03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مکان کے ہبہ اور سسر کی میراث سے متعلق سوالات
90014میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

سال 2021ء میں مرحوم احسن صاحب اور ان کی اہلیہ نے ایک گھر میزان بینک کے ذریعے شریعہ لون یعنی مشارکہ کی بنیاد پر خریدا۔ اس وقت احسن صاحب کی عمر 56 سال تھی اور بینک قوانین کے تحت ان کی ریٹائرمنٹ کی عمر قریب ہونے کی وجہ سے انہیں Loan نہیں دیاجا سکتا تھا۔جبکہ  اہلیہ کی عمر 47ہونے کی وجہ سے Loan مل سکتا تھا،  لیکن ایک فرد کے لحاظ سے Loan کم تھا، بینک نے دونوں افراد کی سیلری دیکھتے ہوئے مشترکہ درخواست پر ایک کروڑ پچیس لاکھ کا قرضہ نو (9) سال کیلئے منظور کیا ۔ واضح رہے کہ دونوں اقراء یونیورسٹی میں 20گریڈ کے استاذتھے، گھر کی ماہانہ قسط کبھی احسن صاحب اور کبھی ان کی اہلیہ ادا کرتی، گھر کے اخراجات بھی دونوں کی کمائی سے چلتے تھے، سال 2024ء میں احسن صاحب نے زبانی طورپریہ گھر اپنی اہلیہ کو ہبہ کر دیا، جس کے گواہ ابھی بھی موجود ہیں، البتہ کاغذات میں یہ گھر دونوں میاں بیوی کے نام پر ہے، بینک کے پاس گروی ہونے کی وجہ سے اہلیہ کے نام منتقل ہونے میں کچھ مشکلات تھیں، احسن صاحب کا 2025ء میں انتقال ہوا، اس کے بعد ان کی اہلیہ گھر کی قسطیں ادا کر رہی ہیں، لون کی کل مدت نو سال ہے، احسن صاحب کو جب کینسر کی بیماری تشخیص ہوئی تو انہوں نے کئی بار یہ بات کہی کہ یہ گھر میری اہلیہ کا ہے، جس کے گواہ بھی موجود ہیں اور بطورِریکارڈ ان کا وائس میسج بھی موجود ہے، کیونکہ وہ اس سے  پہلے اہلیہ کویہ گھر زبانی ہبہ  کر چکے تھے۔احسن صاحب جی پی فنڈ اور لیو اِن کیشمنٹ (Leave In Cashment)زندگی میں ہی وصول کر کے خرچ کر چکے تھے، البتہ گریجوئیٹی میں ستر لاکھ روپیہ آنا باقی ہے، پینشن کے بھی 55000 روپیے ملنا باقی ہیں، یاد رہے کہ انہوں نے مختلف لوگوں سے 68 لاکھ روپیہ قرض لیا ہوا ہے اور 50 لاکھ روپیہ بینک کو ادا کرنا باقی ہیں، اب میرے سوالات درج ذیل ہیں:

  1. یہ گھر کسی کی ملکیت ہے؟ ہم دونوں کا یا صرف میری ملکیت ہے؟
  2. ادارے کی طرف سے ابھی جو رقم ملنا باقی ہے  کیا قرض کی موجودگی میں اس میں وراثت جاری ہو گی؟
  3. احسن صاحب نے جو رقم جاننے والوں سے یہ کہہ کر لی تھی کہ ریٹائر منٹ کے بعد ادائیگی کر دی جائے گی تو اس قرض کی ادائیگی کیسے ہو گی؟
  4. احسن صاحب کے والد کی میراث میں سے انہیں حصہ نہیں دیا گیا تھا، بلکہ ان کے بھائی نے یہ کہہ کر سب جائیداد اپنے نام کروالی تھی کہ بعد میں حصہ ادا کر دیا جائے گا، احسن صاحب اپنا حصہ آخری  وقت تک مانگتے رہے، مگر زندگی میں ان کو اپنے والد کی میراث میں سے کوئی حصہ نہیں دیا گیا تو کیا میں احسن صاحب کے حصے کا مطالبہ کر سکتی ہوں؟
  5. احسن صاحب کی وراثت ان کے ورثاء میں کس طرح تقسیم ہو گی؟ جبکہ  ان کے ورثاء میں والدہ، ایک بیوہ، ایک بھائی اور دو بہنیں موجود ہیں، مرحوم کی کوئی اولاد نہیں ہے۔

وضاحت: مکان خریدتے وقت دونوں  نے مشترکہ  ملکیت کے طور پر مکان خریدنے کی نیت کی تھی، اس لیے مکان دونوں کے نام رجسٹرڈ تھا۔ البتہ جب شوہر نے مکان ہبہ کیا تو اس وقت وہ اسی مکان میں رہائش پذیر تھے، ان کا کچھ سامان بھی موجود تھااوراسی مکان ان کا انتقال ہوا، یہ مکان دو سو چالیس گز پر مشمل تھا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آپ کے سوالات کے جوابات بالترتیب درج ذیل ہیں:

