03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
” محرم” میں دیگ وغیرہ کرائے پر دینا
90997اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے جدید مسائل

سوال

محرم کے دنوں میں لوگ ہم سے دیگیں لینے آتے ہیں ۔جن  میں وہ   لوگوں کو تقسیم کرنے کے لیے حلیم بناتےہیں۔یعنی دیگ  اورچمچہ ہم سے کرائےپر لیتے ہیں  ،اور ہم انہیں کرائے پر دیتے ہیں۔ کیا    دیگ اور چمچہ کرائے پر دینا جائز ہےیا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کھانے پکانے کے آلات کو کرائے پر دینا فی نفسہ جائز ہے ۔کوئی انہیں  جائز کام کے لیے استعمال کرتا ہے یا ناجائز کے لیے یہ اس کا ذاتی مسئلہ ہے ۔تاہم کسی حرام کام میں تعاون بھی حرام ہوتا ہے ۔محرم میں چونکہ بعض لوگ غیر اللہ کے نام پر حلیم وغیرہ بناتے ہیں ،جو کہ حرام ہے، لہذا اگرکوئی اسی مقصد کے لیے کرائے پر دے ،یا کرائے پر لینے والا وضاحت کر دے کہ یہ غیر اللہ کی نذرو نیاز میں استعمال ہوں گے ، تو ایسے شخص کو کرائے پر دینا جائز نہیں اور اگر بغیر نیت اور وضاحت کے دیا   ہو،یا  کسی نے صدقات و خیرات کے نام  سے لیا ہو  ، یا کسی بھی دوسرے  جائز کام کے لیے،تو دینے میں حرج نہیں۔

حوالہ جات

فقہ البیوع ،:1/193

ثم السبب إن كان سبباً محركاً وداعياً إلى المعصية، فالتسبب فيه حرام كالإعانة على المعصية بنص القرآن كقوله تعالى: وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ اللهِ" (الأنعام: ۱۰۹) وقوله تعالى: فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْل(الأحزاب: (۳۲) وقوله تعالى: وَلا تَبرجْنَ الآية (الأحزاب: (۳۳).وإن لم يكن محركاً وداعياً، بل موصلاً محضاً، وهو مع ذلك سبب قريب بحيث لا يحتاج في إقامة المعصية به إلى إحداث صنعة من الفاعل، كبيع السلاح من أهل الفتنة، وبيع الأمرد ممن يعصى به، وإجارة البيت ممن يبيع فيه الخمر، أو يتخذها كنيسة أو بيت نار وأمثالها، فكله مكروہ تحريمابشرط أن يعلم به البائع والآجر، من دون تصريح به باللسان، فإنه إن لم يعلم كان معذوراً، وإن علم وصرح كان داخلاً فى الإعانة المحرمة. وإن كان سبباً بعيداً بحيث لا يفضي إلى المعصية على حالتها الموجودة، بل يحتاج إلى إحداث صنعة فيه، كبيع الحديد من أهل الفتنة وأمثالها، فتكره تنزيهاً. "

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (7/ 142):

ويكره بيع السلاح من أهل البغي وفي عساكرهم؛ لأنه إعانة لهم على المعصية، ولا يكره بيع ما يتخذ منه السلاح كالحديد ونحوه؛ لأنه لا يصير سلاحا إلا بالعمل ونظيره أنه يكره بيع المزامير، ولا يكره بيع ما يتخذ منه المزمار، وهو الخشب والقصب، وكذا بيع الخمر باطل، ولا يبطل بيع ما يتخذ منه، وهو العنب كذا هذا والله سبحانه وتعالى أعلم.

فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي (6/ 107):

قال (ويكره بيع السلاح من أهل الفتنة وفي عساكرهم)؛ لأنه إعانة على المعصية (وليس ببيعه بالكوفة من أهل الكوفة ومن لم يعرفه من أهل الفتنة بأس)؛ لأن الغلبة في الأمصار لأهل الصلاح، وإنما يكره بيع نفس السلاح لا بيع ما لا يقاتل به إلا بصنعة.

حنبل اکرم

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

18 /   محرم الحرام /1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حنبل اکرم بن محمد اکرم

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب