03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دوبیویوں ،چاربیٹوں اور دوبیٹیوں کے درمیان وراثت کی تقسیم
90272میراث کے مسائلمناسخہ کے احکام

سوال

حاجی اکرم خان متوفی کا ترکہ تقسیم طلب ہے۔ان کے ورثہ کی تفصیل درج ذیل ہے: مرحوم کی دو بیویاں تھیں۔ پہلی بیوی بہرام خیلہ  جو ان کی وفات کے بعد فوت ہو چکی تھیں۔ اس بیوی سے تین اولاد ہیں :دو بیٹے اقبال خان اور سید بادشاہ، اور ایک بیٹی خورشید بیگم، تینوں حیات ہیں۔دوسری بیوی صباگلہ  ہیں اور ان سے بھی تین اولاد ہیں :دو بیٹے رحیم گل اور عرفان اللہ اور ایک بیٹی ناہیدہ بی بی، یہ تینوں اپنی والدہ سمیت حیات ہیں۔مرحوم نے اپنے پیچھے کل 200 کنال زمین بطور ترکہ چھوڑی ہے۔مندرجہ ذیل  سوالات کے جوابات مطلوب ہیں :

۱۔ شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں مذکورہ 200 کنال جائیداد تمام ورثہ میں کس طرح تقسیم ہوگی؟ ہر وارث کا متعین حصہ (کنال یا فیصد کے حساب سے) واضح فرما دیں۔

۲۔   میراث میں کسی وارث کو (بالخصوص بہنوں کو) اس کے شرعی حق سے محروم کرنے، اس کا حق ادا نہ کرنے، یا بغیر کسی شرعی عذر کے اس کی ادائیگی میں تاخیر کرنے کی شرعی حیثیت کیا ہے اور اس پر کیا وعیدیں وارد ہوئی ہیں؟بالخصوص جبکہ بعض علاقوں میں بہنوں کو حقِ میراث سے محروم کرنے کا رواج پایا جاتا ہے۔

۳۔والد کے انتقال کے بعد تمام ترکہ مشترکہ طور پر ورثہ میں تقسیم سے قبل بعض بھائیوں کے زیرِ استعمال رہا ہے اور اس سے مختلف صورتوں میں نفع بھی حاصل کیا جاتا رہا ہے، تو اس صورت میں اس مشترکہ ترکہ کے استعمال، تصرف اور اس سے حاصل شدہ نفع کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

      مرحوم اکرم خان نے  انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں  جو منقولہ وغیرمنقولہ مال وجائیداد اورسازوسامان چھوڑا ہے یاکسی کےاوپرمرحوم کاقرض تھا ،  یہ سب ترکہ ہے۔ اس میں سےسب سے پہلے مرحوم کی تجہیز و تکفین كےمتوسط اخراجات اداكیے جائیں گے، بشرطیکہ کسی نے اپنی طرف سے تبرعًا ادا نہ کیے ہوں ۔  پھر اگر مرحوم کے ذمہ کسی کا قرض واجب الادا ء ہو تو اس کو ادا کیاجائے گا۔  پھر اگر مرحوم نے کسی غیر وارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی  ہوتو  بقیہ  مال  میں سے ایک تہائی (3/1)  تک ادا کیا جائےگا۔ اس کے بعد جو کچھ بچ جائے  اس میں سے مرحوم شوہرکی دو نوں بیویوں  کو موجودہ ترکہ 12.5،یعنی ہر ایک کو 6.25% حصہ ملے گا اور مرحوم کی  مذکر اولاد (دونوں بیویوں سے) میں سےہر ایک بیٹے کو 17.5%  اور ہر ایک بیٹی کو 8.75% ملے گا۔

البتہ جو  بیوی (بہرام خیلہ) فوت ہو چکی ہے اس کاترکہ اس کی حقیقی اولاد  میں تقسیم کیا جائے گا ،جس کی صورت یہ ہو گی،کہ مرحومہ کے ہر ایک بیٹے کو  2.5% اوربیٹی کو  1.25% ملے گا ۔

سب سے پہلے میت الف (اکرم خان ) کے ورثہ کو درج ذیل نقشہ کےمطابق  حصہ ملے گا  ۔

نمبرشمار

ورثہ

عددی حصہ

فیصدی حصہ

1

 بیوی (بہرام خیلہ  )

