| 90013 | زکوة کابیان | زکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میری شادی 2013 میں ہوئی تھی اور اب تقریباً 12 سال ہو چکے ہیں۔ شادی کے موقع پر مجھے کافی زیورات ملے تھے جو سونے اور چاندی دونوں کے تھے، جن میں سونے اور چاندی کے سیٹ، چوڑیاں، انگوٹھیاں، بندے اور دیگر بہت سی چیزیں شامل تھیں۔ اس کے بعد بھی میں نے وقتاً فوقتاً سونا خریدا۔
شروع میں مجھے زکوٰۃ کے مسائل اور اس کی اہمیت کا اندازہ نہیں تھا، اس لیے میں نے ان چیزوں کی زکوٰۃ ادا نہیں کی تھی۔ کچھ سالوں بعد جب مجھے زکوٰۃ کی اہمیت معلوم ہوئی، تو میں نے سال 2022 میں اپنے تمام زیورات کا الگ الگ وزن کروایا اور پچھلے تمام سالوں کی زکوٰۃ کا حساب نکلوایا۔ جن صاحب سے میں نے حساب لگوایا تھا وہ آپ ہی کے مدرسے سے منسلک تھے، انہوں نے ہر سال کے پرانے ریٹ (بھاؤ) کے حساب سے زکوٰۃ نکال کر دی تھی۔ جب حساب ہوا تو زکوٰۃ کی رقم لاکھوں میں تھی، اس وقت مجھ میں اتنی سکت نہیں تھی کہ میں اسے ادا کر سکوں، اور نہ ہی مجھے اس وقت یہ معلوم تھا کہ سونا بیچ کر بھی زکوٰۃ ادا کی جا سکتی ہے۔
البتہ اس کے بعد میں رمضان میں زکوٰۃ کے نام پر کچھ ہزار روپے نکال کر اپنے پاس لکھ لیتی تھی اور کسی مستحق کو دے دیتی تھی، لیکن وہ پچھلی زکوٰۃ ایک ساتھ ادا نہیں کر پائی۔ بعد میں مَیں نے ایک شارٹ عالمہ کورس کیا جس سے مجھے زکوٰۃ کی اہمیت اور اسے ادا نہ کرنے والوں کے بارے میں قرآن پاک کی سخت وعیدوں کا علم ہوا، تو میں نے اب مکمل طور پر گزشتہ تمام زکوٰۃ ادا کرنے کا پختہ تہیہ کر لیا ہے۔
اسی دوران میرے شوہر کی طبیعت خراب رہنے لگی، تو میں نے ایک گھر خریدنے کا فیصلہ کیا۔ چونکہ میری کوئی اولاد نہیں ہے، والدین بھی وفات پا چکے ہیں اور میرا کوئی بھائی بھی نہیں ہے، اس لیے میں نے سوچا کہ اگر (خدا نخواستہ) میرے شوہر کو کچھ ہو گیا تو میں کہاں جاؤں گی؟ اپنے مستقبل کے تحفظ اور رہائش کے لیے میں نے اپنا کافی سونا بیچ کر گھر خرید لیا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ میں خود بھی اکثر بیمار رہتی ہوں اور ادویات کا کافی خرچہ ہے، تو یہ خرچہ کب تک اور کون اٹھائے گا؟
اب صورتحال یہ ہے کہ جو سونا میں نے بیچ دیا، اس کی بھی زکوٰۃ ادا نہیں ہو سکی اور نہ ہی موجودہ زیورات کی مکمل
ادائیگی ہوئی۔ اب میں اپنے تمام زیورات کی زکوٰۃ ادا کرنا چاہتی ہوں۔ لیکن آج کل سونے کے ریٹ بہت زیادہ ہو گئے ہیں، جس کی وجہ سے زکوٰۃ کی رقم لاکھوں میں بن رہی ہے جو میں ادا نہیں کر پا رہی۔
