| 90374 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ایک زمین کی تقسیم میں لاعلمی کی وجہ سے مرحوم کی وراثت میں مرحوم کے سگے بہن بھائیوں کی فہرست میں سوتیلے (باپ شریک) بھائی کا نام بھی شامل کر دیا گیا اور اس بنیاد پر اس کے نام حصہ لگ گیا۔ سن 2023ء میں جب علم ہوا کہ شرعاً اس سوتیلے بھائی کا حصہ نہیں بنتا تو اس کی اولادوں سے کہا گیا کہ وہ زمین واپس کریں۔ اس پر سوتیلے بھتیجوں نے جواب دیا کہ ہم مولانا مودودی رحمہ اللہ کے ماننے والے ہیں اور ان کے مطابق حصہ بنتا ہے۔ مزید یہ کہ سوتیلے بھتیجوں نے ہمیشہ مرحوم کے کاروبار کے منافع سے سگے بھائیوں کو محروم رکھا، غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا، حتیٰ کہ مرحوم کی وراثت کی بنیاد پر جو زمین ان کے والد کے نام لاعلمی سے لگی تھی، اس کے سلسلہ میں بھی مرحوم کی ایک بیوہ سے زبانی دعویٰ کرکے زائد رقم وصول کی، جو سگے بھائیوں کے حصے سے بھی زیادہ ہے۔
سوالات:
- کیا سوتیلے (باپ شریک) بھائی کا اس صورت میں وراثت میں حصہ بنتا تھا یا نہیں؟
- اگر غلطی سے زمین دے دی گئی ہو تو کیا اس کی واپسی لازم ہے؟
- کیا سوتیلے بھتیجوں کا مذکورہ طرزِ عمل، زائد وصولی اور دوسروں کے حقوق دبانا جائز ہے؟
- اب شرعاً تمام ورثہ کے حقوق کیسے ادا کیے جائیں؟
براہ کرم قرآن و حدیث اور فقہِ حنفی کی روشنی میں تفصیلی جواب عنایت فرمائیں۔والسلام
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر صورت مذکورہ درست ہے تو:
- سوتیلے بھائی کا مرحوم کی وراثت میں حصہ نہیں بنتا۔
- مرحوم کی میراث میں سوتیلے بھائی کو جو زمین غلطی سے دی گئی ہے، اس کی واپسی لازم ہے۔
- سوتیلے بھتیجوں پر لازم ہے کہ مذکورہ زمین مرحوم کے شرعی ورثہ کے حوالے کریں، کیونکہ شرعاً کسی شخص کے لیے دوسروں کے حقوق دبانا یا ناحق اپنے قبضہ میں رکھنا جائز نہیں۔ اگر کوئی شخص دوسروں کا حق ناحق طریقے سے کھاتا ہےیا اپنے قبضہ میں رکھتا ہے تو یہ سخت گناہ ہے اور شریعتِ مطہرہ میں اس پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔ لہٰذا ان پر ضروری ہے کہ فوراً حق داروں کو ان کا حق واپس کریں۔
- شرعی طریقے سے میراث کی تقسیم:
مرحوم چوہدری غلام محمد نے اپنے انتقال کے وقت (1978ء) جو جائیداد، نقد رقم، سونا چاندی، مکان، کاروبار، غرض جو کچھ سازوسامان چھوڑا، یا اگر کسی کے ذمے ان کا قرض تھا، یہ سب ان کا ترکہ شمار کیا جائے گا۔سب سے پہلے اس ترکہ میں سے ان کی تجہیز و تکفین کے متوسط اخراجات نکالے جائیں گے، بشرطیکہ یہ اخراجات کسی نے بطورِ احسان ادا نہ کیے ہوں۔ اس کے بعد اگر کسی کا ان پر قرض ہو تو وہ ادا کیا جائے گا۔ پھر اگر غیر وارث کے حق میں انہوں نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ترکہ کی ایک تہائی کی حد تک وہ ادا کی جائے گی۔
اس کے بعد جو کچھ بچے، اس میں سے (%12.5) مرحوم چوہدری غلام محمد کی دونوں بیویوں کا ہوگا، جن میں سے ہر ایک کو (6.25%) ملے گا۔ مرحوم کی دونوں بیٹیوں میں سے ہر ایک کو (33.33%) ملے گا۔ مرحوم کے دونوں سگے بھائیوں میں سے ہر ایک کو (5.95%) ملے گااور مرحوم کی سگی بہنوں میں سے ہر ایک کو (2.976%) ملے گا۔ نیز مرحوم کے سگے بھائی خود موجود ہیں، اس لیے مرحوم کے سوتیلے بھائی کو مرحوم کی میراث میں کچھ نہیں ملے گا۔
|
ورثہ |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
|
پہلی بیوی |
10.5 |
6.5% |
|
دوسری بیوی |
10.5 |
6.5% |
|
پہلی بیٹی |
56 |
33.33% |
|
دوسری بیٹی |
56 |
33.33% |
|
پہلاحقیقی بھائی |
10 |
5.95% |
|
دوسرا حقیقی بھائی |
10 |
5.95% |
|
پہلی حقیقی بہن |
5 |
2.97% |
|
دوسری حقیقی بہن |
5 |
2.97% |
|
تیسری حقیقی بہن |
5 |
2.97% |
|
کل ورثہ(9) |
کل عددی حصص(168) |
کل فیصدی حصص(100) |
حوالہ جات
الفتاوى الهندية): 6( 448/
وأما النساء فالأولى البنت ولها النصف إذا انفردت وللبنتين فصاعدا الثلثان، كذا في الاختيار شرح المختار وإذا اختلط البنون والبنات عصب البنون البنات فيكون للابن مثل حظ الأنثيين، كذا في التبيين.
المبسوط للسرخسي. 29/ 139:
وللبنت الواحدة إذا انفردت النصف ثبت ذلك بالنص وهو قوله تعالى {وإن كانت واحدة فلها النصف} [النساء: 11] واستدلالا أيضا بميراث الأخت فقد قال الله تعالى {وله أخت فلها نصف ما ترك} [النساء: 176] والبنت أقرب إليه من الأخت فإن كن ثلاثا فصاعدا فلهن الثلثان بالنص وهو قوله تعالى {فإن كن نساء فوق اثنتين فلهن ثلثا ما ترك} [النساء: 11] فهذا تنصيص على أنه لا يزاد للبنات على الثلثين عند الانفراد، وإن كثرن {فإن كانتا اثنتين فلهما الثلثان} [النساء: 176] في قول عامة الصحابة - رضوان الله عليهم - وهو قول جمهور الفقهاء.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (6/ 769):
فقال (فيفرض للزوجة فصاعدا الثمن مع ولد أو ولد ابن) (قوله مع ولد) أي للزوج الميت ذكرا أو أنثى ولو من غيرها .
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (6/ 773):
(يحوز العصبة بنفسه وهو كل ذكر) فالأنثى لا تكون عصبة بنفسها بل بغيرها أو مع غيرها…..ثم العصبات بأنفسهم أربعة أصناف جزء الميت ثم أصله ثم جزء أبيه ثم جزء جده (ويقدم الأقرب فالأقرب منهم) بهذا الترتيب فيقدم جزء الميت.......وبعد اتحاد الجهة والقرابة يعتبر الترجيح بالقوة، فيقدم الأخ الشقيق على الأخ لأب، وكذا أبناؤهم، وكل ذلك مستفاد من كلام المصنف، وصرح به العلامة الجعبري حيث قال:فبالجهة التقديم ثم بقربه.
ابن امین صاحب دین
دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی
23/ذيقعده /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ابن امین بن صاحب دین | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