5

6.25%

2

 بیوی (صباگلہ)

5

6.25%

3

بیٹا اول

14

17.5%

4

بیٹاثانی  

14

17.5%

5

بیٹا ثالث

14

17.5%

6

بیٹا رابع

14

17.5%

7

بیٹی اول

7

8.75%

8

بیٹی  ثانی

7

8.75%

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

اس کے بعد  مرحومہ بیوی (بہرام خیلہ  )کےترکہ سے اس کے  ورثہ  کودرج ذیل نقشہ کے مطابق  حصہ ملے گا۔

نمبر شمار

ورثہ

عددی حصہ

فیصدی حصہ

1

بیٹا اول

2

2.5%

2

بیٹا دوم

2

2.5%

3

بیٹی

1

1.25%

 

کل مجموعہ

80

100%

 

 

 

 

 

 

 

۲۔وراثت  میں سے  بہنوں  کے حق کو دبانا   بہت بڑا گناہ ہے اور اکل بالباطل یعنی حرام خوری ہے۔ نیزجنت سے محرومی کا سبب بھی ہے ،چناچہ  سنن ابن ماجہ کی ایک روایت ہے جس میں  حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" جو شخص اپنے وارث کی  میراث کا حصہ نہیں دے گا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی جنت کی میراث کاٹ لے گا(یعنی اسے جنت سے محروم کردے گا)۔‘‘ لہذا  بھائیوں کو چاہیے  کہ جلد سے جلد ترکہ کو ورثہ کے درمیان   اوپر لکھے گئےشرعی حصص کے مطابق تقسیم کریں ۔

۳۔  جن بھائیوں  نے جتنا عرصہ باقی ورثہ  کی ملکیت سے نفع حاصل کیا ہے ، اس کا اخلاقی تقاضا یہ ہے کہ وہ ورثہ کے ساتھ احسان والا معاملہ کریں،ان کو بطور تلافی اپنی سہولت کے مطابق  کچھ نہ کچھ ادائیگی کریں ۔

حوالہ جات

سورۃ النساء :رقم الاٰیۃ ،12

﴿ يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ﴾ ۔۔۔۔۔۔ وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ ﴾ 

سورۃ البقرۃ :رقم الاٰیۃ،188

﴿وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الْحُكَّامِ لِتَأْكُلُوا فَرِيقًا مِنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالْإِثْمِ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ (188)﴾ وقال  اللہ تعالی فی مقام آخر:ومن يعص الله ورسوله ويتعد حدوده يدخله ناراً خالدًا فيها وله عذاب مهين ۔

سنن ابن ماجة:رقم الحدیث،2703 -

عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من فر من ميراث وارثه، قطع الله ‌ميراثه ‌من ‌الجنة يوم القيامة»

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام:1/290

(المادة 597) لا يلزم ضمان المنفعة في مال استعمل بتأويل ملك، ولو كان معدا للاستغلال. مثلا لو تصرف مدة أحد الشركاء في المال المشترك بدون إذن شريكه مستقلا، فليس للشريك الآخر أخذ أجرة حصته؛ لأنه استعمله على أنه ملكه. لا يلزم ضمان المنفعة في مال استعمل أو عطل بتأويل، وليس فيه مال موقوف أو مال لصغير، بل كان جميعه ملكا انظر المادة (1075) ؛ لأن المتصرف لما كان تصرفه فيه على أنه ملكه، فلا يكون راضيا بالأجرة، وإن كان مما هو معد للاستغلال. ويستفاد مما من التوضيح أن تأويل الملك إنما يجري في الملك، أما في الوقف وملك الصغير، فلا يجري فيهما ذلك. وكذلك المادة (596) يستفاد منها هذا الأمر (الدر المختار) .مسائل تتفرع عن ذلك.أولا: ‌مثلا ‌لو ‌تصرف ‌أحد ‌الشركاء ‌تغلبا ‌في ‌المال ‌المشترك ‌كالدار ‌والحانوت ‌مدة ‌بدون ‌إذن ‌شريكه مستقلا واستعمله بنفسه، فليس للشريك الآخر أخذ أجرة حصته۔۔۔الخ

حنبل اکرم

  دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

    15  /ذوالقعدہ /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حنبل اکرم بن محمد اکرم

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب