03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
آغاخانی فلاحی ادارے سےمعاونت لینے کا حکم
90012جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

پاکستان میں آغاخانیوں کے رولر سپورٹس پروگرام کے بہت سے ادارے قائم ہیں، جو پاکستان کے دیہی اور شہری علاقوں میں بالخصوص گلگت اوربلتستان کے پسماندہ علاقوں کی معاونت کے لیےفلاحی اور ترقیاتی کام سر انجام دیتے ہیں، جن میں تعلیم، صحت کے ادارے اور دیگر ترقیاتی منصوبے شامل ہیں، جن میں مسلمان اور آغاخانی دونوں کا فائدہ ہوتا ہے، نیز اس میں آغاخانیوں کی دعوت اور مذہب کی تشہیر کے آثار بالکل ظاہر نہیں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان سے معاونت لینا جائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آغاخانیوں کے بعض عقائد چونکہ اسلام کے اصولی عقائد کے خلاف ہیں، جن کی وجہ سے یہ دائرہٴ اسلام سے خارج ہیں، اس کے باوجود یہ لوگ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور اپنے فرقہ کو مسلمان فرقہ شمار کرتے ہیں، ایسا شخص زندیق کہلاتا ہے اور زندیق کے ساتھ میل جول رکھنے  سے شریعت نے منع کیا ہے، لہذا عام حالات میں ان لوگوں سے معاونت نہیں لینا چاہیے، تاکہ سادہ لوح مسلمان ان کو بھی مسلمان سمجھ کر ان کے کفریہ عقائد کی طرف مائل نہ ہوں، البتہ اگر یہ لوگ اپنے کفریہ عقائد کی دعوت نہ دیتے ہوں اور بغیرکسی غرضِ فاسد کے انسانیت کی خدمت کرتے ہوں تو ایسی صورت میں ضرورت کے وقت ان کے فلاحی ادارہ سےمستحق افراد کے لیے معاونت لینے کی گنجائش ہے۔

حوالہ جات

القرآن الکریم: (آل عمران: 28):

لَايَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكٰفِرِينَ أَوْلِيَآءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللّٰهِ فِي شَيْءٍ إِلَّا أَنْ تَتَّقُوْا مِنْهُمْ تُقَاةً وَّيُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهُ وَإِلَى اللّٰهِ الْمَصِيرُo.

فقہ البیوع للشيخ محمد تقي العثماني: (أحکام بیع غیر المسلمین، 166/1):

وکذلک لا یشترط لصحۃ البیع اسلام المتعاقدین، فیصح البیع والشراء من غیر مسلم، سواء أکان ذمیا أم حربیا أو مستأمنا، ولکن منع بعض الفقھاء من مبایعتہ لبعض العوارض لا لکونہ غیر أھل للتعاقد.

  فيض الباري على صحيح البخاري (6/ 401) دار الكتب العلمية بيروت:

والزنديق من يحرف في معاني الألفاظ، مع إبقاء ألفاظ الإسلام كهذا اللعين في القاديان، يدعي أنه يؤمن بختم النبوة، ثم يخترع له معنى من عنده يصلح له بعده الختم دليلا على فتح باب النبوة، فهذا هو الزندقة حقا، أي التغيير في المصاديق، وتبديل المعاني على خلاف ما عرفت عند أهل الشرع، وصرفها إلى أهوائه مع إبقاء اللفظ على ظاهره، والعياذ بالله.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

19/شوال المکرم1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب