| 90082 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
والد صاحب نے 1974 میں ایک گھر خریدا جو کچی آبادی میں واقع تھا، اسی وجہ سے اس وقت کے ڈی اے (KDA) کی الاٹمنٹ یا لیز وغیرہ موجود نہ تھی۔ والد صاحب کے دو بچے تھے: ایک میں اور دوسری میری بہن شہناز۔ میری بہن کی شادی 1979 میں ہوئی۔ 1993 میں میری والدہ کا انتقال ہو گیا۔
2001 میں آدھے گھر کی ازسرِ نو تعمیر ہوئی جس میں تین دکانیں بھی بنائی گئیں۔ ان تعمیراتی اخراجات کو پورا کرنے کے لیے ایک دکان پگڑی پر دے دی گئی۔ 2007 میں میرے والد کا انتقال ہوا، جس کے بعد 2008 میں، میں نے اس گھر کی لیز اپنے نام پر منتقل کروائی۔
2013 میں میری بہن کا انتقال ہو گیا۔ میری بہن کے 9 بچے ہیں (7 بیٹیاں اور 2 بیٹے)۔ ان میں سے 5 بیٹیاں اور ایک بیٹا شادی شدہ ہیں، جبکہ 2 بیٹیاں اور ایک بیٹا ابھی غیر شادی شدہ ہیں۔ میرے بہنوئی الحمدللہ حیات ہیں۔
2017 میں میرے بیٹے نے دکان کی پگڑی کی رقم واپس کر کے (جو اس وقت 5 لاکھ روپے طے پائی تھی) اس دکان کا قبضہ اور ملکیت واپس لے لی۔ 2022 میں، میں نے یہ مکان بشمول 3 دکانوں کے 94 لاکھ روپے میں فروخت کر دیا۔ اس رقم میں سے دکان کی پگڑی اور دیگر اخراجات جو میرے بیٹے نے کیے تھے، اس کے عوض اسے 10 لاکھ روپے ادا کر دیے گئے۔
درخواست: شرعِ محمدی کے مطابق، بقایا رقم 84 لاکھ روپے کی تقسیم میرے اور میری مرحومہ بہن کے ورثاء کے درمیان کس طرح ہوگی؟ براہِ کرم وضاحت فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
چونکہ آپ کے والد کے انتقال کے وقت ورثاء صرف آپ (بیٹا) اور آپ کی بہن (بیٹی)شہناز تھیں، اور والد کی بیوی (آپ کی والدہ) یا کوئی اور وارث (والدین وغیرہ) حیات نہ تھے، اس لیے والد کا کل ترکہ (84 لاکھ روپے) آپ دونوں کے درمیان اس طرح تقسیم ہوگا کہ بیٹے کو دو حصے اور بیٹی کو ایک حصہ ملے۔ اس حساب سے آپ کا حصہ 56 لاکھ روپے اور آپ کی بہن کا حصہ 28 لاکھ روپے بنتا ہے۔ چونکہ آپ کی بہن کا انتقال والد کے بعد ہوا، اس لیے ان کا حصہ (28 لاکھ روپے) اب ان کے اپنے ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا۔ بہن کے ورثاء میں چونکہ ان کے شوہر، دو بیٹے اور سات بیٹیاں شامل ہیں، اور کوئی اور وارث موجود نہیں ہے، اس لیے ان کی رقم میں سے ان کے شوہر (آپ کے بہنوئی) کو چوتھائی حصہ یعنی 7 لاکھ روپے ملیں گے، جبکہ بقیہ 21 لاکھ روپے ان کے دو بیٹوں اور سات بیٹیوں میں وراثت کے قاعدے (بیٹے کا حصہ بیٹی سے دوگنا) کے مطابق تقسیم ہوں گے، جس کی رو سے ہر بیٹے کو 3,81,818 روپے اور ہر بیٹی کو 1,90,909 روپے ملیں گے۔
حوالہ جات
قال اللہ تعالی :
"يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ"(النساء: 11)
وقال ٲیضاً:
"وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ ۚ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ..."(النساء: 12)
قال في الفتاوى الهندية:
"وهوأن يموت بعض الورثةقبل قسمة التركة كذا في محيط السرخسي وإذا مات الرجل ،ولم تقسم تركته
حتى مات بعض ورثته ......فإن كانت ورثة الميت هم ورثة الميت الأول،ولا تغير في القسمة تقسم قسمة واحدة ؛ لأنه لا فائدة في تكرار القسمة بيانه إذا مات وترك بنين وبنات ثم مات أحد البنين أو إحدى البنات ولا وارث له سوى الإخوة والأخوات قسمت التركة بين الباقين على صفة واحدة للذكر مثل حظ الأنثيين فيكتفي بقسمة واحدة بينهم وأما إذا كان في ورثة الميت الثاني من لم يكن وارثا للميت الأول فإنه تقسم تركة الميت الأول ، أولا ليتبين نصيب الثاني ثم تقسم تركة الميت الثاني بين ورثته فإن كان يستقيم قسمة نصيبه بين ورثته من غير كسر فلا حاجة إلى الضرب." (ج:51,ص:412, المكتبة الشاملة)
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
1/11/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