میری معلمہ (جو مفتی تقی عثمانی صاحب کی بھتیجی ہیں) نے کہا کہ جتنے سالوں کی بھی زکوٰۃ ہے، وہ آج کے ریٹ کے حساب سے ہی نکالی جائے گی۔ جبکہ آپ کے مدرسے کے ایک طالب علم نے کہا کہ اس میں گنجائش ہے اور میں پرانے ریٹ کے حساب سے بھی دے سکتی ہوں۔
- آپ رہنمائی فرمائیں کہ کون سا طریقہ بہتر ہے؟ میں نے موجودہ ریٹ کے حساب سے چند چیزوں کی زکوٰۃ نکالی تو وہ بہت زیادہ بنی، جو میں نے ادا کر دی ہے، لیکن 12 سال کی مجموعی رقم بہت زیادہ بن رہی ہے، وہ میں کیسے ادا کروں؟
- جو سونا میں نے بیچ دیا، وہ میرے پاس 12 سال رہا، کیا اس کی ان 12 سالوں کی زکوٰۃ مجھ پر واجب ہے؟
- جو سونا بیچ کر میں نے گھر لیا، کیا میرا یہ فیصلہ درست تھا؟
- میرے پاس سونے کا ایک سیٹ تھا جس کا وزن 36 گرام تھا، میں اسی حساب سے زکوٰۃ نکالتی تھی، لیکن جب گھر خریدنے کے لیے اسے بیچا اور پگھلوایا گیا تو معلوم ہوا کہ اس میں خالص سونا صرف 33 گرام ہے۔ کیا زکوٰۃ پورے زیور کے وزن پر ہوتی ہے یا صرف خالص سونے پر؟
- میرے پاس ابھی بھی کچھ زیورات ہیں، کیا میں انہیں بیچ کر پچھلی زکوٰۃ ادا کر سکتی ہوں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
۱۔ مفتیٰ بہ قول اگرچہ یہی ہے کہ گزشتہ تمام سالوں کی زکوٰۃ موجودہ قیمتِ فروخت (مارکیٹ ریٹ) کے لحاظ سے ادا کی جائے، تاہم اگر ریٹ زیادہ ہونے کی وجہ سے آپ کو ادائیگی میں شدید تنگی اور حرج ہو رہا ہو، تو دوسرے قول (یعنی ہر سال کی زکوٰۃ اس سال کے دنِ وجوب والی قیمت کے لحاظ سے ادا کرنے) کی بھی گنجائش ہے، آپ اس پر عمل کر سکتی ہیں۔
۲۔ جی ہاں! جتنا عرصہ وہ سونا آپ کی ملکیت میں رہا (مثلاً ۱۲ سال)، ان تمام سالوں کی زکوٰۃ آپ کے ذمے قرض ہے۔ سونا بیچنے سے پچھلے سالوں کا واجب الادا حق ختم نہیں ہوتا، لہٰذا آپ کو ان تمام سالوں کا حساب کر کے زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی۔
۳۔ آپ کا سونا بیچ کر گھر لینے کا فیصلہ شرعی اور انتظامی لحاظ سے درست تھا، کیونکہ گھر "حاجاتِ اصلیہ" میں داخل ہے۔ البتہ زیادہ بہتر یہ تھا کہ آپ فروخت شدہ سونے کی قیمت سے سب سے پہلے اپنے اوپر واجب الادا زکوٰۃ ادا کرتیں اور پھر باقی رقم سے گھر خریدتیں۔ تاہم جو گھر آپ نے خرید لیا ہے اس پر زکوٰۃ نہیں ہے، لیکن اس کی وجہ سے سابقہ سالوں کی زکوٰۃ ساقط نہیں ہوئی، اس کا حساب کر کے آپ کو ادائیگی کرنی ہوگی۔
۴۔ زکوٰۃ صرف خالص سونے کی مقدار پر واجب ہوتی ہے، کیونکہ اسی کی قیمت عام صارف کو سنار سے فروخت کے وقت ملتی ہے، کھوٹ کی قیمت نہیں ملتی۔ (البتہ سنار خود چونکہ کھوٹ کی قیمت لگا کر فروخت کرتا ہے، لہٰذا سنار خود پورے وزن کے حساب سے اپنی زکوٰۃ ادا کرے گا)۔ چنانچہ اگر آپ کے پاس ۳۶ گرام کا سیٹ تھا اور پگھلوانے پر معلوم ہوا کہ اس میں خالص سونا ١۳ گرام ہے اور باقی تانبا یا کوئی اور دھات ہے، تو زکوٰۃ صرف ١۳ گرام پر ہی واجب تھی۔
۵۔ جی ہاں! اگر آپ کے پاس نقد رقم نہیں ہے، تو پچھلے سالوں کی بھاری زکوٰۃ ادا کرنے کا سب سے بہترین طریقہ یہی ہے کہ آپ اپنے موجودہ زیورات میں سے کچھ حصہ بیچ کر وہ رقم ادا کر دیں۔ یہ "حق اللہ" اور "حق العبد" (فقراء کا حق) ہے، جسے ادا کرنا آپ پر فرض ہے۔
حوالہ جات
"الفتاوى الهندية "(1/ 179):
" إذا كان له مائتا قفيز حنطة للتجارة تساوي مائتي درهم فتم الحول ثم زاد السعر أو انتقص فإن أدى من عينها أدى خمسة أقفزة، وإن أدى القيمة تعتبر قيمتها يوم الوجوب؛ لأن الواجب أحدهما ولهذا يجبر المصدق على قبوله وعندهما يوم الأداء. وكذا كل مكيل أو موزون أو معدود".
فتح القدير (2/ 219):
ثم قول أبي حنيفة فيه أنه تعتبر القيمة يوم الوجوب، وعندهما يوم الأداء، والخلاف مبني على أن الواجب عندهما جزء من العين وله ولاية منعها إلى القيمة فتعتبر يوم المنع كما في منع الوديعة وولد المغصوب، وعنده الواجب أحدهما ابتداء ولذا يجبر المصدق على قبولها فيستند إلى وقت ثبوت الخيار وهو وقت الوجوب.
درر الحكام شرح غرر الأحكام : (ص:2،ص: 355)
والخلاف في زكاة المال ،فتعتبر القيمة وقت الأداء في زكاة المال على قولهما، وهو الأظهر. وقال أبو حنيفة: يوم الوجوب كما في البرهان .وقال الكمال: والخلاف مبني على أن الواجب عندهما جزء من العين، وله ولاية منعها إلى القيمة ،فيعتبر يوم المنع كما في منع رد الوديعة ،وعنده الواجب أحدهما ابتداء ،ولذا يجبر المصدق على قبولها.
وما جعل عليكم في الدين من حرج (الحج: 78)
"إذا كانت مقدار الزكاة بناءً على سعر الذهب الحالي مرتفعة لدرجة أن دفعها يتسبب في صعوبة شديدة وضيق، فيجوز دفع الزكاة بناءً على سعر الذهب في السنة التي عليها الزكاة. (فتاوى دار العلوم كراتشي: رقم الفتوى: 24/1665)
بدائع الصنائع:
"إذا كان لرجل مائتا درهم أو عشرون مثقال ذهب فلم يؤد زكوته سنتين يزكي السنة الأولى و كذا هكذا في مال التجارة و كذا في السوائم". (بدائع الصنائع، كتاب الزكوة ۲/ ۷ ط: سعيد) فقط والله أعلم
الدر المختار: (267/2، ط: دار الفکر)
"ليس في دور السكنى وثياب البدن وأثاث المنزل ودواب الركوب... زكاة لأنها مشغولة بالحاجة الأصلية وليست بنامية" (الهداية شرح البداية: 1/ 96)
(وشرطه) أي شرط افتراض أدائها (حولان الحول) وهو في ملكه (وثمنية المال كالدراهم والدنانير) لتعينهما للتجارة بأصل الخلقة فتلزم الزكاة كيفما أمسكهما ولو للنفقة.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
18/10/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