  1. صورتِ مسئولہ میں چونکہ آپ دونوں نے یہ مکان مشترکہ طور پر مالک بننے کے لیے خریدا گیا تھا اس لیے شرعی اعتبار سے اس وقت یہ آپ دونوں کی ملکیت تھا، اس کے بعد جب آپ کے شوہر احسن صاحب نے آپ کو اپنا حصہ ہبہ کیا تو چونکہ یہ مکان  بڑا ہونے کی وجہ سے قابلِ تقسیم تھا اور  شرعاً  قابلِ تقسیم چیز کے ہبہ کے مکمل اور درست ہونے کے لیے موہوب لہ(جس کو ہبہ کیا گیا ہو) کو اس کوتقسیم کر کےباقاعدہ  قبضہ دینا ضروری ہے، جبکہ مذکورہ صورت میں احسن صاحب اسی مکان میں رہائش پذیر تھے اور اسی جگہ رہائش پذیر ہونے کی حالت میں اپنا حصہ اہلیہ کو دینے سے ہبہ کا معاملہ شرعاً مکمل نہیں ہوا ، اس لیے اب ان کے حصہ کا مکان ان کی وراثت شمار ہو گا، جس میں ان کے تمام ورثاء اپنے شرعی حصوں کے مطابق شریک اور حصہ دار ہوں گے۔ البتہ آپ کے حصہ کا آدھا مکان آپ کی ملکیت شمار ہو گا، جس میں ان میں سے کسی کا بھی حصہ نہیں ہے۔
  2. ادارے کی طرف سے  ملنے والی گریجویٹی کی رقم وراثت شمار ہو گی اور وراثت کا اصول یہ ہے کہ اس میں سے سب سے پہلے کفن دفن کے اخراجات نکالنے، پھر قرض کی ادائیگی، اس کے بعد وصیت پر عمل اور پھر بقیہ ترکہ ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہو گا، لہذا صورتِ مسئولہ میں مرحوم کے ترکہ میں سے  تجہیز وتکفین وغیرہ کے اخراجات نکالنے کے بعد ان کے ذمہ واجب شدہ قرض ادا کیا جائے گا، اگر اس
  3. میں سے کوئی رقم بچ جائے گی تو پھر اگر انہوں نے غیر وارث (کیونکہ شرعاً وارث کے لیے دیگر ورثاء کی رضا مندی کے بغیر وصیت معتبر نہیں) کوئی جائز وصیت کی ہے تو کل ترکہ کے ایک تہائی کی حد تک اس پر عمل کیا جائے گا، اس کے بعد ورثاء کا حق ہو گا۔

باقی  ماہانہ ملنے والی پنشن عطیہ شمار ہو گی، لہذا ادارے کے قانون کے مطابق جس کے نام پر وہ پنشن جاری ہوئی ہے وہی اس کا حق دار ہے۔

  1. اس کا جواب نمبر2کے تحت گزر چکا ہے کہ تجہیزوتکفین کے بعد مرحوم کے تمام ترکہ میں سے سب سے پہلے ان کا قرض ادا کی جائے گا، قرض ادا کرنے سے پہلے کسی وارث کا ترکہ کے ساتھ کوئی حق متعلق نہیں ہے،  البتہ  مشترکہ خریدے گئےمکان کا آدھا حصہ چونکہ آپ کی ملکیت ہے اس لیے اس مکان کی بقیہ رقم میں سے آدھی رقم کی ادائیگی آپ کے ذمہ لازم ہے۔
  2.  احسن صاحب اپنے والد کے ترکہ میں اپنے شرعی حصہ کے مطابق حق دار تھےاور ان کے بھائی کی ذمہ داری تھی کہ وہ ان کا شرعی حصہ ان کے سپرد کرتے،  لیکن جب انہوں نے زندگی میں وہ حصہ نہیں دیا تو اب ان کی وفات کے بعد ان کا شرعی حصہ ان کے ورثاء کی طرف منتقل ہو گیا، جس میں ان کے تمام ورثاء یعنی ان کی  والدہ، بیوہ، بھائی اور دو بہنیں اپنے شرعی حصوں کے مطابق حق دار ہوں گی۔
  3. مرحوم کے کل ترکہ سے تجہیزوتکفین کے  اخراجات نکالنے(البتہ اگر کسی نے بطور تبرع یہ اخراجات ادا کر دیے ہوں تو پھر ان کے نکالنے کی ضرورت نہیں)، واجب الادء قرض ادا کرنےاور جائز وصیت پر عمل کرنے کے بعد باقی ترکہ کو اڑتالیس (48)حصوں میں برابر تقسیم کر کے چھٹا حصہ مرحوم کی والدہ کو، چوتھائی حصہ ان کی بیوہ کو اور بقیہ حصہ ان کے بھائی اور بہنوں میں اس طرح تقسیم ہو گا کہ ہر بہن کو بھائی کی بنسبت آدھا حصہ ملے گا، تقسیم میراث کا نقشہ درج ذیل ہے:

نمبر شمار

وارث

   عددی حصہ

    فيصدی حصہ

1

بیوه

12

25%

2

والدہ

8

16.666%

3

بھائی

14

29.166%

4

بہن

7

14.583%

5

بہن

7

14.583%

6

مجموعہ

48

100

حوالہ جات

القرآن الکریم [النساء: 11]

{وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ فَإِنْ كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ}

القرآن الکریم [النساء: 12]:

{ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ}

الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار للعلامة الحصكفي(ص: 560) الناشر: دار الكتب العلمية،بيروت:

(و) شرائط صحتها (في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول) كما سيتضح.

تحفة الفقهاء (3/ 162) دار الكتب العلمية، بيروت:

ومنها أن تكون الهبة متميزة عن غير الموهوب وغير متصلة به ولا مشغولة بغير الموهوب حتى لو وهب أرضا فيها زرع للواهب دون الزرع أو نخلا فيها ثمرة للواهب معلقة به دون الثمرة لا يجوز وكذلك لو وهب ثمرة النخل دون النخل أو الزرع دون الأرض وقبض النخيل والثمرة والأرض والزرع لا يجوز.

وكذا لو وهب دارا فيها متاع للواهب أو ظرفا فيه متاع للواهب دون المتاع أو وهب دابة عليها حمل للواهب دون الحمل وقبضها فإنه لا يجوز .

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

19/شوال المکرم1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب