03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
آم کے باغات کے ٹھیکے کے شرعی احکام
90001خرید و فروخت کے احکامزمین،باغات،کھیتی اور پھلوں کے احکام و مسائل

سوال

 کیافرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسئلہ کے بارےمیں کہ

پنجاب میں آم کے باغات نے پھل(بور) لینا شروع کر دیا ہے، آم کا باغ کب ٹھیکے پر لے سکتے ہیں اس کے بارے میں میرے کچھ سوالات ہیں آپ کی رہنمائی چاہیے۔

1. بور/پھول لگنے سے پہلے باغ ٹھیکے پر لیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ یہاں بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ پھل (بور) لگنے سے پہلے ہی لوگ باغ ٹھیکے پر لے لیتے ہیں تو کیا پھل لگنے سے پہلے ٹھیکے پر لے لینا جائز ہے؟

 2. بور لگنے کے بعد ٹھیکے پر لینا جائزہے؟

 3. بور لگنے کے بعد جب پھل ظاہر ہونا شروع ہو جائے تب ٹھیکے پر لیناجائزہے؟

اس کے علاوہ جو بھی جائز صورتیں ہیں برائے مہربانی آپ رہنمائی فرما دیں جزاک اللہ.

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شرعی طور پرکسی بھی چیز کی خرید و فروخت کا معاملہ منعقد ہونے کے لیے ،اُس چیز کابیع کے وقت موجود ہونا ضروری ہے۔اس اصول کی رو سے باغوں کے پھلوں کی خرید و فروخت کی کئی صورتیں بنتی ہیں ، جن کی تفصیل درج ذیل ہے۔

١۔پہلی صورت یہ ہے کہ پھل ظاہر ہونے سے پہلے اس کی بیع کی جائے،اس طرح پھلوں کی خرید وفروخت بالاتفاق جائز نہیں ہے۔اگر ایسی صورت میں بیع کی تو معدوم کی بیع ہونے کی وجہ سے بیع باطل ہوگی،بائع پر ثمن کا لوٹانا اور مشتری پر باغ کو واپس کرنا لازم ہوگا،رہی بات قدرتی آفات کی وجہ سے نقصان ہونے کی تو نقصان بائع کا ہوگا نہ کہ مشتری کا۔ "لان بیعھا [الثمار]قبل الظھور لا یصح اتفاقاً " (بحر،ج:۵،ص:۵۰۲) وكونه مقدور التسليم فلم ينعقد بيع المعدوم وما له خطر العدم كالحمل واللبن في الضرع والثمر قبل ظهوره. الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 505) 2۔

۲۔دوسری صورت یہ ہے کہ کچھ پھل ظاہر ہوچکے ہوں اور کچھ باقی ہوں اور ایسی صورت میں موجود اور غیر موجود سب پھلوں کی اس طرح بیع کی جائےکہ اصلاً تو موجود پھلوں کی بیع مقصود ہو مگر بیع میں غیر موجود پھلوں کو بھی داخل کرلیا جائے،اس صورت کا حکم یہ ہے کہ ضرورت کی وجہ سے اس طرح بیع کرنا جائز ہے ۔ "(قوله: وأفتى الحلواني بالجواز) وزعم أنه مروي عن أصحابنا وكذا حكى عن الإمام الفضلي، وقال: استحسن فيه لتعامل الناس، وفي نزع الناس عن عادتهم حرج قال: في الفتح: وقد رأيت رواية في نحو هذا عن محمد في بيع الورد على الأشجار فإن الورد متلاحق، وجوز البيع في الكل...(قوله: لو الخارج أكثر) ذكر في البحر عن الفتح أن ما نقله شمس الأئمة عن الإمام الفضلي لم يقيده عنه بكون الموجود وقت العقد أكثر بل قال: عنه أجعل الموجود أصلا، وما يحدث بعد ذلك تبعا." (حاشیۃ ابن عابدین،ج:4 /555 ،ط:المکتبۃ الشاملۃ)

ان کے علاوہ بھی کئی صورتیں فقہاء کرام نے لکھی ہیں:

ایک  صورت یہ ہے کہ پھلوں کی بیع ،پھل ظاہر ہونے کے بعد ایسے وقت میں کی جائے کہ پھلوں کا حجم ابھی مکمل نہ ہوا ہو اور خریدار کے قبضہ کے حوالے سے بیع کے وقت یہ بات طے ہو کہ خریدار پھلوں کو فوراً اتار لے گا ،یا خریدار کے قبضے کے حوالے سے عقد میں کوئی بات طے نہ کی جائے کہ خریدار کب قبضہ کرے گا ،یہ صورت بھی جائز ہے۔ "قال (ومن باع ثمرة بدا صلاحها أو لا صح) لأنه مال متقوم منتفع به في الحال أو في المال وقيل لا يجوز قبل أن يصير منتفعا به والأول أصح… (ويقطعها المشتري) تفريغا لملك البائع هذا إذا اشتراها مطلقا أو بشرط القطع." (تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق،ج:4،ص:12،طبعۃ:المکتبۃ الشاملۃ)

ایک صورت یہ ہے کہ پھلوں کی بیع، پھل ظاہر ہونے کے بعدایسے وقت میں کی جائے کہ پھلوں کا حجم مکمل ہو چکا ہواور خریدار کے قبضے کے حوالے سے بیع کے وقت یہ بات طے ہو کہ پھل پکنے تک درخت پر لگے رہیں گے ،تو مفتیٰ بہ قول کے مطابق یہ صورت بھی جائز ہے۔ "قال (وإن شرط تركها على النخل فسد) أي البيع؛ لأنه شرط لا يقتضيه العقد وهو شغل ملك الغير… وكذا إذا تناهى عظمها عندهما؛ لأنه شرط لا يقتضيه العقد، وقال محمد - رحمه الله - لا يفسد استحسنه للعادة، بخلاف ما إذا لم يتناه عظمها؛ لأنه شرط فيه الجزء المعدوم۔۔۔" (تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق،ج:4،ص:12،طبعۃ:المکتبۃ الشاملۃ)

ایک  صورت یہ ہے کہ پھلوں کی بیع ،پھل ظاہر ہونے کے بعدایسے وقت میں کی جائے کہ پھلوں کا حجم مکمل نہ ہوا ہواور خریدار کے قبضے کے حوالے سے بیع کے وقت یہ بات طے ہو کہ پھل پکنے تک پھل درخت پر لگے رہیں گےیاصراحة پھلوں کو درختوں پر باقی رکھنے کی شرط لگائی جائے۔اس صورت کو فقہاء حنفیہ نےاگرچہ ناجائز لکھاہے،لیکن اس کی وجہ عدم تعامل تھا ،جیسےکہ بعض فقہاء کرام کی عبارات سے معلوم ہوتاہے اوراب چونکہ اس کا تعامل ہوچکاہے،اس وجہ سے اس کی اجازت ہوگی۔ إذا اشتراها بعد ما بدا صلاحها إلا أنها لم تدرك بعد ............ بشرط الترك فالعقد فاسد عندنا جائز عند الشافعي - رحمه الله - لأنه متعارف بين الناس . " (المبسوط للسرخسي (12/ 195)

تحفة الفقهاء (2/ 56)

ولو باع بشرط الترك لا يجوز عند أبي حنيفة وأبي يوسف وقال محمد إن تناهى عظمها جاز وإن لم يتناه عظمها لا يجوز لأن الناس تعاملوا ذلك من غير نكير والصحيح قولهما لأن هذا شرط فيه منفعة للمشتري والعقد لا يقتضيه والتعامل لم يكن بشرط الترك ولكن الإذن معتاد بلا شرط في العقد.

فتح القدير للكمال ابن الهمام (6/ 288)

وجه قول محمد في المتناهي الاستحسان بالتعامل؛ لأنهم تعارفوا التعامل، كذلك فيما تناهى عظمه فهو شرط يقتضيه العقد، وهذا دعوى الشافعي فيما تناهى عظمه وما لم يتناه أنه يجوز؛ لأن العادة تركهم إياه إلى الجذاذ. ومحمد يقول بمنعه لما فيه من اشتراط الجزء المعدوم، وهو الأجزاء التي تزيد بمعنى من الأرض والشجر إلى أن يتناهى العظم، ولا يخفى أن الوجه لا يتم في الفرق لمحمد إلا بادعاء عدم العرف فيما لم يتناه عظمه، إذ القياس عدم الصحة للشرط الذي لا يقتضيه العقد في المتناهي وغيره خرج منه المتناهي للتعامل، فكون ما لم يتناه على أصل القياس إنما يكون لعدم التعامل فيه والجزء المعدوم طرد.

جامع الفصولين (2/ 58)

باع ثمر كرم وأدرك من كل نوع شيء وشرط تركه حتى يدرك جاز البيع والشرط وإن لم يجعل لتركه أجلاً معلوماً.

و فی شرح المجلة:

 و قد نطقت المادۃ (۴۳)ان المعروف عرفا کالمشروط شرطا علی قول محمد المفتی به من جواز بیعها بشرط الترک اذا بدا صلاح بعضها و تقارب بدو صلاح الباقی۔(شرح المجلۃ للاحکام ۲:۹۸المادۃ (۲۰۷)ما تتلاحق افرادہ یعنی ان ما لا یبرز دفعة واحدۃ الخ)

حوالہ جات

.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

17/10/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب