03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
فریقین کے مابین تنازع پر تحکیم کمیٹی کی کارروائی اور مجوزہ فیصلے کی شرعی حیثیت
89982مضاربت کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

ہم بحیثیت ایک تحکیم کمیٹی ہیں۔ فریقین نے باہمی اعتماد کی بنیاد پر ہمیں فیصلے کا اختیار دیا ہے۔ اسی اعتماد کی بنیاد پر کمیٹی نے  اس معاملے پر باقاعدہ کارروائی کی  ۔ اس کارروائی کے دوران کمیٹی کے  کئی اجلاس منعقد ہوئیں۔ کمیٹی نے فریقین سے باقاعدہ طور پر ڈیٹا حاصل کیا، ان کے مؤقف اور دلائل سنے، اور دستیاب دستاویزات کا جائزہ لیا۔

فریقین کے بیانات باقاعدہ طور پر ریکارڈ کیے گئے۔اس حوالے سے  جامعہ  الرشید سے بھی  ابتدائی رہنمائی حاصل کی گئی تھی، جس کی بنیاد پر بعض امور واضح ہو گئے تھے، تاہم ان تمام امور کی روشنی میں ہرمسئلہ  پر غور و خوض کیا گیا ،چونکہ اب باقاعدہ فیصلہ ہونے جا رہا ہے، اس لیے مزید شفافیت اور وضاحت کے لیے تمام حقائق دوبارہ پیش کیے جا رہے ہیں۔

ان واقعات کو سمجھے کے لیے  مختصرا پس منظر ذکر کیا جاتا ہے۔

پس منظر:

1991 میں والد مرحوم کے انتقال کے بعد وراثت تقسیم ہوئی، جس میں کاروبار دو بھائیوں کے درمیان مشترکہ رہا۔2014 میں کاروباری اختلافات پیدا ہوئے، جن کے حل کے لیے ایک مصالح مقرر کیا گیا۔ اس کے فیصلے پر فریقین نے کاروبار الگ کرنے اور آئندہ لین دین ختم کرنے پر اتفاق کیا۔

بعد ازاں21-2020میں دوبارہ لین دین سے متعلق اختلافات اور سابقہ حسابات 2014 سے پہلے کے معاملات کو ازسرِنو کھولنے کے دعوے سامنے آئے۔اس پر چار افراد پر مشتمل ایک کونسل قائم کی گئی، جسے فریقین نے تحریری طور پر ثالث تسلیم کیا، اور کونسل نے فیکٹس فائنڈنگ کا عمل شروع کیا، جس میں سابقہ مصالح سے بھی رجوع کیا گیا۔

کونسل اس نتیجے پر پہنچی کہ2014-15کا  سابقہ تصفیہ شدہ معاملہ دوبارہ نہیں کھولا جانا چاہیے۔اس بنیاد پر کمیٹی نےنئے اختلافات کی جانچ شروع کی۔ جس میں یہ طے کیا گیا کہ کس فریق پر کتنا لینا یا دینا بنتا ہے اور اس کے مطابق جو

رقم متعین ہوئی، وہ بھی تحریری طور پر درج کر دی گئی۔

اب کمیٹی یہ چاہتی ہے کہ ہماری اس پوری ورکنگ اور مجوزہ طریقہ کو شریعت  کی روشنی میں پرکھا جائے۔ اگر یہ درست ہو تو فریقین کو بلا کر حتمی فیصلہ سنا دیا جائے۔

کمیٹی کا مجوزہ فیصلہ :

تصفیہ طلب معاملات کی رپورٹ: کمیٹی کے فیصلے اور تبصرے

1:2020 ،میں  کووِڈ کے آغاز پر، ہم نے سینیٹائزر کا مشترکہ کاروبار شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ چونکہ شاہد کے پاس اس کاروبار میں لگانے کے لیے کوئی سرمایہ نہیں تھا، اس نے درخواست کی کہ ستارسرمایہ فراہم کرے اور ہم دونوں 50:50 کے تناسب سے شراکت دار ہوں گے۔ یہ طے پایا کہ عزیر (ابن شاہد) پیداوار اور اکاؤنٹس کے معاملات سنبھالے گا، جبکہ SMC سیلز اور ڈسٹری بیوشن کی ذمہ داری ادا کرے گا۔ اس بات پر بھی اتفاق ہوا کہ کوئی بھی فریق اس کاروبار سے ذاتی استعمال کے لیے نقد رقم نہیں نکالے گا۔

اس باہمی سمجھوتے کے باوجود، چونکہ ادائیگیوں کا انتظام عزیر (ابن شاہد) کے پاس تھا، شاہد نے ذاتی استعمال کے لیے کاروبار سے نقد رقم نکال لی۔ کچھ عرصے بعد سپلائرز کی ادائیگیاں واجب الادا ہو گئیں، تو شاہد نے مزید سرمایہ لگانے کا مطالبہ کیا، جسے عبد الستار صاحب نے مسترد کر دیا۔ اس کے بعد شاہد صاحب  نے کسی طرح انتظام کر کے سپلائرز کی بقایاجات ادا کر دیے۔

تمام حسابی کتب اعظم (عزیر کے اکاؤنٹنٹ) کے زیرِ انتظام تھیں، لیکن وہ کبھی بھی باقاعدہ اور مکمل حسابات پیش نہ کر سکا۔ بالآخر جب نومبر 2020 میں کاروبار بند کر دیا گیا تو اعظم نے اپنے پاس موجود جو بھی ڈیٹا تھا وہ SMC کو بھیج دیا اور SMC سے کہا کہ اسی دستیاب معلومات کی بنیاد پر حسابی کتب تیار کر لی جائیں، چنانچہ SMC نے موجودہ ڈیٹا کی بنیاد پر حسابات تیار کیے۔

کمیٹی:سینیٹائزر بزنس (ایکسپائرڈ اسٹاک - 2,163,387 روپے): سینیٹائزر بزنس کے ایکسپائرڈ اسٹاک کی تصدیق کے لیے ماضی کے کھاتوں کو کریدنا اب مناسب نہیں ۔ چونکہ دونوں فریق 50 فیصد کے حصہ دار ہیں، اس لیے اس نقصان کی رقم دونوں میں مساوی تقسیم (ایڈجسٹ) ہونی چاہیے ۔لہٰذا  شاہد صاحب 1,081,694 روپے ادا کریں گے ۔

2. سینیٹائزر بزنس (نفع و نقصان - 775,130 روپے):سینیٹائزر بزنس کو عزیر ابن شاہد چلارہے  تھے ۔منافع کی رقم پر فریقین کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے ۔ لہٰذا اسے دونوں فریقوں میں برابر تقسیم کیا جائے گا، لہٰذا شاہد صاحب 387,565 روپے  دا کریں گے۔

 2020.3 شاہد صاحب نےڈ سٹری بیوٹرز سے موصول ہونے والی رقم  کیش کی صورت میں لی  (-/Rs. 862,528):

عزیر کے قرض (Loan Riazu)کے عنوان سے درج معاملہ یہ تھا کہ ڈسٹری بیوٹرز سے نقد ادائیگیاں وصول ہو رہی تھیں۔ پہلے سے یہ طے شدہ تھا کہ کاروبار سے کوئی بھی فریق ذاتی استعمال کے لیے کوئی رقم وصول نہیں کرے گا۔ اس کے باوجود شاہد نے انہی نقد وصولیوں میں سے ذاتی استعمال کے لیے رقم لے لی۔ شاہد کا کہنا تھا کہ اس وقت اس کے پاس آمدنی کا کوئی اور ذریعہ نہیں تھا، اس لیے اسے کاروبار ی نقد رقم استعمال کرنی پڑی ۔

کمیٹی : عزیر کی جانب سے 4 لاکھ روپے ادا کردیے تھے مگر دعوے کے حق میں کوئی دستاویزی ثبوت پیش نہیں کیا گیا ۔ لہٰذا شاہد کی وصول کردہ نقد رقم کو کم کر کے 462,528 روپے کیا جاتا ہے اور اسے PRS میں ایڈجسٹ کیا جائے گا ۔ لہٰذا شاہد صاحب 462,528 روپے  ادا کریں گے۔

.4 SMC کی سرمایہ کاری (1,610,109 روپے):

عبد الستار کی کمپنی ہے ۔ اس کمپنی نے سینیٹائزرز میں  انویسٹمنٹ کی جس کو عزیز اور عمیر چلارہے تھے۔2020 میں، یہ رقم ڈسٹری بیوٹرز کو   اس لیے واپس دی گئی کیونکہ بزنس بند ہو چکا تھا۔ ڈسٹری بیوٹرز نے پہلے سے پیسے دے رکھے تھے، لیکن انہیں اس کے بدلے میں مال نہیں ملا۔ اس وجہ سے ان کے اکاؤنٹس میں زائد رقم موجود تھی۔ چونکہ سینیٹائزر کے اکاؤنٹ میں پیسے نہیں تھے، اس لیے SMC نے یہ رقم ڈسٹری بیوٹرز کو واپس  دی۔

کمیٹی  :ڈسٹری بیوٹر کو کی گئی ادائیگی چونکہ 'SMC بمقابلہ سینیٹائزر اکاؤنٹ' کا معاملہ ہے، اس لیے اسے فریقین کے درمیان برابر تقسیم کر کے PRS میں ایڈجسٹ کیا جائے گا ،لہٰذا شاہد صاحب 805,055 روپے  ادا کریں گے۔

تنقیح : ڈسٹری بیوٹرز نے مال فروخت نہ ہونے کی وجہ سے واپس کر دیا تھا، حالانکہ وہ اس کے عوض پہلے ہی ایڈوانس رقم ادا کر چکے تھے۔ دوسری جانب SMC سینیٹائزرز کی سیلز اور ڈسٹری بیوشن کی ذمہ داری  بھی نبھا رہا تھا۔عزیر نے  حساب بھیج کر کہا کہ جیسے تیسے بھی کرکے نمٹ لیجئے ۔جس پر  SMCنے رقم ادا کرکےاپنے لیجر میں ایڈجسٹ کردیے۔

5.  کمپنی SAS لون (1,266,074 روپے): 2020 میں یہ قرض عزیر ابن شاہد  نے سینیٹائزر کے کاروبار  چلانے کے SMC سے  لیا تھا اور واپس نہیں کیے گئے تھے ۔ لہٰذا یہ رقم شاہد  صاحب کے اکاؤنٹ (PRS) میں ایڈجسٹ کی جائے گی ، لہٰذا شاہد صاحب 1,266,074 روپے  ادا کریں گے۔

:6کلر اسٹوڈیو کا کاروبار عزیر ابن شاہد کا تھا ۔اس حوالے سے یہ طے پایا کہ عمیر اور عزیر کے درمیان اتفاق ہوا تھا کہ عمیر کلر اسٹوڈیو کے کاروبار کو سنبھالے گا اور اپنی ٹیم استعمال کرے گا۔ اخراجات کی شراکت داری پر 20-12-2019 کو ای میل کے ذریعے اتفاق کیا گیا تھا۔ کام کا آغاز 1-2-2020 سے کیا گیا، تاہم کووِڈ کی وجہ سے یہ کام 15-4-2020 کو بند کر دیا گیا۔اب عمیر کا کہنا ہے کہ کاروبار چلانے پر  دس لاکھ خرچہ ہوا ،جبکہ عزیر کا کہنا ہے کہ ایک لاکھ ساٹھ ہزار کا خرچہ ہوا ۔

کمیٹی: یہ معاملہ درست طور پر میچ نہیں ہو رہا، اور جو وضاحت دی گئی ہے وہ 160,000 کی قابلِ ادائیگی کل رقم کو درست طور پر جواز فراہم نہیں کرتی ۔ لہٰذا نا ہم دس مانتے ہیں نا ایک لاکھ بلکہ درمیانہ رقم ادا کی جائے گی۔

 کلر اسٹوڈیو کے حوالے سے عزیر، عمیر کو کاروبار چلانے کے لیے 560,000 روپے ادا کرے گا اور یہ رقم PRS میں ایڈجسٹ کی جائے گی ۔  لہٰذا عزیر صاحب  560,000 روپے  ادا کریں گے۔

.7کلر اسٹوڈیو کا گمشدہ سامان (435,078 روپے):2020 میں، کلر اسٹوڈیو کا سامان  عمیر کے ذریعے ضائع ہوا، اس کا پس منظر یہ تھا کہ 1فروری سے 15اپریل تک عمیر نے کلر اسٹوڈیو کے لیے کام کیا، جس کے بعد یہ کام بند کر دیا گیا۔ ستمبر میں (یعنی کام بند ہونے کے تقریباً چھ ماہ بعد) عزیر نے اطلاع دی کہ کلر اسٹوڈیو کا کچھ غیر فروخت شدہ اسٹاک لاہور کے الفتح (Alfatah) میں موجود ہے جسے واپس اٹھانا ہے۔ چونکہ عزیر کے پاس لاہور میں کوئی وسائل موجود نہیں تھے، اس لیے اس نے عمیر سے درخواست کی کہ وہ اپنی ٹیم کے کسی فرد کے ذریعے یہ اسٹاک الفتح سے اٹھوا کر کوریئر کے ذریعے کراچی بھجوا دے۔

عمیر نے اسٹاک اٹھوایا اور لیوپرڈز کوریئر کے ذریعے کراچی روانہ کیا، تاہم لیوپرڈز نے یہ سامان ضائع کر دیا۔ اس پر عمیر نے عزیر کو بتایا کہ اس معاملے کو لیوپرڈز کراچی کے ساتھ نمٹایا جائے، کیونکہ یہ کام اس نے محض احسان کے طور پر کیا تھا اور وہ اس نقصان کو اپنی ذمہ داری نہیں سمجھتا۔

کمیٹی : گمشدہ سامان کے حوالے سے بظاہر عمیر نے عزیر کی مدد کی اور لیپرڈ (Leopard) کی ٹریکنگ رسید فراہم کی۔ ہماری نظر میں سامان کی وصولی کی ذمہ داری عزیر کی ہے، لہذا سامان کا کوئی بھی نقصان اسے خود برداشت کرنا ہوگا اور یہ رقم اسے ہی ادا کرنی پڑے گی ،لہٰذایہ رقم عزیر برداشت کرے گا۔

8. جَلد (ایک کمپنی کا نام جوکہ آن لائن تھی  ) (93,261 روپے):  2020 میں، جلد (Jald) کے معاملے میں یہ تھا کہ عزیر نے ایک ای-کامرس گروسری کاروبار شروع کیا، جس کے لیے SMC نے جلد کو سامان فراہم کیا۔ چند ہی مہینوں میں یہ کاروبار بند ہو گیا۔ بعد ازاں جلد نے غیر فروخت شدہ اسٹاک واپس کر دیا، تاہم جو اسٹاک جلد فروخت کر چکا تھا اس کے عوض کوئی رقم ادا نہیں کی گئی۔

جلد کے فروخت شدہ اسٹاک کی مد میں 93,261 روپے کی رقم شاہد صاحب کے اکاؤنٹ (PRS) میں ایڈجسٹ کر دی گئی ہے۔ مزید کسی کارروائی کی ضرورت نہیں ۔

.9اسمِٹرزکمپنی کا  حساب — فروری 2023 میں لی گئی رقم:یہ شاہد صاحب کی کمپنی  تھی جبکہ عمیر اس کو چلارہے تھے،  جو بھی خرچہ آتا تو عمیر شاہد صاحب کو ادا کرتے۔اس طرح عمیر نے شاہد صاحب کو کچھ رقم اپنے کسی کسٹمر کو ادا کرنے کے لیے دی ، لیکن انہوں نے وہ رقم  کسٹمر کو دینے کے بجائے خود استعمال کرلی۔

اب عمیر(بھتیجا) کلیم کررہے ہیں  كہ شاہد صاحب کے ذمے درج ذیل رقوم واجب الادا تھی کیونکہ انہوں نے یہ رقم نکالی تھی :

  1. AED 15,447سمِٹرز میں ہونے والی ٹرانزیکشنز پر کم ادائیگی (Short Payments) کی وجہ سے۔
  2. AED 26,804سمِٹرز کی ٹرانزیکشنز پر کمیشن کے طور پر۔
  3. AED 3,366وہ بیلنس جو اس وقت باقی تھا جب عزیر نے سمِٹرز سنبھالا۔
  4. EUR 750یورو اکاؤنٹ میں کی گئی ٹرانزیکشنز کے عوض قابلِ ادائیگی رقم۔
  5. USD 5,820یو ایس ڈی اکاؤنٹ میں عبد الستار صاحب کی طرف سے شاہد صاحب کو قابلِ ادائیگی رقم۔

ان تمام رقوم کو ملا کر کل قابلِ ادائیگی رقم AED 27,276 بنتی ہے۔جب عزیر نے سمِٹرز سنبھالا تو اس نے یہ رقم ادا نہیں کی اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ یہ رقم شاہد  صاحب کے سفری اخراجات کے مقابلے میں ایڈجسٹ ہو چکی ہے۔ اس کی وضاحت نیچے Smitters Travel میں دی گئی ہے۔

کمیٹی:ای میلز اور ایکسل شیٹس کے جائزے کے بعد کمیٹی اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ دونوں فریق اپنا دعویٰ ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں، لیکن وہ ایکسل شیٹس تیار کرنے میں بہت ماہر ہیں ۔ ہم دستاویزی ثبوت کے بغیر محض دعووں کو تسلیم نہیں کرتے ۔ تاہم ایکسل شیٹ کے مطابق عمیر 1.9 ملین اور عزیر 0.8 ملین کا دعویٰ کر رہا ہے، لہٰذا 1.9 ملین کو فریقین کے درمیان برابر وصولی کے طور پر تقسیم کر دیا جائے ۔ لہٰذا شاہد صاحب 1.1 ملین ادا کریں گے۔

10. اسمٹرز ٹریول (ٹکٹ اور ہوٹل - AED 27,940): یہ شاہد صاحب چلارہے تھے۔اب شاہد صاحب کلیم کررہے ہیں کہ AED 27,940ہمیں دے دیں ۔یہ میرا ٹریول کا پیسہ ہے، لہذا ٹریول میں ایڈجسٹ ہوگئے ، کوئی لینا دینا نہیں بنتا۔

کمیٹی :یہ رقم معاہدے کے مطابق سالانہ زیادہ سے زیادہ 2 اسفار (Trips) تک محدود رہے گی اور اسے PRS میں شمار کیا جائے گا ۔اگر کمیٹی یہ سمجھتی ہے کہ شاہد کو سفر کی ادائیگی کی جانی چاہیے، تو اسے ٹکٹ کا ثبوت، ٹکٹ کی انوائس اور ہوٹل کی انوائس بمع قیمت جمع کرانا ہوگی۔ میں صرف شاہد کے اکیلے فلائٹ ٹکٹ کی رقم پاکستانی روپے (PKR) میں برداشت کروں گا، جیسا کہ PKR میں ادا کی گئی ہو (اور یہ اس صورت میں ہوگا جب اس نے صرف دبئی کا سفر کیا ہو، نہ کہ محض دبئی میں ٹرانزٹ کے طور پر رُکا ہو)، اور ایک رات کے ہوٹل کی ادائیگی متحدہ عرب اماراتی درہم (AED) میں، جیسا کہ AED میں ادا کی گئی ہو۔

.11 اسمٹرز فری زون کی زائد ادائیگی (AED 4,232): اصول یہ تھا کہ  خکومت پہلے کوارٹر میں زیادہ  پے منٹ کرتے ہیں   جبکہ باقی تیں میں برابر ۔

 نومبر 2022 تا فروری 2023 — سمِٹرز فری زون (Q1 2023) کی اضافی ادائیگی کی وضاحت:

  • سمِٹرز کی سالانہ لائسنس فیس (نومبر 2022 تا اکتوبر 2023) AED 46,271
  • فی سہ ماہی (Quarter) فیس AED 11,567.75

ادائیگیاں:

  • Q1عمیر  نے AED 15,800 ادا کیے ۔جیسے کہ بتایا گیا کہ پہلےکوارٹر میں زیادہ  پے منٹ ہوتی تھی۔
  • Q2, Q3, Q4عزیر نے ہر کوارٹر  میں AED 10,157 ادا کیے

نتیجہ:

  • Q1 میں قابلِ ادائیگی رقمAED 11,567.75
  • ادا شدہ رقمAED 15,800
  • اضافی / قابلِ ایڈجسٹ رقم15,800 11,567.75 = AED 4,232.25:       

کمیٹی :یہ تسلیم شدہ لائسنس فیس ہے، اگر کسی فریق نے کاروبار چلانے کے دوران زائد رقم ادا کی ہے تو اسے دوسری پارٹی سے اس کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں ہے۔ لہذا یہ دعویٰ قابل قبول نہیں ہے۔

12. اسمٹرز AED وصولی 2024 (عزیر - AED 41,874): بظاہر یہ عمیر کی طرف سے ایک بلاواسطہ دعویٰ ہے۔ اگر وی اے ٹی ریفنڈ اُس مدت سے متعلق ہے جب انتظام ستارصاحب کے پاس تھا تو اُن کو  دعویٰ ٹیکس حکام کے پاس جمع کرانا چاہیے۔اور  اگر دعویٰ جمع ہو چکا تھا اور اس پر کارروائی بھی مکمل ہو گئی ہے تو پھر عمیرکو رقم واپس ادا کرنے کی ذمہ داری عزیر پر عائد ہوتی ہے۔ بصورتِ دیگر دعویٰ میعاد گزرنے کی وجہ سے ختم سمجھا جائے گا،لہٰذا  اسے رائٹ آف (Right Off) کیا جاتا ہے۔

13Cotyکاروبار کی ادائیگی (2015 کی ذمہ داری):

 کمیٹی نے اتفاق کیا ہے کہ 2015 سے متعلقہ پرانے مسائل میں نہیں پڑا جائے گا ،کیونکہ اس وقت تصفیہ ہو چکا تھا ۔ اس پر کوئی تبصرہ نہیں ۔

NTN:14  کے اندر عبد الستار اور شاہد کے  کوئی تین چار بزنسز چل رہے تھے ۔اِن پُٹA بزنس کا تھا ،جبکہ اس کو کلیم کرلیا بزنس Bکے الاونس  میں اور ریٹرن میں  ڈیل  کرلیا ۔اب عمیر یہ کہہ رہا ہے کہ یہ بزنس تو تھا ہی میرا ، لہٰذا  یہ جو اِن پُٹ کلیم کیا ہے یہ مجھے دے دو ۔

کمیٹی :یہ معاملہ 2020 سے متعلق ہے، لہٰذا سیلز ٹیکس ریٹرن میں کسی بھی ان پٹ ایڈجسٹمنٹ کو دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا، کیونکہ محکمہ ٹیکس کی طرف سے کوئی ذمہ داری (liability) طلب نہیں کی گئی ہے۔

15. رولنگ/اسکورنگ مشین کی فروخت (دونوں بھائیوں کی تھی ) :عزیر شاہد کا کلیم تھا کہ یہ مشین بک چکی ہے اور پیسے آدھے آدھے ہوجائیں گے اس بکنے سے عمیر ستار کو کوئی مسئلہ نہیں تھا، البتہ مشین بکی ہی نہیں ، آپ کہہ رہے ہیں کہ بک گئی جبکہ بکی نہیں ،لہٰذا کمیٹی نے کہا کوئی بکنےکی ویڈیو پروف دکھائے تاکہ اس کے مطابق فیصلہ ہوسکے ۔

فیصلہ: کمیٹی کے سامنے یہ ثبوت فراہم کیا گیا ہے کہ مشین فروخت نہیں ہوئی ہے، لہذا جب بھی مشین فروخت ہوگی، اس سے حاصل ہونے والی رقم فریقین کے درمیان 50:50 تقسیم ہوگی۔ کسی بھی فریق کو مارکیٹ کی قیمت پرمشین خریدنے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔

16. چاولہ انڈسٹریز (کرایہ): 6,334,090 روپے ہی وصول کیے گئے۔یہ کرایہ شاہد صاحب  وصول کررہے تھے ۔شاہد کی جانب سے فراہم کردہ واجب الادا کرایہ کی تفصیل کے مطابق، عدالت کی طرف سے دسمبر 2014 تک واجب الادا کل کرایہ 7,329,447 روپے تھا۔ شاہد نے 22 نومبر 2021 کو ای میل کے ذریعے تصدیق کی کہ اس کے عوض عدالت سے وصول کی گئی کل رقم 6,334,090 روپے تھی۔ چونکہ میرے پاس اس بات کی تصدیق کا کوئی ذریعہ نہیں کہ آیا یہ پوری رقم واقعی وصول ہوئی یا نہیں، اس لیے میں شاہد کی بات پر ہی اعتماد کروں گا کہ اس نے صرف 6,334,090 روپے ہی وصول کیے۔

عزیرشاہد کا کہنا ہے کہ اس نے اخراجات کی مد میں منور غنی کو 500,000 روپے ادا کیے تھے، لیکن منور غنی نے تردیدکی ہے کہ اسے کوئی رقم موصول نہیں ہوئی، لہٰذا اس ادائیگی کو قابلِ قبول نہیں سمجھا جائے گا۔ اب 2024 میں شاہد یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ اخراجات  3,050,000 روپے تھے۔ اسی طرح 5لاکھ کورٹ کی کارروائی پر خرچ ہوئے۔ دونوں دعوؤں پر کوئی ثبوت پیش نہ کیا جاسکا ۔

کمیٹی:63 لاکھ کرایہ وصول کررہے تھے 5 لاکھ عدالتی کارروائی پر خرچ ہوئے ۔ باقی 29 لاکھ  ایک  فریق پر اور29 لاکھ  دوسرے فریق  پر۔جبکہ 3  ملین (30 لاکھ) کی کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔ عدالت کے اخراجات کے حوالے سے 5 لاکھ روپے کے دعوے کو جائز قرار دے کر قبول کیا جاتا ہے۔(کوئی نہ کوئی خرچہ ہوہی جاتا ہے ، اس لیے مان لیتے ہیں )۔لہٰذا  آمدنی کو 5 لاکھ روپے کم کر کے برابر تقسیم کیا جائے گا۔ شاہد 2,917,045 روپے ادا کرے گا۔

17. ڈیوٹی کلیمز (ریڈ بل/معراج): کمیٹی نے باہمی طور پر اتفاق کیا ہے کہ 2015 سے پہلے کے معاملات میں مداخلت نہیں کی جائے گی کیونکہ اس وقت تصفیہ ہو چکا تھا ۔

18.عبد الستار صاحب کا شاہد کو مختلف کرنسیز میں قرض :عبد الستار صاحب کی طرف سے شاہد  صاحب کو مختلف کرنسیز میں قرض دیا تھا ۔

.1  AED137,185 (شرحِ تبادلہ 80 کے مطابق تقریباً 10,974,800 روپے)

 USD 20,907.2(شرح تبادلہ 294 کے مطابق تقریبا   6,146,658 روپے)

 PKR395,500.3

  PKR525,095 .4

ٹوٹل رقم پاکستانی رقم : 18,041,553

شاہد نے ستار کو 2,000,000 روپے واپس کیے۔ ستار نے اس رقم میں سے 920,095 روپے پاکستانی روپے والے قرض کے کھاتے میں ایڈجسٹ کیے، جبکہ باقی 1,079,905 روپے امریکی ڈالر والے قرض کے خلاف ایڈجسٹ کیے۔1,079,905کو 155 (قرض کی واپسی کے وقت کا شرحِ تبادلہ) پر تقسیم کرنے سے 6,967 امریکی ڈالر بنتے ہیں، جو واپس کیے جا چکے ہیں۔اب بھی 13,940 امریکی ڈالر بقایا ہیں (تقریباً 4,098,322 پاکستانی روپے)۔

اسی طرح کل واجب الادا رقم 137,185 اماراتی درہم ہے (شرحِ تبادلہ 80 کے مطابق تقریباً 10,974,800 روپے)۔

کمیٹی :اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ  یہ قرض فریقین کے درمیان واجب الادا کاروبار کا حصہ ہے اور اسے فائنل پیمنٹ ورکنگ شیٹ میں ایڈجسٹ کیا جائے گا ۔ لہٰذا شاہد صاحب 14,248,071 روپے ادا کریں گے۔جس تاریخ کو قرض لیا گیا تھا اسی دن کی شرح مبادلہ  کے مطابق ادا کیاجائے گا ۔

19. اسمٹرز USD وصولی (عزیر - 162,363 USD):  یہ عمیر اور عزیر کا آپس کا معاملہ  ہے،جبکہ کمیٹی عبد الستار اور شاہد کے معاملات دیکھ رہی ہیں،  لہٰذا کمیٹی نے یہ  فیصلہ کیا ہے کہ اسے ان کے درمیان ہی طے کیا جائے ۔

20. اسمٹرز AED وصولی 2024 (VAT - 41,874 AED): چونکہ پورا کاروبار 50:50 کی بنیاد پر ہے، اس لیے ریفنڈ خود بخود کاروبار کا حصہ بن جائے گا، کسی الگ فیصلے کی ضرورت نہیں ۔

21. دیگر معاملات: لاہور اپارٹمنٹ کا کرایہ، ستار صاحب کی گاڑیوں کی فروخت، لاہور اپارٹمنٹ کی فروخت، چاولہ سینٹر کرایہ (اثاثہ)، اور CC رینٹ (تومان کی خریداری) پر فریقین کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے ۔

.22 ترکہ کے مشترکہ اثاثوں سے حاصل ہونے والے نفع : چاولہ سینٹر اس وقت بھائیوں کے قبضے میں ہے اور وہ

اس کا کرایہ وصول کر رہے ہیں، جبکہ اس جائیداد میں بہنوں کی جانب سے بھی وراثتی دعویٰ  بھی موجود ہے۔ بھائیوں نے اس بات پر آمادگی ظاہر کی کہ چاولہ سینٹر کو ترکہ میں شمار کیا جائے گا۔

لہٰذا  اگر بہنوں کے دعوے کے مطابق یہ جائیداد ترکہ میں ثابت ہو جاتی ہے، تو سابقہ کرایہ اور اس کی مالیت بھی ترکے میں شامل کر کے بہنوں کو ان کا حصہ دیا جائے گا؟،نیز آیا بہنوں کے دعوے کے عمل کی روشنی میں ان کا کوئی حصہ موجودہ کرایہ میں سے حصہ دیا جائے گا ؟ اگر ہاں ، تو سابقہ کرایہ کا کیا حکم ہے جو بھائی حاصل کرچکے ہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

درج بالا تمام سوالات کے جوابات بالترتیب ذکر کیے جاتے ہیں۔

.1صورت مسئولہ میں جب عبد الستار صاحب نے  شاہد صاحب کو کاروبار کے لیے پیسے دیے تو یہ مضاربت کی صورت ہے ۔ مضاربت کے معاملہ میں اصول یہ ہے کہ اگر نقصان ہو جائے تو اس نقصان کوپہلے نفع سے پورا کیا جائے گا، ورنہ اس نقصان کی ذمہ داری رب المال ( انویسٹر ) پر عائد ہوگی، بشرطیکہ نقصان مضارب کی غلطی یا کوتاہی سے نہ ہوا  ہو  اور اگر نقصان مضارب کی غفلت یا تعدی سے ہو تو اس نقصان کی ذمہ داری مضارب پر ہوگی۔

صورت مسئولہ میں شاہد صاحب نے ذاتی استعمال کے لیے رقم نکال کر تعدی (زیادتی ) کی تھی،لیکن اُنہوں نے اس رقم کواداکردیا تھا ۔اب جو  مزیدنقصان  ہوا ہے اس کی تحقیق کی جائے کہ اگر یہ نقصان   شاہد صاحب کی غفلت وکوتاہی کے سبب ہوا تو وہ ذمہ دار، ورنہ تمام نقصان  عبد الستار صاحب  برداشت کریں گے۔

واضح رہے کہ عزیر اور ایس ایم سی کی حیثیت اجیر کی ہے،لہٰذا دونوں  بطور ملازم اجرت  مثل کے مستحق ہیں ۔

.2مضاربت میں نفع طے شدہ تناسب  سے تقسیم کیا جاتا ہے،لہٰذا مذکورہ فیصلہ درست ہے ۔

.3صورتِ مسئولہ میں وصول شدہ رقم کی تین ممکنہ صورتیں ہیں:

۱۔ اگر وصول شدہ رقم سرمایہ اور نفع دونوں پر مشتمل ہوتو سب سے پہلے کاروبار کے جائز اخراجات منہا کیے جائیں گے، بعدازاں  طے شدہ تناسب کے مطابق نفع تقسیم کیا جائے گا۔ لہٰذا شاہد صاحب صرف اپنا مقررہ نفع رکھ کر   باقی رقم عبدالستار صاحب کو واپس کریں گے۔

۲۔ اگر کوئی نفع حاصل نہ ہوا ہو اور پوری رقم صرف سرمایہ ہوتو شاہد صاحب پر لازم ہوگا کہ تمام وصول شدہ رقم  عبدالستار صاحب کو واپس کریں۔

۳۔ اگر وصول شدہ رقم خالص نفع ہوتو دیکھا جائے گا کہ تقسیم سے قبل جو نفع لیا گیا، آیا وہ طے شدہ تناسب کے مطابق تھا یا نہیں، اگر طے شدہ تناسب  کے مطابق تھا تو فبہا، اور اگر طے شدہ تناسب سے  زائد لیا ہو تو اضافی رقم واپس کرنا لازم ہے۔

SMC.4 نے شاہد صاحب کی طرف سے ڈسٹری بیوٹرز کو رقم بطور قرض  ادا کی ،لہٰذا شاہد صاحب پر پوری رقم واپس کرنا لازم ہے۔

.5مذکورہ فیصلہ درست ہے، لہٰذاشاہد  صاحب 1,266,074 روپے ادا کریں گے۔

.6صورت مسئولہ میں اگر کاروبار شروع کرتے وقت تنخواہوں کا تعین ہو چکا تھا تو عزیر پر لازم ہے کہ وہ طے شدہ معاہدے کے مطابق ادائیگی کرے اور اگر تنخواہیں مقرر نہ تھیں تو عمیر اور اس کی ٹیم اجرت مثل(مارکیٹ ویلیو) کے

مستحق ہیں۔

.7صورتِ مذکورہ میں چونکہ عزیر نے لیوپرڈ کی مقررہ مدت کے اندر نقصان کا کلیم دائر نہیں کیا، اس لیے عمیر بری الذمہ ہیں اور اس معاملے میں ہونے والا مکمل نقصان عزیر ہی کوبرداشت کرنا ہوگا۔

.8جلد کے فروخت شدہ اسٹاک کی مد میں 93,261 روپے شاہد صاحب کے اکاؤنٹ (PRS) میں ایڈجسٹ کرنا درست ہے۔

.9صورتِ مسئولہ میں عمیر اور عزیر کی حیثیت ڈائریکٹرز (ملازمین) کی تھی۔ چونکہ ان کی اجرت متعین نہیں تھی، اس لیے وہ اجرتِ مثل(مارکیٹ ویلیو) کے مستحق ہوں گے ۔

نوٹ : عمیر  نے شاہد صاحب کے ذمہ   جس رقم کا دعوی کیا ہے اس کا حکم  مسئلہ نمبر (10)کےجواب میں   بیان کیا جائےگا ۔

.10صورت مذکورہ میں شاہد صاحب کے سفری اخراجات طے شدہ ضابطے کے مطابق منہا کیے جائیں گے،بشرطیکہ صرف دبئی کے سفر کے اخراجات کے ثبوت پیش کیے جائیں ، اگر ثبوت پیش کرنے کے بعد اخراجات مقررہ رقم سے کم ہوں تو باقی اضافی رقم کمپنی کو واپس کرنا لازم ہوگی۔

.11اگر لائسنس فیس کمپنی کی رقم سے ادا کی گئی ہے تو اس رقم کا مطالبہ درست نہیں ۔

.12اگر وی اے ٹی ریفنڈ عزیر کو موصول ہوئی ہو تو بھی یہ رقم کمپنی ہی کی ملکیت شمار ہوگی اور اس میں عمیر کا کوئی تعلق نہیں ہوگا، کیونکہ عمیر اور عزیر محض ڈائریکٹر زتھےجو صرف اجرتِ مثل کے مستحق ہیں۔

.13کمیٹی کا فیصلہ درست  ہے ۔

NTN .14کے تحت چلنے والے تمام کاروبار عبد الستار اور شاہد صاحب کی ملکیت تھے، جبکہ عمیر اور عزیر صرف انتظامی طور پر ان کاروبار کو چلا رہے تھے، لہٰذا کاروبار سے متعلق تمام مالی حقوق، بشمول ٹیکس کے فوائد اصل مالکان ہی کی طرف منسوب ہوں گی۔

جہاں تک بزنس A کے اِن پُٹ ٹیکس کا تعلق ہے جو بزنس B کے ریٹرن میں کلیم کیا گیا، س سے حاصل شدہ مالی فائدہ بدستور اصل مالکان ہی کے کھاتے میں شمار ہوگا۔ اس بنا پر عمیر یا عزیر کا اس پر کوئی استحقاق نہیں بنتا،لہٰذا  عمیر کا دعویٰ درست نہیں،اگر چہ ایک بزنس کا اِن پُٹ دوسرے بزنس میں کلیم ہوگیا۔

.15کمیٹی کا فیصلہ  درست ہے ۔

.16کمیٹی کا فیصلہ درست ہے ۔

.17کمیٹی کا فیصلہ  درست ہے ۔

.18واضح رہےکہ مقروض قرض کی واپسی اسی کرنسی میں کرے گا جس کرنسی میں قرض لیا تھا،تاہم اگر قرض دار اور قرض خواہ باہمی رضامندی سے کسی دوسری کرنسی میں ادائیگی پر متفق ہوجائیں تو یہ جائز ہے، بشرطیکہ ادائیگی کے دن کی شرحِ تبادلہ کے مطابق رقم ادا کی جائے۔

لہٰذا شاہد صاحب کی ادا کی گئی پاکستانی کرنسی کا پاکستانی کرنسی  سے تبادلہ ہوا۔ باقی قرض  دراہم اور ڈالرز میں ہی واپس

کرے ، البتہ پاکستانی کرنسی پر اتفاق ہو جائے تو اُسی دن کا شرح تبادلہ معلوم کرکے اُس کے مطابق واپس کیے جائیں گے ۔

نوٹ: "ایکسل شیٹ کے مطابق شاہد صاحب نے 2,968,431  ادا کیے ہیں ، ناکہ 2,000,000، جبکہ پاکستانی کرنسی کے مطابق 15,073,122 ادا کرنا باقی ہیں "۔

.19چونکہ کمیٹی کے مطابق اس مسئلے کا تعلق عبد الستار اور شاہد صاحب سے نہیں ، بلکہ عمیر اور عزیر کا آپس کا معاملہ ہے، لہٰذا کمیٹی کا فیصلہ درست ہے ۔

.20یہ مسئلہ نمبر 9  سے متعلق ہے، جس کا حکم پہلے ہی بیان کیا جاچکاہے،یعنی  کہ پورا کاروبار 50:50 کی بنیاد پر نہیں تھا، بلکہ صرف شاہد صاحب کا تھا، البتہ کمیٹی کا فیصلہ کہ ریفنڈ  کاروبار کا حصہ شمار ہوگا، درست ہے۔

.21درست ہے ۔

.22ترکہ میں تمام ورثہ کے درمیان شرکت ملک ہوتی ہےاور ترکہ سے حاصل ہونے والا نفع تمام ورثہ کے درمیان ان کے حصص کے تناسب سے تقسیم ہوتا ہے۔

لہٰذا اگر بہنوں کے دعوے کے مطابق یہ جائیداد ترکہ میں ثابت ہو جاتی ہے تو والد کی وفات کے بعد سے اب تک وصول ہونے والا سابقہ کرایہ بھی ترکہ کا حصہ شمار ہوگا اور بہنوں کو اس میں ان کے شرعی حصے کے مطابق حق دیا جائے گا۔ اسی طرح موجودہ اور آئندہ وصول ہونے والے کرایہ میں بھی وہ اپنے حصص کے مطابق شریک ہوں گی۔

نیز  جس مدت میں بھائیوں نے کرایہ وصول کیا اور دیگر ورثہ کو ان کے حصے سے محروم رکھا، اس مدت کے کرایہ کی ادائیگی ان کے ذمے ہوگی۔ چنانچہ وہ ورثہ جنہوں نے کرایہ وصول کیا، محروم ورثہ کے حصص کے بقدر اس کے ضامن ہوں گے اور ان کو ادا کرنا لازم ہوگا۔

واضح رہے کہ اگر فریقین باہمی رضامندی سے خود کوئی فیصلہ کر لیں یا کسی تیسرے شخص کے ذریعے صلح کرا لیں اور وہ فیصلہ شریعت کے اصولوں کے خلاف نہ ہو تو ایسا فیصلہ شرعاً معتبر ہوگا۔

حوالہ جات

الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 200):

قال: "‌المضاربة ‌عقد على الشركة بمال من أحد الجانبين" ومراده الشركة في الربح وهو يستحق بالمال من أحد الجانبين "والعمل من الجانب الآخر" ولا مضاربة بدونها.

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (3/ 459):

(المادة1428:(‌يعود ‌الضرر ‌والخسار ‌في ‌كل ‌حال ‌على ‌رب ‌المال ‌وإذا ‌شرط ‌أن ‌يكون ‌مشتركا ‌بينهما ‌فلا ‌يعتبر ‌ذلك ‌الشرط) . يعود الضرر والخسار في كل حال على رب المال إذا تجاوز الربح إذ يكون الضرر والخسار في هذا الحال جزءا هالكا من المال فلذلك لا يشترط على غير رب المال ولا يلزم به آخر. ويستفاد هذا الحكم من الفقرة الثانية من المادة الآنفة وإذا شرط أن يكون مشتركا بينهما أو جميعه على المضارب فلا يعتبر ذلك الشرط. انظر المادة (83) أي يكون الشرط المذكور لغوا فلا يفسد المضاربة (الدرر) ؛ لأن هذا الشرط زائد فلا يوجب الجهالة في الربح أو قطع الشركة فلا تفسد المضاربة به حيث إن الشروط الفاسدة لا تفسد المضاربة (مجمع الأنهر).

مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (2/ 322):

 (‌وإن ‌خالف) ‌المضارب ‌شرط ‌رب ‌المال (فغاصب) ولو أجاز بعده؛ لوجود التعدي منه على مال غيره فصار غاصبا، فيضمن، وبه قالت الأئمة الثلاثة وأكثر أهل العلم.

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (8/ 19):

وفي الغياثية الفساد قد يكون لجهالة قدر العمل بأن لا يعين محل العمل، وقد يكون لجهالة قدرالمنفعة بأن لا يبين المدة، وقد يكون لجهالة البدل أو المبدل، وقد يكون لشرط فاسد مخالف لمقتضى العقد، ‌فالفاسد ‌يجب ‌فيه ‌أجرة ‌المثل ‌لا يزاد على المسمى إن سمى وإلا فأجر المثل بالغا ما بلغ.

 حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (6/ 46):

(‌تفسد ‌الإجارة ‌بالشروط ‌المخالفة ‌لمقتضى ‌العقد ‌فكل ‌ما ‌أفسد ‌البيع) مما مر (يفسدها) كجهالة مأجور أو أجرة.

الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص579):

(و) تفسد (بجهالة المسمى) كله أو بعضه (و) تفسد (بعدم التسمية) أصلا أو بتسمية خمر أو خنزير (‌فإن ‌فسدت ‌بالاخيرين) بجهالة المسى وعدم التسمية (وجب أجر المثل) يعني الوسط منه.

المبسوط للسرخسي (11/ 41):

‌فإن ‌الديون ‌تقضى ‌بأمثالها.

العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية (1/ 281):

‌فإذا ‌كان ‌عقد ‌البيع ‌أو ‌القرض ‌وقع ‌على ‌نوع ‌معين منها كالريال الفرنجي مثلا فلا شبهة في أن الواجب دفع مثل ما وقع عليه البيع أو القرض.

العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية (1/ 279):

(سئل) ‌في ‌رجل ‌استقرض ‌من ‌آخر ‌مبلغا ‌من ‌الدراهم ‌وتصرف ‌بها ‌ثم غلا سعرها فهل عليه ردمثلها؟

(الجواب) : نعم ولا ينظر إلى غلاء الدراهم ورخصها كما صرح به في المنح في فصل القرض مستمدا من مجمع الفتاوى.

رد المحتار ط : الحلبي (6/ 775):

"(ويصير عصبة بغيره البنات بالابن وبنات الابن بابن الابن) وإن سفلوا."

الفتاوى الهندية ط: دار الفكر بيروت  (6/ 448):

"البنت ولها النصف إذا انفردت وللبنتين فصاعدا الثلثان، كذا في الاختيار شرح المختار وإذا اختلط البنون والبنات عصب البنون البنات،  فيكون للابن مثل حظ الأنثيين."

الفتاوى الهندية ط: دار الفكر بيروت  (2/ 301):

شركة ملك وهي أن يتملك رجلان شيئا من غير عقد الشركة بينهما... وشركة الملك نوعان: شركة جبر، وشركة اختيار فشركة الجبر أن يختلط المالان لرجلين بغير اختيار المالكين خلطا لا يمكن التمييز بينهما حقيقة بأن كان الجنس واحدا أو يمكن التمييز بضرب كلفة ومشقة نحو أن تختلط الحنطة بالشعير أو يرثا مالا ... وحكمها وقوع الزيادة على الشركة بقدر الملك، ولا يجوز لأحدهما أن يتصرف في نصيب الآخر إلا بأمره، وكل واحد منهما كالأجنبي في نصيب صاحبه.

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام ط: دار الجيل (3/ 34):

لو أجر أحد الشريكين المال المشترك لآخر بلا إذن الشريك وقبض الأجرة ،فيعطى شريكه الآخر حصة من بدل الإيجار ويردها إليه، ويشارك الشريك الآخر المؤجر في بدل الإيجار بنسبة حصته في المال المشترك.

یاسر علی گل بہادر

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی    

10/رمضان المبارک /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

یاسر علی بن گل بہادر

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / شہبازعلی صاحب