| 90102 | خرید و فروخت کے احکام | شئیرزاور اسٹاک ایکسچینج کے مسائل |
سوال
زید کے پاس کچھ سرمایہ ہے۔ وہ اسے کاروبار میں لگانا چاہتا ہے ۔خود کاروبار کا تجربہ نہیں اور دیانت دار شراکت دار بھی نہیں ملتا ۔ اگر زید سٹاک مارکیٹ سے کسی حلال کاروبار مثلاً سیمنٹ کے شیئرز خریدے۔ اور ہولڈ کرکے نفع پر فروخت کرے۔ سود کے احتمال کے پیش نظر وہ اس نفع سے سرکار کے رائج الوقت شرح سود کے مطابق رقم منہا کرکے غریبوں میں بانٹ دے۔ تو کیا مذکورہ صورت جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
آپ کو چاہیے کہ KMI30اورKMI100انڈیکس کے تحت جو شریعہ کمپلائینٹ کمپنیاں ہیں صرف ان کےشئیرزخریدیں کیونکہ ان کمپنیوں میں تمام ضروری شرائط کا خیال رکھاجاتاہے ۔تاہم اگر ان کے علاوہ کسی اور کمپنی کے شیئرز لینا مقصود ہو تو شیئرز کی خریدوفروخت کی بنیادی شرائط کوپوراکرناضروری ہوگا،بنیادی شرائط یہ ہیں:
1- اصل کاروبار حلال ہو۔لہذا مروجہ سودی بینک،انشورنس ادارے،شراب بنانے والی کمپنیاں یا ایسے ادارے جن کے کاروبار کی بنیاد سود یا فاسد عقود پر ہو تو ان کے شیئرز کی خرید وفروخت جائز نہیں۔
2- شیئرز کو اس کی فیس ویلیوسےکم یازیادہ بیچنےکےلیےضروری ہےکہ کمپنی صرف نقد پر مشتمل نہ ،ہوبلکہ عمارت یامشینری وغیرہ کی مالک بھی بن چکی ہو۔
3- اگر کمپنی سودی قرضےمیں ملوث ہو تو اس کے شیئرز خریدنے کی اس شرط کے ساتھ گنجائش ہے کہ خریدار کمپنی کو ناجائز اور حرام معاملات سے منع کرنے کا اہتمام کرے۔یہ کامAGM میں آواز اٹھا کر ہوسکتا ہے اور کمپنی کےآفیشل ای میل پر کرکےکیا جا سکتا ہے ۔
4- ایسی کمپنی جس کی کچھ حرام آمدن بھی ہو تو اس کا حساب کرکےحاصل شدہ نفع سے متناسب رقم صدقہ کرناہوگی۔
-5 ایک شرط یہ بھی ہے کہ شئیر ہولڈر ان شئیرز پرقبضہ کرے، پھر فروخت کرے ۔ دوسرےالفاظ میں اسٹاک ایکسچینج میں ڈے ٹریڈنگ (ایک دن شیئرز خرید کر اسی دن بیچنا) جائزنہیں ۔لہذا جب تک CDCکی جانب سے شیئرز کی منتقلی کامیسج نہ آئےخریدےگئےشیئرز کو بیچنا درست نہ ہوگا۔
حوالہ جات
المعايير الشرعية ، (ص:568):
المساھمة او التعامل (الاستثمار أو المتاجرة) فی أسھم شرکات، أصل نشاطھا حلال ولکنھا تودع أو تقترض بفائدة.
الأصل حرمة الساھمة والتعامل(الاستثمار أو المتاجرة) فی أسھم شرکات تتعامل أحیانا بالربا أو نحوہ من المحرمات مع کون أصل نشاطھامباحا ویستثنی من ھذا الحکم المساھمة أو التعامل بالشروط الآتیة:
أن لا تنص الشرکة فی نظامھا الأساسی أن من أھدافھا التعامل بالربا أو التعامل بالمحرمات کالخنزیر و نحوہ.
أن لایبلغ إجمالی المبلغ المقترض بالربا سواء، أکان قرضا ،طویل الأجل أم قرضا قصیر الأجل۳۰٪ من القیمة السوقیة لمجموع أسھم الشرکة ،علما بأن الاقتراض بالربا حرام،مھما کان مبلغہ.
أن لایبلغ إجمالی المبلغ المودع بالربا،سواء أکانت مدة الإیداع قصیرة أو متوسطة أو طویلة ۳۰٪ من القیمة السوقیة لمجموع أسھم الشرکة علما بأن الإیداع بالربا حرام ،مھما کان مبلغہ.
رشيدخان
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
02/ذوالقعدہ /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | رشید خان بن جلات خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


