03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
وقف کے چندے سے مسجد میں "اے سی” لگانے کی شرعی حیثیت
91264وقف کے مسائلوقف کے متفرّق مسائل

سوال

   ہمارے ملک میں شدید گرمی کے موسم میں بہت سی مساجد میں ائیر کنڈیشنر (AC) یا مناسب ٹھنڈک کا انتظام کیا جاتا ہے تاکہ نمازی سکون، اطمینان اور خشوع کے ساتھ نماز ادا کر سکیں۔ فقہاء نے بھی تصریح کی ہے کہ ایسی جگہ نماز پڑھنا جہاں شدید گرمی یا سردی خشوع میں خلل ڈالے، مکروہ ہے۔ اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا:(أبردوا بالصلاة، فإن شدة الحر من فيح جهنم)اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت نے نمازیوں کی مشقت کو ملحوظ رکھا ہے اور ان کے لیے آسانی اور خشوع کا اہتمام مطلوب ہے۔سوال یہ ہے کہ اگر کسی بڑی دینی درسگاہ، ادارے یا مسجد کی انتظامیہ مالی استطاعت رکھنے کے باوجود مسجد میں ائیر کنڈیشنر یا مناسب ٹھنڈک اور ہوا کا انتظام نہ کرے، حالانکہ نمازی شدید گرمی، گھٹن اور تکلیف کی وجہ سے پریشان ہوں، ان کا خشوع متاثر ہوتا ہو، بعض لوگ مسجد میں آنے سے بھی ہچکچاتے ہوں،اور اہلِ محلہ بھی اس صورتِ حال سے ناخوش ہوں، تو ایسی انتظامیہ کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟کیا ان پر شرعاً لازم ہے کہ نمازیوں کی استطاعت کے مطابق راحت، ٹھنڈک اور مناسب ماحول کا انتظام کریں؟ اگر وہ بلا عذر اس میں کوتاہی کریں یا لوگوں کی بار بار درخواست کےباوجود اس مسئلے کو نظر انداز کریں، تو کیا یہ حقوقِ مسلمین، امانت اور ذمہ داری میں کوتاہی شمار ہوگی؟ ایسے ذمہ داران کے لیے شریعت کی نصیحت اور حکم کیا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مسجد کودیا ہوا  چندہ   وقف کامملوک ہوتا ہے ۔معتدل موسم والے علاقوں میں عرف یہ ہےکہ بالعموم مساجد میں"اے سی" ((ACیا "ہیٹر" نہیں لگتے، توعمومی چندے سے" اے سی"یا "ہیٹر  "خرید کر لگانا  درست نہیں ہوگا۔ہاں خصوصی چندے سے لگاسکتے ہیں۔تاہم شدید موسمی حالات والے شہروں میں  احوال مختلف ہوں گے۔چنانچہ جن سرد یا گرم علاقوں میں" اے سی" یا"  ہیٹر" لگانا ضرورتِ مسجد میں داخل ہو،   وہاں اس کی گنجائش ہوگی اور جہاں ایسا نہ ہو، وہاں اس سے احتراز لازم ہوگا۔

خلاصہ یہ ہے کہ جن علاقوں میں" اے  سی " مسجد کی معروف ضرورت ہو،  تو وہاں مسجدکمیٹی فنڈز کی موجودگی میں اس کا اہتمام کرےاور اگر کہیں معروف ضرورت نہ ہو،     تو مسجد کمیٹی "ا ے سی"  لگوانے کی پابند نہیں۔ اگر کچھ لوگوں کی رائے ہے کہ "اے سی" لگوایا جائے، تو اس کا فنڈ اور اس کی وجہ سے بجلی کے بل میں اضافہ بھی انہی کو فراہم کرنا چاہیے۔ایسی صورت میں مسجد کمیٹی کو ان سے تعاون کرنا چاہیے۔

حوالہ جات

العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية (1/ 123):

قال في الإسعاف يجب صرف الغلة على ما شرط الواقف وفي غيره شرط الواقف كنص الشارع أي

في المفهوم والدلالة والذي رأيناه في الخيرية من جهة الصرف إليهم في منقطع الوسط وأما إذا كان موقوفا على مبرات عينها وسماها الواقف أنه لا يصرف إليها ويصرف إلى الذرية فلم نره الآن مع ضيق الوقت والله تعالى المستعان وأما إذا وقفه على أبواب البر والمساكين فاحتاج ولده فهو مقدم كما يأتي عن الإسعاف.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (4/ 366):

وكذا سيأتي في فروع الفصل الأول أن قولهم شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة، ووجوب العمل به قلت: لكن لا يخفى أن هذا إذا علم أن الواقف نفسه شرط ذلك حقيقة أما مجرد كتابة ذلك على ظهر الكتب كما هو العادة فلا يثبت به الشرط وقد أخبرني بعض قوام مدرسة إن واقفها كتب ذلك ليجعل حيلة لمنع إعارة من يخشى منه الضياع والله سبحانه أعلم.

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (5/ 224):

فقال الصدر الشهيد في جنس هذه المسائل نظر يعني لأن الوقف بعدما خرج إلى الله تعالى لا يعود إلى ملك الواقف وسيأتي تمامه في بيان شروط الواقف عند قوله وإن شرط الولاية لنفسه وفي الخانية المتولي إذا اشترى من غلة المسجد حانوتا أو دارا أو مستغلا آخر جاز لأن هذا من مصالح المسجد فإن أراد المتولي أن يبيع ما اشترى أو باع اختلفوا فيه قال بعضهم لا يجوز هذا البيع لأن هذا صار من أوقاف المسجد وقال بعضهم يجوز هذا البيع وهو الصحيح لأن المشتري لم يذكر شيئا من شرائط الوقف فلا يكون ما اشترى من جملة أوقاف المسجد. اهـ.

حنبل اکرم

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

01  /صفر المعظم/1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حنبل اکرم بن محمد اکرم

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب