03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
وراثتی جائیداد میں تعمیر کاحکم
90006میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

 میرے دادا نے لیاقت آباد کا مکان بیچ کر دو پراپرٹی خریدیں،جن میں ایک سیمنٹ کی چادروں کا 120 گز کا مکان نیوکراچی میں خریدا اور دوسری ایک کمرشل جگہ پر پلاٹ خریدا اور ایک فلور (RCC)کا بنوایا۔ میرے دادا کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے ۔ اس مکان میں دونوں بھائی رہائش پذیر تھے ۔ دادا نے لیکن وہ مکان اپنے بڑے بیٹے کے نام کر دیا ۔ اور جب چھوٹے بیٹے نے کہا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا تو انھوں نے کہا کمرشل پلاٹ تیرا ہے ۔ مگر انہوں نے اپنی زندگی میں کسی کے نام نہیں کیا۔1992 میں دادا کا انتقال ہوگیا ۔ چھوٹے بیٹے نے 1999 سے گراؤنڈ فلور اور آدھا 1 فلور (RCC) بنوایا،اپنے بڑے بھائی کی اجازت سے۔2006 میں فرسٹ فلور کا بقایا حصہ بھی بنوا لیا - گراونڈ فلور میں بڑے بھائی اپنی اولادوں کے ساتھ رہائش پذیر تھے اور فرسٹ فلور پرچھوٹا بھائی اپنی اولادوں کے ساتھ رہائش پذیر تھا۔ پھر 2005 میں جھوٹےبیٹے نے کمرشل پراپرٹی بیچ دی جو کہ وہ اپنے نام کروا چکےتھے۔ کمرشل پراپرٹی کے جو پیسے آئے اس میں سے انہوں نے اپنی بہن کو ان کا حصہ دے دیا۔ باقی پیسے اپنے پاس رکھ لیے۔پھر 2016 میں بڑے بھائی کا انتقال ہو گیا ۔ اس کے بعد بھی سب ویسے ہی رہتے رہے ۔ جب 2025 میں چھوٹے بھائی کا انتقال ہو گیا۔تو ان کے مرنے کے 1 مہینے کے بعد ہی بڑے بھائی کے بیٹوں نے چھوٹے بھائی کے بیٹوں سے مکان خالی کرنے کی demand کردی اور کہا کہ اب اس گھر پر تمھارا کوئی حق نہیں ہے، اب سوال یہ ہے کہ آیا چھوٹے بھائی نے جو اپنے بڑے بھائی کی مرضی سے، اس مکان کو بنانے پر جو پیسہ لگایا ہے تو اس مکان میں چھوٹے بھائی کا کوئی شرعی حق ہےیا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

1۔واضح رہے کہ والد کی جانب سے محض زبانی بتانے یا نام کرنے سے جائیداد کی ملکیت منتقل نہیں ہوتی ،بلکہ

شرعی اعتبارسے یہ ہدیہ ہے اور ہدیہ میں قبضہ دینا بھی ضروری ہے،قبضہ کا مطلب یہ ہے کہ والدنے اس جائیداد

سےاپنے تصرفات ختم کرکے ، اس کے تمام حقوق اور سارے متعلقہ امور سے دستبردار ہوکربیٹوں کے حوالے کردیا ہو تویہ جائیداد بیٹوں کی ملکیت میں آگئی ہے،لہذا اگر والد نے رہائشی مکان سے اپنا سامان وغیرہ نکال کربیٹےکے حوالے کیا ہواور دوسرے کمرشل پلاٹ کے اختیارات بھی بیٹے کو اس طور پر متنقل کردیے ہوں تو پھر یہ ان کی ملکیت میں آگئے تھے،اور دوسرے بھائی نے مکان میں جو تعمیرات کی ہیں فقط اس کا خرچہ وصول کرسکتا ہے۔

2۔ سوال سے معلوم ہوتا ہے کہ مکان سے والد نے اپنا قبضہ ختم نہیں کیا تھااور نہ ہی پلاٹ کے اختیارات دوسرے بیٹے کو منتقل کیے تھے،اس لیے اس سے یہ ملکیت منتقل نہیں ہوئی ہے ،بلکہ والد کی وفات کے بعد یہ سب چیزیں بطور وراثت تقسیم ہوں گی،جس میں دونوں بیٹے اورایک بیٹی شریک ہوں گی،ہر ایک کو میراث میں سے اس کے حصے کے مطابق حق ملے گا۔جبکہ دوسرے بھائی کو مکان میں اپنی تعمیر کے اخراجات وصول کرنے کا حق حاصل ہوگا،اور جو پلاٹ چھوٹے بھائی نے دیگر ورثہ  کی رضامندی سے فروخت کی اہے اس کی رقم بھی میراث میں شامل ہوگی،اور ورثہ کے درمیان اپنے حساب سے تقسیم ہوگی۔

3۔دادا کی وراثت ان کے دوبیٹوں اور ایک بیٹی میں تقسیم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ مرحوم نے بوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا ،چاندی،نقدی اور ہر قسم کا سامان چھوڑا ہےاوراسی طرح مرحوم کا  وہ قرض جو کسی کے ذمہ  واجب ہو، يہ  سب مرحوم کا ترکہ ہے،اس میں سب سے پہلے کفن دفن کے معتدل اخراجات(اگر کسی نے اپنی طرف سے بطور احسان نہ کیے ہوں تو) نکالے جائیں،پھر اگر میت پر قرضہ ہو تو وہ ادا کیا جائے،اگر انہوں نے وارث کے علاوہ کسی کے لیے وصیت کی ہوتو ایک تہائی سے وہ ادا کی جائے،اس کے بعد بقیہ مال  ورثہ میں تقسیم کیاجائے، تقسیم کا طریقہ کار یہ ہے:۔

میراث کے 5حصے بنائے جائیں گے،جن میں سے2حصے ہربیٹے کو ملیں گے،دونوں بیٹوں کے کل حصے4 ہوں گے۔ اور1 حصہ بیٹی کو ملے گا۔

نمبر

وارث

عددی حصہ

فیصدی حصہ

1

بیٹا

2

40

2

بیٹا

2

40

3

بیٹی

1

20

 

 

 

 

 

 

حوالہ جات

وفي الدرالمختار(6/259):

 (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والاصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها، وإن شاغلا لا، فلو وهب جرابا فيه طعام الواهب أو دارا فيها متاعه، أو دابة عليها سرجه وسلمها كذلك لا تصح وبعكسه تصح في الطعام والمتاع والسرج فقط لأن كلا منها شاغل الملك لواهب لا مشغول به لأن شغله بغير ملك

واهبه لا يمنع تمامها كرهن وصدقة لأن القبض شرط تمامها"…

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

20/ شوال 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب