| 90034 | نکاح کا بیان | نکاح کے منعقد ہونے اور نہ ہونے کی صورتیں |
سوال
میری بیٹی کی شادی پر ایجاب و قبول کے دوران قا ضی صاحب نے میرا یعنی دلہن کے والد کا نام لینا بھول گیا تھا۔ اس سے نکاح پر کوئی اثر تو نہیں پڑتا ؟ شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں تاکہ پریشانی دور ہو۔ برائیڈل روم میں دلہن نے 2 گواہوں اور والد کی موجودگی میں دلہن کو دولہا کا نام لے کر تین بار دلہن نے باخوشی دولہا کو قبول کیا ، دونوں گواہ محرم تھے، دلہن سے باقاعدہ اجازت بھی لی۔ اور حق مہر اور رجسٹر کی کارروائی بھی مکمل کی گئی۔ دونوں گواہ ہال میں موجود تھے، شادی کی کارروائی مائیک پر ہو رہی تھی۔ والد جب اسٹیج پر پہنچا تو قاضی صاحب نے والد سے نکاح شروع کرنے کا پوچھا۔ والد نے قاضی کو اجازت دی۔ قاضی نے پہلے والد سے تین بار قبول کروایا کہ آپ کی بیٹی کو دولہا کا نام لے کر کہ نکاح میں دی جاتی ہے۔ آپ کو قبول ہے؟ والد نے کہا قبول ہے، یہ تین بار کہا۔ پھر قاضی صاحب نے تین بار دلہن اور دولہا کا پورا پورا نام لے کر دولہا سے تین بار قبول کروایا ، اس دوران حق مہر اور روبرو گواہان کا ذکر بھی کیا۔معمول کے مطابق خطبہ اور دعا ہوئی۔ اس دوران جب قاضی نے میری بیٹی کا نام لیا تو اس کے بعد میرا یعنی والد کا نام لینا قاضی بھول گیا۔ آپ سے گزارش ہے کہ تسلی بخش فتویٰ سے نوازیں۔ جزاک اللہ
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
نکاح کے صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ منکوحہ معلوم اور متعین ہو، لہذا مجلسِ نکاح میں بہتر صورت تو یہ ہے کہ منکوحہ کا نام مع ولدیت لیا جائے تاکہ کسی قسم کی جہالت باقی نہ رہے اور ان کی معرفت صحیح طور پر حاصل ہوجائے، لیکن اگر کسی اور قرینہ سے منکوحہ متعین ہوجائے تو بھی نکاح درست ہوجاتا ہے۔
موجودہ صورت میں گواہ محرم ہونے کی وجہ سے پہلے سے لڑکی کو جانتے ہیں، نیز نکاح خواں نے والد سے اس کی بچی کا نکاح کرنے کی اجازت بھی لی تھی، جس سے یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ ان کی ہی بچی ہے اور بچی کا نام تو قاضی نے لیا بھی ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں نکاح بلا کسی تردد کے درست ہے۔
حوالہ جات
رد المحتار ط: الحلبي (3/ 15):
"ومن شرائط الإيجاب والقبول: اتحاد المجلس لو حاضرين،... وأن لا يكون مضافا ولا معلقا كما سيجيء، ولا المنكوحة مجهولة،"
"قلت (العلامة ابن عابدين): وظاهره أنها لو جرت المقدمات على معينة وتميزت عند الشهود أيضا يصح العقد وهي واقعة الفتوى؛ لأن المقصود نفي الجهالة، وذلك حاصل بتعينها عند العاقدين والشهود، وإن لم يصرح باسمها كما إذا كانت إحداهما متزوجة، ويؤيده ما سيأتي من أنها لو كانت غائبة وزوجها وكيلها فإن عرفها الشهود وعلموا أنه أرادها كفى ذكر اسمها، وإلا لا بد من ذكر الأب والجد أيضا، ولا يخفى أن قوله زوجت بنتي وله بنتان أقل إبهاما من قول الوكيل زوجت فاطمة."
رد المحتار ط: الحلبي (3/ 22):
"أشار بقوله فيما مر ولا المنكوحة مجهولة إلى ما ذكره في البحر هنا بقوله: ولا بد من تمييز المنكوحة عند الشاهدين لتنتفي الجهالة، فإن كانت حاضرة منتقبة كفى الإشارة إليها…وكذا إذا وكلت بالتزويج فهو على هذا. اهـ.
أي إن رأوها أو كانت وحدها في البيت يجوز أن يشهدوا عليها بالتوكيل إذا جحدته، وإلا فلا؛ لاحتمال أن الموكل المرأة الأخرى، وليس معناه أنه لا يصح التوكيل بدون ذلك، وأنه يصير العقد عقد فضولي فيصح بالإجارة بعده قولا أو فعلا؛ لما علمته آنفا، فافهم. ثم قال في البحر: وإن كانت غائبة ولم يسمعوا كلامها بأن عقد لها وكيلها فإن كان الشهود يعرفونها، كفى ذكر اسمها إذا علموا أنه أرادها، وإن لم يعرفوها ،لا بد من ذكر اسمها واسم أبيها وجدها. وجوز الخصاف النكاح مطلقا…قال قاضي خان: والخصاف كان كبيرا في العلم يجوز الاقتداء به وذكر الحاكم الشهيد في المنتقى كما قال الخصاف. اهـ.
قلت(العلامة ابن عابدين): في التتارخانية عن المضمرات أن الأول هو الصحيح وعليه الفتوى، وكذا قال في البحر في فصل الوكيل والفضولي أن المختار في المذهب خلاف ما قاله الخصاف، وإن كان الخصاف كبيرا. اهـ...
والحاصل أن الغائبة لا بد من ذكر اسمها واسم أبيها وجدها، وإن كانت معروفة عند الشهود على قول ابن الفضل، وعلى قول غيره يكفي ذكر اسمها إن كانت معروفة عندهم، وإلا فلا، وبه جزم صاحب الهداية في التجنيس وقال: لأن المقصود من التسمية التعريف، وقد حصل، وأقره في الفتح والبحر. وعلى قول الخصاف يكفي مطلقا، ولا يخفى أنه إذا كان الشهود كثيرين لا يلزم معرفة الكل، بل إذا ذكر اسمها وعرفها اثنان منهم كفى، والظاهر أن المراد بالمعرفة أن يعرفها أن المعقود عليها هي فلانة بنت فلان الفلاني لا معرفة شخصها، وإن ذكر الاسم غير شرط، بل المراد الاسم أو ما يعينها مما يقوم مقامه؛ لما في البحر: لو زوجه بنته ولم يسمها وله بنتان لم يصح؛ للجهالة، بخلاف ما إذا كانت له بنت واحدة، إلا إذا سماها بغير اسمها ولم يشر إليها؛ فإنه لا يصح كما في التنجيس. اهـ."
محمد جمال
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
24/شوال /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد جمال بن جان ولی خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


