے پر راضی تھااور نہ بعدمیں خلع قبول کیا تھا، تو محض عدالت کےیکطرفہ خلع کے فیصلے سےشرعا نکاح ختم نہیں ہوا، بلکہ نکاح بدستور برقرار ہے۔
حوالہ جات
سورۃ البقرۃ:(229)
"فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افتَدَتْ بِهِ..."
الهداية (2/261):
" وإذا تشاقَّ الزوجان، وخافا أن لا يُقيما حدودَ الله، فلا بأس بأن تفتديَ نفسها منه بمالٍ يخلعها به؛ لقوله تعالى: {فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتدَتْ بِهِ} [البقرة: 229].فإذا فعلا ذلك، وقع بالخلع تطليقةٌ بائنةٌ، ولزمها المال؛ لقوله عليه الصلاة والسلام:الخلع تطليقة بائنة.ولأنه يحتمل الطلاق حتى صار من الكنايات، والواقع بالكنايات بائنٌ، إلا أن ذكر المال أغنى عن النية هنا، ولأنها لا تُسلِّم المال إلا لتَسلَمَ لها نفسها، وذلك بالبينونة."
المحيط البرهاني: (61/5)
"وإذا سألت المرأۃ من زوجها أن يخلعها...فإن قالت له اخلعني على كذا، وسمت له الف درهم مثلا، ففي
هذا الوجه إذا خلعها على ذلك، فالخلع يتم بقول الزوج...."
محمد شاہ جلال
دار الإفتاء، جامعۃ الرشید، کراچی
21/شعبان المعظم1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد شاہ جلال بن خلیل حولدار | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


